امبیڈکر اور محکوم طبقات کی سیاسی نمائندگی/ ابھے کمار

ان دنوں بہار اسمبلی انتخابات کی تیاریاں زوروں پر ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دلتوں، آدیواسیوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور دیگر محروم برادریوں کی نمائندگی اور حصہ داری کا سوال مین اسٹریم میڈیا سے تقریباً غائب ہے۔ اس پس منظر میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے ٢٧ جنوری ١٩١٩ کو ساؤتھ بورو کمیشن کے سامنے دیے گئے بیانات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ برطانوی حکومت کی تشکیل کردہ یہ کمیشن ہندوستان میں انتخابی اصلاحات کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے بنایا گیا تھا اور اس کی صدارت لارڈ ساؤتھ بورو کے سپرد تھی۔ ووٹ کے حق اور سیاسی نمائندگی کے سوال پر اس کمیٹی نے مختلف حلقوں سے رائے طلب کی تھی۔ کمیشن کے روبرو اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے، ڈاکٹر امبیڈکر نے کہا تھا کہ “عوامی حکومت کا مطلب صرف عوام کے لیے حکومت نہیں ہے، بلکہ عوام کی اپنی حکومت بھی ہے” (امبیڈکر، رائٹنگز اینڈ اسپیچز، جلد ۱، ٢٠٢٠، صفحہ ۲۴۷)۔ اُس وقت جب وہ ساؤتھ بورو کمیشن کے سامنے گواہی دے رہے تھے، ووٹ کا حق سب کے لیے عام نہیں تھا۔ جائیداد اور تعلیم کی بنیاد پر صرف چند لوگوں کو ہی ووٹ دینے کا خصوصی حق حاصل تھا۔ دلت اقتصادی، سماجی اور تعلیمی طور پر نہایت پسماندہ تھے، اس لیے بڑی آبادی ہونے کے باوجود ووٹروں میں ان کی شمولیت نہایت محدود تھی۔

ڈاکٹر امبیڈکر ان تمام مشکلات کو گہرائی سے سمجھتے تھے، اسی لیے انہوں نے کمیشن کے سامنے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی انتخابی اصلاح اور عوامی حکومت کی تشکیل تب تک بامعنی نہیں ہو سکتی جب تک دلتوں اور محروم برادریوں کو مناسب نمائندگی نہ دی جائے۔ ان کا یقین تھا کہ جب محروم طبقات کو نمائندگی ملے گی تب وہ قانون سازی سے لے کر پالیسی بنانے اور اس پر عمل درآمد تک کے پورے عمل میں سرگرم ہوں گے اور اپنی برادری کی بھلائی کے لیے حقیقی معنوں میں کام کر سکیں گے۔ جمہوریت پر ڈاکٹر امبیڈکر کا گہرا ایمان تھا، کیونکہ ان کے نزدیک جمہوری عمل ہی سماج میں موجود غیر برابری کو پُرامن طریقے سے ختم کر سکتا ہے اور حاشیے پر دھکیلے گئے طبقات کو ان کا جائز حق دلا سکتا ہے۔ لیکن وہ اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ تھے کہ ذات پات پر مبنی بھارتی سماجی ڈھانچے میں جمہوریت کو کامیاب بنانا ایک کڑا امتحان ہے۔ اگرچہ آئین اور قانون ہر شہری کو برابر کے حقوق اور ووٹ دینے کا حق فراہم کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں ذات برادری، معاشی ناہمواری اور صنفی عدم مساوات بدستور موجود ہیں۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے سماجی غیر برابری کی اس تلخ حقیقت کو کمیشن کے سامنے نہایت وضاحت کے ساتھ پیش کیا اور دوٹوک انداز میں کہا کہ دلت سماج کی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ چھوت چھات کی سماجی برائی ہے، جو انہیں شہری حقوق سے محروم رکھنے کا بنیادی سبب ہے۔ یہی نہیں، دلتوں کی اقتصادی پسماندگی اور سماجی بائیکاٹ کی جڑ بھی یہی چھوت چھات ہے۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دلتوں سے کاروبار کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی دلت مہار عورت تربوز بیچتی ہوئی پائی گئی تو اسے گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چھوت چھات کی وجہ سے سماج میں میل جول ناممکن ہو جاتا ہے اور دلتوں اور غیر دلتوں کے درمیان گہری خلیج قائم رہتی ہے۔ بابا صاحب نے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ بھارت میں کاموں کی تقسیم بھی ذات برادری کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ بمبئی پریزیڈنسی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کی کپڑوں کی ملوں میں دلتوں کو بُناٸی کے شعبے سے الگ رکھا جاتا تھا، اور اگر کوئی دلت کپڑا بُنتے ہوئے پکڑا جاتا تو اس کی پٹائی کی جاتی تھی۔ ذات پر مبنی سماج کو یہ قبول ہی نہیں تھا کہ کوئی “اچھوت” بُناٸی کا کام کرے۔ ان تمام نکات کو رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کمیشن کو یہ سمجھا سکیں کہ بھارت کا ذات پات پر مبنی سماج نہ صرف ذات دیکھ کر ووٹ دیتا ہے، بلکہ ذات دیکھ کر ہی پالیسی بھی بناتا ہے، اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بالادست ذاتوں کی اجارہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح کہا کہ وہ دلتوں کے مفادات کی حفاظت نہیں کر سکتیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر امبیڈکر نے کمیشن کے سامنے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اچھوتوں کی نمائندگی صرف اچھوت ہی کر سکتے ہیں، کیونکہ بالادست ذاتیں ان کے اصل مفاد کی نگہبانی نہیں کر سکتیں اور حقیقت میں کوئی دوسرا ان کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتا۔

یاد رہے کہ بابا صاحب کی سیاسی بصیرت کے پیچھے ان کا اور ان کے سماج کا بھگتا ہوا گہرا درد تھا۔ اس کے ساتھ وہ قومی تحریک کو بھی قریب سے دیکھ رہے تھے اور انہیں افسوس تھا کہ کئی قومی تحریک کے رہنما خود کو سیاسی معاملات میں “انقلابی” کے طور پر پیش کرتے تھے، لیکن جب بات سماجی اصلاح اور سماجی انصاف کی آتی تو وہ قدامت پسند رویہ اختیار کر لیتے تھے۔ اسی مضبوط سیاسی بصیرت کی وجہ سے ڈاکٹر امبیڈکر نے کمیشن کے سامنے صاف الفاظ میں کہا کہ “صرف ووٹ دینے والا ہونا کافی نہیں ہے، قانون بنانے والا ہونا بھی ضروری ہے۔ ورنہ قانون بنانے والے ان لوگوں کے مالک بن جائیں گے، جو صرف ووٹ دینے والے ہوں گے” (ص ۲۵۱)۔ امبیڈکر کی یہی سیاسی سوچ آگے چل کر بہوجن سماج پارٹی کی تحریک میں بھی جھلکتی ہے، جس نے یہ نعرہ دیا تھا تھا کہ “ووٹ ہمارا، راج تمہارا، نہیں چلے گا، نہیں چلے گا”۔ ڈاکٹر امبیڈکر کی سب سے بڑی علمی خدمت یہ تھی کہ انہوں نے جمہوریت کی کامیابی، شہریت کے حقوق اور انتخابی عمل کو محروم سماج کی شمولیت سے جوڑ کر دیکھا۔ جہاں قومی تحریک کے اعلیٰ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے رہنما انگریزوں سے ہندوستانیوں کے لیے آزادی مانگ رہے تھے، وہیں ڈاکٹر امبیڈکر نے یہ اہم سوال اٹھایا کہ آزادی پانا تو اچھی بات ہے، لیکن جب ہندوستانیوں کے ہاتھ میں اقتدار آئے گا تو اس میں دلتوں اور دیگر محروم طبقات کو کتنی شمولیت ملے گی؟

ڈاکٹر امبیڈکر کے ان سوالات کو طاقتور حلقوں نے نظرانداز کیا اور ان پر سماج کو تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا۔ ہندوستانی سیاست میں آج بھی صورتِ حال زیادہ مختلف نہیں۔ اقلیتوں کی نمائندگی اور ان کی سیاسی شمولیت کا مطالبہ کرنے والوں کو اکثر “شدت پسند” اور “فرقہ پرست” قرار دے کر بدنام کیا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ کیفیت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ سیکولر جماعتوں نے بھی یہ سوچ اختیار کر لی ہے کہ اقلیتوں کے لیے کچھ خاص کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کے پاس کوئی حقیقی متبادل نہیں اور وہ بالآخر انہی کو ووٹ دینے پر مجبور ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج اقلیتوں کے سامنے کوئی واضح سیاسی متبادل موجود نہیں۔ انہیں محض ایک خاموش ووٹ بینک تصور کیا جا رہا ہے اور اقلیتی سماج کے فعال رہنماؤں کو ہر سطح پر پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے۔ یہ سب ملک کی جمہوریت کے لیے ایک نہایت سنگین چیلنج ہے، اور اس چیلنج سے آنکھیں چرانا کسی طور ممکن نہیں ہے۔ محکوم طبقات کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد خود کرنی ہوگی، اور یہی پیغام ڈاکٹر امبیڈکر نے اپنی پوری زندگی دیا تھا۔

Facebook Comments

ابھے کمار
ابھے کمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ان کی دلچسپی ہندوستانی مسلمان اور سماجی انصاف میں ہے۔ آپ کی دیگر تحریرabhaykumar.org پر پڑھ سکتے ہیں۔ ان کو آپ اپنے خط اور اپنی رائے debatingissues@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply