انقلاب چین کے قائد چئیرمین ماوزے ڈونگ نے کہا تھا امریکی سامراج ایک کاغذی شیر ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایس سی او کاغذی شیر ہے جو گرج تو سکتا ہے مگر اس میں کاٹنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ جبکہ ایس سی او سربراہی کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوے روسی اخبار پراودا کا دعویٰ ہے کہ چین روس اور انڈیا ایک نئی دنیا تعمیر کرنے جا رہے ہیں۔
چین کے شہر تیانجن میں ایس او سی سربراہی کانفرنس میں گلوبل ساوتھ کے چھوٹے بڑے تقریبا بیس ممالک شریک ہوئے۔ شریک سربراہوں میں چین کے میزبان صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوٹن، انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، ترکیہ کے صدر طیب اردوان، اور ایران کے صدر پز شکیان اہم ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کو مستقبل میں ابھرتا ہوا گلوبل ساوتھ بلاک کہا جا رہا ہے۔ مگر ایک رائے یہ ہے کہ گلوبل ساوتھ بلاک کو بننے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چین اور انڈیا کا سرحدی تنازعہ اور دیگر اختلافات، پاکستان بھارت مخاصمت کے علاوہ دیگر ممالک کے مفادات ایس سی او کو ایک منظم و مربوط بلاک بنانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انڈیا کی قیادت چین سے قربت ظاہر کرکے امریکہ سے بھاو تاو کرنے کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ انڈیا کا چین کی قیادت میں کسی بلاک کا سرگرم اور موثر شراکت دار بننا مشکل نظر آتا ہے۔ انڈیا اپنی روایتی سٹریٹیجک غیر جانبداری کی طرف پلٹ جاے گا اور کسی بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہے گا۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے چینی صدر شی کی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ باہمی اختلافات کے باوجود بیجنگ اور نئی دہلی حریف نہیں بلکہ پارٹنر ہیں۔ بقول صدر شی، ڈریگن یعنی چین اور ہاتھی یعنی بھارت ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ بعض مبصرین کا دعویٰ ہے کہ چین بھارت تعلقات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کا سالوں انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ چین بھارت تعلقات کی سمت کا رخ آنے والے چند مہینوں میں متعین ہو تا نظر آ جائے گا۔ اس تناظر میں روس کے صدر پوٹن کا سال کے آخر میں بھارت کا دورہ بہت اہم سمجھاجا رہا ہے۔موجودہ حالات میں صدر پوٹن چین اور بھارت کے درمیان اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ صدر پوٹن مستقبل میں چین، روس اور بھارت کی ٹرائیکا کو گلوبل ساوتھ کے اتحاد کے لئے اہم تصور کرتے ہیں۔ صدر پوٹن کے خیالات کی ترجمانی روسی اخبار پراودا نے یوں کی ہے کہ چین، روس اور انڈیا نئی دنیا تعمیر کرنے جا رہے ہیں۔
روس اور بھارت کے دوستانہ رشتوں کی اپنی تاریخ ہے۔ جس کی تفصیلات یہاں بیان کرنا ضروری نہیں ہے۔ چین اور روس کے دوستانہ تعلقات بھی باہمی احترام اور مفادات کی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جارحانہ ٹیرف اور غیر مستحکم خارجہ پالیسی نے چین، روس اور بھارت کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صدر شی، صدر پوٹن اور وزیر اعظم نریندر مودی نے کیمروں کے سامنے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے قہقہے لگاتے ہوئے یہ پیغام دیا ہے کہ اب دنیا امریکہ کی مرضی سے نہیں چل سکتی۔ صدر ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں اور غیر ذمہ دارانہ بیانات نے نہ صرف گلوبل ساوتھ کے ممالک کو امریکہ سے دور کیا ہے بلکہ مغربی ممالک بھی امریکہ سے محتاط رویہ اپنا رہے ہیں۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یورپین یونین کے ممالک اور کینیڈا کی امریکہ پر اعتماد کی سطح اب پہلے جیسی نہیں رہی۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں امریکہ نواز خارجہ پالیسی کا غلبہ رہا۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر بڑے زور شور سے امریکہ نواز پالیسی پر دل و جان سے کاربند رہے ہیں۔ چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی جانب توجہ دی اور نہ ہی پاک بھارت تناو کو کم کرنے پر آمادہ ہوئے۔ اب حالات کے جبر کے تحت مودی حکومت کو امریکہ نواز پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اس پس منظر میں ایس او سی کی حالیہ کانفرنس سے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی غیر حاضری بڑی معنی خیز ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خارجہ امور میں پالیسی شفٹ کے ساتھ وزیر خارجہ جے شنکر کو قربانی کا بکرا بنا کر وزیر اعظم نریند مودی ملک کے اندر بگڑتی ہوئی سیاسی صورت حال کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے۔
گلوبل ساوتھ میں اہم پلئیر بننے کے لئے مودی سرکار کو پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی جانب عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ چین کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تاریخی دوستانہ تعلقات ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے چینی صدر شی سے جنوبی ایشیاء میں کشیدگی ختم کرانے کے لئے کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔ چین کے صدر شی اور روس کے صدر پوٹین کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے گلوبل ساوتھ یکجہتی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہو سکتی ہیں۔ چین اور روس یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بھارت کی شمولیت کے بغیر نیا عالمی نظام تشکیل دینا انتہائی مشکل ہو گا۔ اس پس منظر میں مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات معمول پر لانے میں چین اور روس بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بھارتی مبصروں کے مطابق بھارت نے امریکی مطالبات کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے اور اب بھارت کے امریکی کیمپ میں مکمل جانے کے امکانات نہیں ہیں۔ ایک خیال ہے کہ نئے عالمی نظام میں طاقت کا توازن اب گلوبل ساوتھ کی طرف منتقل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس لئے بھارت کو اپنی ترقی اور معاشی مفادات کے مد نظر چین، روس، پاکستان، ایران اور ساوتھ کے دیگر ممالک کی جانب تعاون کا ہاتھ بڑھانا پڑے گا۔ یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے کو پاکستان نے بھی سمجھ لیا ہو گا اور وہ بھی بھارت کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔
جہاں صدر ٹرمپ کی معاشی قوم پرستی نے گلوبل ساوتھ میں ہلچل مچا رکھی ہے وہاں یورپ بھی اس برکتوں سے محفوظ نہیں ہے۔صدر ٹرمپ کی پالیسیوں نے یورپی ممالک کو بہت مایوس کیا ہے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ چین امریکہ اختلاف کے معنیٰ یورپ چین اختلاف نہیں ہے۔ یاد رہے تیانجن سربراہی کانفرنس پر ابھی تک کسی یورپی ملک کے سربراہ کا رد عمل سامنے نہیں آیا۔ ظاہر ہے یورپ کے فیصلے اپنے اقتصادی اور جیو پولیٹیکل مفادات کے تابع ہوں گے ۔ ایس او سی سربراہی کانفرنس کے حوالے سے ایک بیان میں یورپین یونین خارجہ امور کی سربراہ نے کہا ہے کہ یورپ کے بغیر نیا عالمی نظام تشکیل نہیں پا سکتا۔ یاد رہے انہوں نے نئے ورلڈ آرڈر کے تصور کو مسترد نہیں کیا۔
چین نے حالیہ تیانجن سربراہی کانفرنس اور بعد ازاں عسکری پریڈ کے ذریعے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ امریکہ کے مقابلے میں ایک مضبوط متبادل ہے اور عالمی سطح پر فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ صدر ٹرمپ نے دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی سربراہی میں مغربی طاقتوں کےتشکیل کردہ ورلڈ آرڈر کو تار تار کرنے میں کوئی کثیر نہیں چھوڑی۔ صدر ٹرمپ کی معاشی قوم پرستی نے چین کو کھیلنے کے لئے دنیا میں وسیع ڈپلومیٹک میدان فراہم کیا ہے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں سے عالمی سطح پر پیدا ہونے والے خلاء کو پر کرنے میں چین نے دیر سے کام نہیں لیا۔

کیا چین کی قیادت میں گلوبل ساوتھ بلاک کی سوچ عملی روپ اختیار کر سکتی ہے۔ عالمی سطح پر نیا ورلڈ آرڈر تشکیل پا نے کیا امکانات ہیں۔ اس پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک مضبوط رائے کے مطابق نئے عالمی نظام کے تشکیل کی جانب بڑھنے کے لئے مختلف ممالک کی حکمت عملی اور رفتار مختلف ہو سکتی ہے۔ مگر یہ واضع ہوتا جا رہا ہے کہ ان ممالک کی سمت اور منزل ایک ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ یونی پولر نظام کی اجاراہ داری کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی سربراہی میں تشکیل پانے والا ورلڈ آرڈر بتدریج روبہ زوال ہے۔ یہ اب اپنی اصل شکل اور جاہ جلال کے ساتھ برقرار نہیں رہ سکتا۔ گلوبل ساوتھ سے ابھرنے والی معاشی طاقتیں امریکی اجارہ داری کو جھٹکے دی رہی ہیں اورنئے ملٹی پولر ورلڈ آرڈر کی نوید سنائی دے رہی ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں