میرا پیارا اسلامی جمہوریہ پاکستان (2)-مرزا مدثر نواز

یومِ پیدائش ہی سے پاکستان اپنے جڑواں پڑوسی کے ساتھ دائمی رقابت کے رشتے میں منسلک چلا آ رہا ہے۔ جن میدانوں میں اپنے حریف پر ہمیں واضح برتری حاصل رہی ہے وہ تین ہیں:
ایک یہ کہ:۔ انہوں نے تو اپنے پہلے اور اکلوتے وزیر اعظم ہی کو لال و جواہر سمجھ کر برسوں سینے سے لگائے رکھا لیکن ہم نے اسی عرصے میں سات آٹھ وزیر اعظم پیدا کر ڈالے (یہ پیداواری ریٹ ترقی یافتہ ممالک سے بھی زیادہ ہے)‘ بعض ممالک تو اپنی سو سالہ تاریخ میں بھی اتنے وزیر اعظم پیدا نہ کر سکے‘ ہمارے ہاں اللہ تعالی کا خاص فضل ہے کہ ہمارا ہر شہری اپنے آپ کو وزارتِ عظمیٰ کا اہل سمجھتا ہے اور دوسرے ہر شہری کو نا اہل!
دوسرا یہ کہ:۔ ان کے وزیر اعظم صرف سیاست کی کیاری سے پیدا ہوتے رہے جبکہ ہمارا پورا چمنستان وزیر اعظموں اور سربراہوں سے مہکتا رہا ہے۔ کوئی وزیر اعظم سول سروس سے آیا اور کوئی سازش سے‘ کوئی سربراہ سیاست کے پچھواڑے سے داخل ہوا اور کوئی عسکری دروازے سے۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی۔۔۔
تیسرا یہ کہ:۔ ہمارے مدمقابل نے جلدی میں صرف ایک آئین بنایا اور آج تک اسی کچے پکے آئین پر گزراوقات کر رہا ہے جبکہ ہم کم ازکم تین سالم آئین ہضم کر چکے ہیں یہ مسئلہ صرف ہاضمے کا نہیں اپنے اپنے ظرف کا بھی ہے۔

ان عظیم امتیازات سے مزین ملک میں چار صوبے اور بہت سی صوبائیت پائی جاتی ہے جس سے ملکی وحدت کی غذائیت کم ہوتی جاتی ہے۔ اصل قصہ صوبوں اور صوبائیت کا نہیں ذہن اور زمین کا ہے‘ ذہن باڑوں اور راجواڑوں میں بٹ جائے تو زمین خودبخود کیاریوں میں کٹ جاتی ہے‘ لہٰذا یہ بنیادی بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ زمین سورج کے گرد نہیں ذہن انسانی کے ساتھ گھومتی ہے۔
پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جہاں پہلے وافر مقدار میں اشیائے خوردنی پیدا ہوتی تھیں اب بکثرت انسان پیدا ہوتے ہیں جو دِسَاوَر (غیر ملک) کو بھیجے جاتے ہیں اور زرعی اجناس سے زیادہ زرمبادلہ کماتے ہیں‘ آبادی کی برآمد سے ہمارے دیہات بہت پر سکون ہو گئے ہیں اب وہاں عموماًبوڑھے والدین اور معصوم بچے بستے ہیں جو ہر وقت اس انتظار میں رہتے ہیں کہ دوبئی سے کب رنگین ٹیلی ویژن‘ امریکی کمبل یا جاپانی گڑیا آئے گی۔ ایک ایک فرد کے بدلے ڈھیروں غیر ملکی اشیاء۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کا ایک ایک شخص ریالوں میں تولنے کے لائق ہے!
یونیورسٹیاں‘ جیلیں‘ ہسپتال‘ فیکٹریاں سب پاکستان کے دم سے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کی سلامتی اور استحکام سبھی اہل وطن کو عزیز ہے لیکن اس کی زیادہ فکر کرسی والوں کو رہتی ہے ان میں ایک طبقہ ایسا بھی گزرا ہے جو اپنی کرسی کی مضبوطی کو ملکی استحکام کے لئے ناگزیر سمجھتا تھا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ملک کو زیادہ تر نقصان مضبوط کرسیوں سے ہی پہنچا ہے۔ہمارے ملک میں مارشل لاء اور جمہوریت کے درمیان کوئی تضاد نہیں وہ نہ صرف ایک دوسرے کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں بلکہ مارشل لاء کے دور میں جمہوریت کے مزے لوٹے جا سکتے ہیں اور جمہوری دور میں مارشل لاء کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ ہم نے باری باری جمہوریت اور مارشل لاء کو آزما کر عملاََ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں یہ دونوں نظامِ حکومت کامیابی سے چلائے جا سکتے ہیں۔

julia rana solicitors london

جمہوریت کی جڑیں ہماری زمین میں بہت گہری ہیں‘ ہماری یہ کوشش رہی ہے کہ یہ مزید گہری ہو جائیں مگر زمین کے اندر ہی رہیں کیونکہ ڈر ہے کہ اگر جمہوریت سطح زمین پر آ کر پھلنے پھولنے لگی تو اسے ضرور ڈھور ڈنگر چر جائیں گے۔ جمہوریت آئینی ہو یا غیر آئینی‘ اختلافِ رائے کا حق بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ہم بھی اس حق کے قائل ہیں لیکن اس کے استعمال میں خاص و عام کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ اسے بلا وجہ اور بے موقع استعمال کر کے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں‘ اگر انہوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہوتا تو انہیں علم ہوتا کہ انسانی ارتقاء کی ایک منزل پر قدروں کا شعور پیدا ہوتا ہے اور پھر کئی نسلوں کے بعد دوسری منزل پر ان قدروں پر عمل کرنے کی نوبت آتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ادھر آپ نے اختلافِ رائے کے حق کو تسلیم کیا اور ادھر اسے برتنا شروع کر دیا۔ بہتر طرزِ عمل یہی ہے کہ غلط الفاظ سے غلط توقعات نہ پیدا ہونے دی جائیں مثلاً لفظ ”جمہوریت“ کو ہی لے لیجئے‘ آپ اس کا مطلب جمہور کی حکمرانی لیتے ہیں حالانکہ اس کا مطلب ہے جمہور کے ذریعے حکمرانی۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ لوگ جمہور کے ذریعے عوامی ماسک پہنے ایوان اقتدار میں پہنچ جاتے ہیں لیکن وہاں عوام رخِ زیبا کے چراغ اور محمد علی کی بڑھک سے بھی تلاش نہیں کئے جا سکتے‘ ان کا مقام وہی بسوں کا اڈہ‘ ضلع کچہری یا سبزی منڈی ہی رہتا ہے۔ وہ حکمرانی کا ذریعہ تو بن سکتے ہیں‘ حکمران نہیں بن سکتے۔
مآخذ: تادمِ تحریر از صدّیق سالک

Facebook Comments

مرِزا مدثر نواز
ٹیلی کام انجینئر- ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply