چند دن قبل معروف صحافی سہیل وڑائچ نے برسلز میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات میں ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیکر عمران خان کو معافی مانگنے کی صورت میں نجات کی نوید سنائی ، جس پر عمران سمیت پی ٹی آئی بھڑک اٹھی ، سیاسی مفاہمت کی اِسی پیشکش کو لیکر ٹرولز نے سوشل میڈیا پر فیلڈ مارشل کے خلاف تحقیر آمیز مہم چلائی ، جس کے تدارک کی خاطر ڈی جی آئی ایس پی آر کو متذکرہ کالم سے پیدا ہونے والے ابہام کی وضاحت کرنا پڑی ۔ پی ٹی آئی کی تمام تر لن ترانیوں کے باوجود کوئی شبہ نہیں کہ عمران سیاسی مفاہمت کی راہیں بنانے میں سرگرداں ہیں لیکن فی الحال اسٹبلشمنٹ ، خان اور اس کے پُرجوش حامیوں کو معافی مانگنے جیسی توہین آمیز پیشکشوں کے ذریعے اشتعال دلا کر مفاہمت کی راہ سے دور دھکیلنے میں مشغول دیکھائی دیتی ہے ۔ عمران خان کے حامی ایک جغادری صحافی نے ” معافی کا حسین راستہ ” کے عنوان سے لکھے کالم میں تاریخی حوالوں سے عمران خان کو سیاسی مفاہمت کے ذلت آمیز انجام سے بچانے کی خاطر فرضی حقائق کے خوبصورت جال بُنے ہیں ۔ کالم نویس نے سلطان ٹیپو کی انگریزوں کے ہاتھوں دلیرانہ موت اور عثمانی بادشاہ بایزید کی امیر تیمور کے ہاتھوں تذلیل کے واقعات سے لیکر انگریزوں سے آزادی کی خاطر گاندھی/نہرو کی رومانوی قید و بند اور نیلسن منڈیلہ کی پچیس سالوں پہ محیط اذیتناک قید سے جڑی خاموش مزاحمت سے لیکر ذولفقار علی بھٹو کی” سرشار ” موت کے حوالے دیکر خان اور ان کے حامیوں کو مفاہمت کی ”ذلت” قبول کرنے سے ڈرایا ۔ کہنہ مشق صحافی نے کمال مہارت کے ساتھ معمول کے سیاسی عمل کو قرون وسطی کے بادشاہوں کے مابین لڑی جانے والی خونریز جنگووں سے مماثلت دیکر عمران خان کو مقتدرہ کے خلاف لڑ کر ” فتح یا باعزت موت ” پانے کا راستہ دیکھانے میں غیر معمولی جسارت سے کام لیا ۔
امر واقعہ یہ ہے کہ امیر تیمور نے پہلے انتہائی انکساری سے بایزید سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کے دشمنوں ، قرا یوسف اور سلطان احمد ، کی مدد نہ کریں لیکن بایزید نے انکی مفاہمت کی پیشکش کو پاء حقارت سے ٹھکرا کر جنگ میں جانے کا فیصلہ لیا ، نتیجہ بایزید کی عبرتناک شکست کی صورت میں سامنے آیا ۔ دوسرا سلطان ٹیپو اور انگریزوں کے درمیان مفاہمت کا امکان معدوم تھا کہ وہ کسی آئینی نظام کے اندر جمہوری انداز میں صحت مند مقابلہ کرنے والی سیاسی پارٹیاں نہیں بلکہ دونوں مسلح قوتیں ایک ریاست پہ حتمی قبضہ کی جنگ لڑ رہی تھیں ، بزور شمشیر اقتدار حاصل کرنے والے ازمنہ رفتہ کے بادشاہوں کے جنگی مظاہر کا ہمارے عہد کی معمول کی سیاسی مشق پہ اطلاق کیسے ہو سکتا ہے ۔ ماضی قریب میں کانگریس کے پلیٹ فارم سے انگریزوں کے خلاف گاندھی اور نہرو کی”جدوجہد” علامتی تھی ، ایلن اوکٹیوین ہیوم اور ولیم ویڈربرن نے 1885 میں چند مقامی لوگوں سے ملکر کانگریس کی بنیاد اس لئے رکھی تھی کہ چالیس کروڑ ہندوستانیوں کو مینیج کرنے کے علاوہ انگریز حکمراں اپنے مقامی جانشین پیدا کرنا چاہتے تھے ، کم و بیش پچاس سالوں پہ محیط کانگریس کی جدوجہد انڈین لیڈر شپ کو تربیت دینے کی مشق کے سوا کچھ نہیں تھی ، نہرو، گاندھی اور آزاد کی ” کیا اسیری تھی کیا رہائی تھی” گاندھی جب سیاسی مصروفیات سے تھک جاتے تو خود ہی جیل جانے کی درخواست کر دیتے ، جب باہر نکلنے کے خواہشمند ہوتے تو وائسرائے کو ملاقات کے لئے خط لکھ کر باہر آ جاتے ۔ ابوالکلام کی تحریروں میں رانچی کے قلعہ میں انکی اسیری کی جو منظرکشی ملتی ہے وہ مغل بادشاہوں کی سکون پرور زندگی سے زیادہ دلکش تھی ۔ ان میں سے کسی کی بھی انگریز نے کریمنل مقدمات بنا کر کردار کشی کی نہ مالی مدد کرنے والے برلا ، ٹاٹا جیسے سرمایاداروں کو ہراساں کیا ، حتی کہ نہرو کو لارڈ ماونٹ بیٹن کی بیگم کے ساتھ رومانس لڑانے کی سہولت بھی میسر رہی ۔ قائد اعظم سمیت آزادی کی ”جنگ” لڑ کر پاکستان حاصل کرنے والی لیگی لیڈر شپ نے ایک دن کے لئے جیل نہیں دیکھی ، انگریزوں نے خود اصفہانی، سہگل ، عبداللہ ہاروں اور حبیب گروپ سمیت مسلمان راجاوں، نوابوں کو مسلم لیگ میں شمولیت کی اجازت دی لیکن انگریز کے خلاف سچی مزاحمت اور ہر قسم کے سمجھتوں کو مسترد کرنے والے بھگت سنگھ اور شوبھاش چندر بوس کی جدوجہد کو انگریزوں نے نہایت بے رحمی کے ساتھ کچلنے کی خاطر بے انصافی اور ظلم کی ہر حد عبور کر ڈالی ۔ جہاں کانگریس سے وابستہ قیدیوں کو جیلوں میں بی کلاس ، ریڈیو ، اخبارات سمیت تمام ”سہولیات ” میسر تھیں ، وہاں احرار اور خاکسار قیدیوں سے جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا ، حسرت موہانی کو سالوں نیم عریاں رکھ کر جیل میں چکّی پسوائی گئی ۔ انگریز کی غاصبانہ قبضہ کے خلاف بھگت سنگھ کی تحریک کے فدائین نے دو بار نیوی اور ائیر فورس میں بغاوت کرکے تاج برطانیہ کو لرزہ دیا تھا ، شاید اسی لئے انگریز اُجلت میں ہندوستان کو اپنی پروردہ کانگریس اور لیگ کے حوالے کرکے حکمرانوں پہ حکمرانی کا نیونوآبادیاتی نظام متعارف کرانے پہ مجبور ہوا ۔ قصہ کوتاہ جنگ آزادی کے اصل مزاحمت کار بیکسی کی موت مارے گئے ۔ آج ماضی میں مفاہمت کی سیاست کرنے والے قومی ہیروز اور ہماری جدوجہد آزادی کے نمایاں کردار نظر آتے ہیں ، حقیقت یہی کہ سیاست میں ہر تبدیلی طاقت کی ایما پر آتی ہے ۔ جنوبی افریقہ کے نیلسن مینڈیلا جسے کریمنل مقدمات میں 27 سالوں تک قید رکھا گیا ، جسے آج بھی دنیا آزادی کی جدوجہد کا سچا استعارہ سمجھتی ہے ، نے طویل جیل کاٹنے کے باوجود بلآخر وسیع تر سیاسی مفاہمت کے ذریعے ملک آزاد کرانے میں کامیابی پائی بلکہ سیاسی مفاہمت کی اصطلاح دراصل نیلسن منڈیلہ ڈیل کے نتیجہ میں وجود میں آئی ۔ جہاں تک ذولفقار علی بھٹو کی سزائے موت کا تعلق ہے تو بھٹو نے آخری دم تک مفاہمت کی کوشش کی حتیٰ کہ نصرت بھٹو نے ضیاء الحق سے رحم کی اپیل تک کر ڈالی مگر بدقسمت بھٹو امریکی مقتدرہ کے عالمی مفادات کی بھینٹ چڑھ گئے ، انہیں مفاہمت کا چانس نہیں ملا ، جیل کے آخری ایام میں بھٹو کی بے بسی ناقابل بیان تھی ۔ علی ہذالقیاس ! عمران خان کا معاملہ کافی مختلف ہے وہ عام سی سیاسی جماعت کے لیڈر اور کنٹرولڈ سیاسی عمل کی پیدوار ہیں ، خبط عظمت نے اُسے فتح اللہ گولن کی مانند ایسی مہم جوئی پہ اکسایا جو اس کی استعداد ذہنی اور کارکنوں کی مزاحمتی قوت سے ماوراء تھی یعنی وہ جہنم میں چہل قدمی کے شوق میں چہرہ جھلسا بیٹھے ، اس نے مقتدرہ کے اندر بیٹھے حامیوں اور بیرونی قوتوں کی ایما پر ریاست کو مسخر کرنے کا جُوا کھیل کر پوری متاعِ سیاست ہار دی ۔ آج وہ حالات کے رحم و کرم پہ ہیں ، مغربی طاقتیں بالخصوص امریکی ، عمران کی نجات کی راہیں نکالنے کی بجائے تنازعہ کو بڑھا کر ہماری اسٹبلشمنٹ پہ دباو ڈالنے کے لیور کے طور پہ استعمال کر رہے ہیں ، خان عالمی کشمکش کی پیکار میں بُری طرح پھنس چکے ، مقتدرہ خان کو جینے نہیں دے گی اور امریکہ خان کو مرنے نہیں دے گا ۔ ہماری جدید تاریخ میں نوازشریف وہ خوش قسمت لیڈر ہیں جس نے دوبار مفاہمت کے ذریعے سیاسی بقاء یقنی بنانے کے علاوہ قومی سیاست میں اپنے توانا رول کو برقرار رکھا ۔ آصف زرداری جیسے کمزور آدمی نے بھی سیاسی مفاہمت کو وسیلہ بنا کر نہ صرف پارٹی پہ گرفت مضبوط کی بلکہ قومی سیاست میں اپنے لئے بھٹوز سے بڑی جگہ بنا لی ، انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ بھٹو اور بے نظیر دونوں عالمی و مقامی مقتدرہ کا شکار بنے لیکن وہ امریکہ اور فوج دونوں سے مفاہمت کے ذریعے اپنا اور اولاد کا مستقبل تابناک بنانے میں کامیاب رہے ۔ ارسطو نے کہا تھا ”سیاست معاشرے کو متشکل کرنے والے طبقات کے مابین مفاہمت کا آرٹ ہے” خان مفاہمت کے ہنر سے عاری ہیں ، انہیں مفاہمت کا کوئی موقعہ ملے تو اسے ضرور قبول کر لیں کیونکہ خدشہ یہی ہے کہ عالمی و مقامی مقتدرہ انہیں مفاہمت کی سہولت نہیں دیں گی ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں