قطر پر اسرائیلی جارحیت نے عربوں کے امریکہ پر اندھے اعتماد کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔ قطر اور سعودی عرب کی امریکہ میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی قطر پر اسرائیلی جارحیت کی روک تھام کرنے میں مدد گار ثابت نہ ہوئی۔ امریکی پشت پناہی پر قائم منہ زور اسرائیلی طاقت مشرق وسطیٰ کے ممالک کی سلامتی اورامن کے لئے بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ مگر عرب ممالک اپنی قوت کے بل بوتے پر اسرائیلی جارحانہ فوجی قوت کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ قطر، متحدہ امارات، سعودیہ اور تیل کی دولت سے مالا مال دیگر عرب ممالک امریکی دفاعی چھتری کا سہرا لینے پر مجبور ہیں۔ مگر قطر پر اسرائیلی جارحیت کے بعد عربوں کا دفاع کے لئے صرف امریکہ پر اندھا اعتماد اور انحصار کرنا بہت بڑی غلطی تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ عربوں کو امریکی سیکورٹی گارنٹی ایران کے خلاف ہے نہ کہ اسرائیل کی جارحیت سے تحفظ کے لئے۔ قطر پر اسرائیلی جارحیت کے بعد حالیہ پاک سعودیہ سٹریٹجک دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ میں ابھرتی نئی سوچ اور متبادل دفاعی حکمت عملی کی طرف اشارہ ہے۔ دفاعی معاملات میں امریکہ پر مکمل بھروسہ کرنے والے عرب ممالک اب متبادل دفاعی آپشن پر غور کرنے کے لئے مجبور ہو رہے ہیں۔ یاد رہے چند ماہ قبل چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کانفرنس نے امریکہ کی واحد سپر پاور ہونے کی حثیت کو چیلنج کیا تھا۔ اب عرب ممالک کا امریکہ پر مکمل انحصار نہ کرنے کی دفاعی حکمت عملی پر غور کرنے کو عالمی معاملات پر کمزور پڑتی ہوئی امریکی گرفت سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔پاک سعودیہ سٹریٹجک دفاعی معاہدہ اس سلسلہ کی ایک کڑی کہی جا سکتی ہے۔

پاک سعودیہ سٹریٹجک دفاعی معاہدہ کو ملٹی پولر ورلڈ آرڈر کی طرف بڑھتا ہوا اہم قدم کہا جا سکتا ہے۔ دفاعی معاہدہ پر عملدرآمد کی عملی اشکال وقت گذرنے کے ساتھ سامنے آئیں گی، مگر اس کی علامتی اہمیت اپنی جگہ بہت اہم ہے۔ مشرق وسطیٰ کی ایک بڑی مالیاتی طاقت اور جنوبی ایشیاء کی ایک بڑی فوجی نیوکلیئر طاقت کے درمیان سٹریٹجک دفاعی معاہدہ سے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کی نئی جہت سامنے آ رہی ہے۔ اس دفاعی معاہدہ میں دیگر ممالک کی شمولیت کو پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے مسترد نہیں کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دیگر ممالک بھی اس جیسے معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کو ٹیلی فونک گفتگو میں پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعلی نے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے پاک سعودی معاہدہ پر مبارکباد کا پیغام دیا ہے۔ قبل ازیں قطر میں منعقدہ عرب اسلامی کانفرنس میں پاکستان نے اسرائیل کے خلاف مشترکہ ٹاسک فورس قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ جس کی ابتدا پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ کی شکل میں سامنے آ چکی ہے۔
مجوزہ ٹاسک فورس یا دفاعی معاہدہ میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، ایران اور مصر کی شمولیت ؟
یہ ابہام دور ہو جانا چاہئے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ سعودیہ کے روائتی حریف ایران کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے، یا بھارت کو اس سے براہ راست کوئی خطرہ درپیش ہوگا۔ یہ معاہدہ اپنے جوہر میں اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور امریکہ پر دفاعی انحصار کم کرنے کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا نا چاہئے۔ اس معاہدے کو پاکستان بھارت کشیدگی کے تناظر میں دیکھنا مناسب نہیں ہو گا۔ پاکستان کی حکمت عملی ہو گی کہ اس معاہدے کو خطے کے دیگر ممالک تک توسیع دی جائے۔ اس سلسلہ میں فوجی قوت کے لحاظ سے ترکیہ، ایران اور مصر زیادہ اہم ہیں۔ چند ماہ قبل اسرائیلی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر ایران نے اپنی فوجی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ ترکیہ اور مصر کی مسلح افواج خطے میں اپنی مہارت اورصلاحیت کی الگ شناخت رکھتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے چھوٹے ممالک بھی اس دفاعی چھتری کے نیچے تحفظ محسوس کریں گئے۔
ترکیہ اور ایران کی عربوں سے روائتی مخاصمت۔
کہا جا تا ہے کہ ترکیہ اور ایران کی عرب ممالک کے ساتھ تاریخی اور روائتی مخاصمت مشرق وسطیٰ میں مجوزہ مشترکہ ٹاسک فورس یا فوجی اتحاد قائم کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ مگر حالات کے جبر سے ترکیہ، ایران اور عربوں میں خیالات کے نئے زاویے ابھر رہے ہیں۔سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلیمان کا امریکہ کے علاوہ چین، روس، ترکیہ اور ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کو خطے میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ تمامتر تاریخی اختلافات کے باوجود سعودی عرب، مصر، ترکیہ اور ایران کو اسرائیل مخالف اتحاد میں یکجا کرنا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ لبنان، شام، یمن وغیرہ میں ایرانی پراکسی تنظیمیں جن سے سعودیہ اور دیگر عرب ممالک خطرہ محسوس کرتے تھے، وہ تقریبا اپنا اثر کھو چکی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بدلتے ہوئے منظر نامے کے پیش نظر ایران اپنی پراکسیوں کی حمائت جاری رکھنے کی حکمت عملی پر غور کر سکتا ہے۔ ماضی کی تلخیوں کو بھلاتے ہوئے گزشتہ چند سالوں سے سعودی عرب اور ایران تعلقات کے نئے دور کا آغاز کر چکے ہیں۔ یاد رہے ایران اور سعودی عرب کو قریب لانے میں چین نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اگر ترکیہ اور ایران مجوزہ ٹاسک فورس میں باضابطہ شامل نہیں ہوتے تو پھر بھی انکے کسی نہ کسی سطح پر پاکستان اور سعودیہ سے تعاون جاری رکھنے کے روشن امکانات ہیں۔ چھ خلیجی ریاستیں اور مصر بخوشی اتحاد کا حصہ بننا چاہیں گئے۔ مگر اسرائیل کے توسیع پسندانہ گریٹر اسرائیل کے عزائم کے آگے بندھ باندھنے کے لئے ترکی اور ایران کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے۔
پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ پر بھارتی رد عمل؟
پاک سعودی دفاعی معاہدہ پر بھارت نے محتاط رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ایشیاء میں چین کے بعد بھارت سعودی عرب کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر وغیرہ میں لاکھوں کی تعداد میں بھارتی شہری بر سر روزگار ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بھارتی محنت کش ہر سال اربوں ڈالر ترسیلات اپنے ملک بھیجتے ہیں۔ مڈل ایسٹ میں اووسیز بھارتی اپنے ملک میں زرمبادلہ بھیجنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کی بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کم اہمیت نہیں رکھتی۔ اس لئے بھارت عرب ممالک کے ساتھ اپنے معاشی مفادات خطرے میں ڈالنے سے پرہیز کرے گا۔ سعودی عرب بھی بھارت کے ساتھ معاشی و سفارتی تعلقات میں بگاڑ پیدا نہیں کرنا چاہے گا۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلیمان دفاعی معاہدہ پر بھارت کے تحفظات دور کر سکتے ہیں اور معاہدہ کی وجہ سے بھارت سعودیہ تعلقات متاثر ہونے کے بہت کم امکانات ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد کی بیک ڈور ڈپلومیسی سے پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کے میز پر لانا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں موثر کردار ادا کرنے کے لئے پاکستان کو بھی بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لئے کاوشیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی سفارتی میدان میں کامیابی ایک وقتی عمل ثابت ہو گا اگر پاکستان کے حکمرانوں نے اقتصادی ترقی کی طرف ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے۔ ہمسایہ ممالک بشمول انڈیا کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے بغیر امن اور معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ آج کی صورت حال میں پاکستان اور بھارت کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں سعودی عرب اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں۔ اس لئے پاکستان کے فیصلہ سازوں کو اس معاملہ پر سنجیدگی سے غوروفکر کرنے کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔
پاک سعودی دفاعی معاہدہ اور چین اور روس کا کردار۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جارحانہ اور ناقابل اعتبار پالیسیوں نے دنیا بھر میں امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ چین، بھارت، یورپ، کینیڈا کے علاوہ دنیا کے اکثر چھوٹے بڑے ممالک صدر ٹرمپ کی تجارتی ٹیکس اور جارحانہ خارجہ پالیسی سے بے زار اور پریشان نظر آتے ہیں۔ چند ماہ قبل چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کانفرنس میں چین، روس، انڈیا، پاکستان، ایران، ترکی کے ساتھ بیس ممالک نے عالمی منظر پر امریکی اجارہ داری کو چیلنج کر دیا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی سربراہی میں تشکیل پانے والا ورلڈ آرڈر بتدریج روبہ زوال ہے۔ گلوبل ساوتھ سے ابھرنے والی معاشی طاقتیں امریکی اجارہ داری کو جھٹکے دی رہی ہیں اورنئے ملٹی پولر ورلڈ آرڈر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں سے عالمی سطح پر پیدا ہونے والے خلاء کو چین بڑی مہارت سے پر کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی معاشی قوم پرستی نے چین کو کھیلنے کے لئے دنیا میں وسیع ڈپلومیٹک میدان فراہم کر دیا ہے۔ تیزی سے تبدیل ہوتے عالمی منظر نامے میں پاک سعودیہ دفاعی معاہدے کی شکل میں ابھرتے ہوئے فوجی اتحاد کو چین اور روس کی تائید و حمائت حاصل کرنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ملٹی پولر ورلڈ آرڈر کے تشکیلی عمل سے گزرتے عالمی منظر میں پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
پاکستان کے لئے پاک سعودیہ سٹریٹجک دفاعی معاہدہ کی اہمیت۔
ان حالات میں پاکستان کی معاشی بحالی اور ترقی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ سیاسی عدم استحکام، بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی ملک کو درپیش بڑے چیلنج ہیں۔ سعودی عرب سے قربت پاکستان کو عرب ممالک سے تجارت، سرمایہ کاری، مین پاور ایکسپورٹ اور معاشی تعلقات کو وسعت دینے کے سنہری مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھی سعودی تعاون کا اہم کردار ہو سکتا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں کشیدگی کے تناظر میں سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان کی خدمات سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جس سے پاکستان کے بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی طرف قدم بڑھاے جا سکتے ہیں۔ وقت بتائے گا کہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ سعودی عرب کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کو ملک کی معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لئے بروئے کار لاتی ہے یا پھر اپنے طبقاتی مفادات کے تابع سب ہوا برد ہو جائے گا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں