صدر آصف علی زرداری چین کے اپنے 10 روزہ سرکاری دورے کا آغاز کرنے کے لیے جمعہ 12 ستمبر 2025 کو چینگڈو پہنچے جہاں وہ علاقائی امن اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) سمیت مختلف امور پر چینی قیادت سے ملاقاتیں کی -بات چیت میں دو طرفہ تعلقات شامل ہوں گے، خاص طور پر اقتصادی اور تجارتی تعاون، CPEC اور مستقبل کے رابطے کے اقدامات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ دونوں فریقین کثیرالجہتی فورمز پر دوطرفہ تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا-صدر آصف علی زرداری کے موجودہ 10 روزہ دورہ چین (ستمبر 2025) کو پاکستان کے لیے سفارتی، معاشی اور تزویراتی اعتبار سے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ ان کا صدر منتخب ہونے کے بعد چین کا پہلا طویل سرکاری دورہ ہے۔
صدر آصف علی زرداری کے چین دورے کے اہم پہلو
1. معاشی فوائد اور سرمایہ کاری
سی پیک (CPEC) فیز-II پر چین کے ساتھ نئی پیش رفت:
خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) میں سرمایہ کاری بڑھانے کا معاہدہ۔
انفراسٹرکچر، انرجی، اور صنعتی منصوبوں پر اتفاق۔
چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے:
زراعت (Hybrid seeds, modern farming) میں تعاون۔
ٹیکسٹائل اور آئی ٹی انڈسٹری میں سرمایہ کاری۔
پاکستان کو چینی بینکوں سے رعایتی قرضوں اور مالی پیکج کی یقین دہانی۔
تجارتی تعلقات
پاکستان اور چین نے دو طرفہ تجارت کو 50 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانے کا ہدف رکھا۔
پاکستانی چاول، حلال گوشت، اور معدنیات کی چینی منڈیوں تک براہِ راست رسائی کا معاہدہ۔
زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے “سینیٹری اور فائیٹو سینٹری” معاہدے
توانائی اور معدنیات
چین پاکستان میں Renewable Energy Projects (سولر، ونڈ اور ہائیڈرو) لگائے گا۔
تھر کول منصوبوں میں چین کی مزید سرمایہ کاری۔
بلوچستان اور گلگت بلتستان میں معدنیات (Rare Earth, Copper, Lithium) کی تلاش و ترقی کے معاہدے۔
ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت
Huawei، ZTE اور دیگر چینی کمپنیوں کے ساتھ 5G، Artificial Intelligence اور Cloud Computing میں تعاون۔
پاکستان میں چینی IT پارکس قائم کرنے پر اتفاق۔
E-commerce اور Fintech کے شعبوں میں شراکت داری۔
دفاعی اور تزویراتی تعاون
پاک فضائیہ کے لیے JF-17 تھنڈر بلاک-IV اور ڈرون ٹیکنالوجی پر بات چیت۔
نیول تعاون: گوادر اور کراچی بندرگاہ پر مشترکہ منصوبے۔
سائبر سیکیورٹی اور دفاعی تربیت میں تعاون۔
تعلیم اور انسانی وسائل
پاکستانی طلبہ کے لیے 5,000 نئی اسکالرشپس کا اعلان۔
پاکستانی نوجوانوں کے لیے چینی یونیورسٹیوں اور کمپنیوں میں ٹریننگ پروگرامز۔
زرعی اور ٹیکنالوجی ریسرچ میں جوائنٹ سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ۔
پاکستان کو چین سے سرمایہ کاری، قرضہ ریلیف اور تجارتی مواقع میں براہِ راست فائدہ ہوگا۔
سی پیک فیز-II کے تحت صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
توانائی بحران کم کرنے میں مدد ملے گی (Renewable + Coal projects)۔
ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کو نئی راہیں ملیں گی۔
دفاعی تعاون سے پاکستان کی فوجی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔
صدر نے اس عزم کا اظہار اعلیٰ چینی ایرو اسپیس اور دفاعی گروپ، سرکاری ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا (AVIC) کے دورے کے دوران کیا، جو J-10C طیارہ تیار کرتا ہے۔ دورے کے دوران صدر زرداری نے کمپنی کے انجینئرز اور سائنسدانوں سے ملاقات کی اور چینی ساختہ طیاروں کی صلاحیتوں کی تعریف کی، جس کا ان کے بقول حالیہ مارکہ حق کے دوران بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔
صدر آصف زرداری کا یہ 10 روزہ دورہ چین پاکستان کو معاشی استحکام، تجارتی مواقع، توانائی منصوبوں، ٹیکنالوجی تعاون اور دفاعی شراکت داری کے لحاظ سے طویل المدتی فائدے دے گا۔ یہ دورہ پاکستان–چین اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کو مزید گہرا کرنے والا سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔
صدر آصف زرداری کے اس دورے میں معیشت، تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، دفاع اور تعلیم کے شعبوں میں بڑے معاہدے ہوئے، جن سے پاکستان کو طویل المدتی معاشی اور اسٹریٹیجک فائدے حاصل ہوں گے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں