• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بونیر کی طوفانی بارش: تباہی، امداد اور سبق/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

بونیر کی طوفانی بارش: تباہی، امداد اور سبق/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

بونیر کی یہ طوفانی بارش کوئی عام سیلاب نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا دلخراش سانحہ تھا جو راتوں رات گاؤں بہا لے گیا۔ مجھے یاد ہے، چند روز پہلے ایک مقامی دوست سے بات ہوئی جو بونیر سے تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ کیسے ایک گھنٹے کی بارش نے سب کچھ تبدیل کر دیا۔ لوگ سو رہے تھے، اور پھر اچانک پانی اور پتھروں کا سیلاب آیا۔ یہ بات دل کو چھو گئی، کیونکہ یہ صرف اعداد و شمار کی کہانی نہیں، انسانی دکھ کی ہے۔
اس سیلاب کی شدت نے بونیر کو بری طرح متاثر کیا۔ 15 اگست 2025 کو کلاؤڈ برسٹ نے 150 ملی میٹر سے زیادہ بارش کی، جس سے فلش فلڈز آئے۔ بونیر میں 274 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے، 209 لاپتہ ہیں۔ پورے پاکستان میں 700 سے زیادہ جانیں گئیں۔ گھر تباہ، 80 فیصد زرعی زمین برباد، 50 فیصد مویشی بہہ گئے۔ بیشنائی، قادر نگر اور پیر بابا جیسے گاؤں تقریباً مٹ گئے۔ لوگوں کے روزگار چھن گئے، بچے بے گھر ہو گئے۔ یہ تباہی صرف قدرتی نہیں، انسانی کوتاہیوں کی بھی ہے۔
حکومت کا کردار مخلوط رہا۔ خیبر پختونخوا حکومت نے 500 ملین روپے بونیر کے لیے جاری کیے۔ وفاقی سطح پر وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف نے دورہ کیا، امداد کا وعدہ کیا۔ آرمی اور فرنٹیئر کور نے ہیلی کاپٹروں سے ریسکیو کیا، راشن پہنچایا۔ این ڈی ایم اے نے خیمے، ادویات اور پمپ بھیجے۔ لیکن تنقید بھی ہے۔ ریسکیو آپریشنز میں تاخیر ہوئی، بیوروکریسی نے امداد روکی۔ ایک مقامی رہنما نے کہا، “حکومت نے امداد روکی کیونکہ منظوری چاہیے تھی۔” یہ کوتاہی انسانی جانوں کی قیمت پر ہے۔
این جی اوز نے اہم کردار ادا کیا۔ انڈس ہسپتال نے کیمپ لگائے، 547 مریضوں کا علاج کیا۔ اسلامک ریلیف نے خوراک اور پانی تقسیم کیا۔ ایس آر ایس پی اور کیئر پاکستان نے حفظان صحت کٹس دیں۔ پاک ایشیا یوتھ فورم نے فنڈ ریزنگ کی۔ یہ تنظیمیں تیزی سے پہنچیں، جہاں حکومت کی رسائی کم تھی۔ لیکن یہ بھی عارضی حل ہیں۔ طویل مدتی ضرورت ہے۔
طویل مدتی اثرات سنگین ہیں۔ لوگوں کی آمدنی ختم، خوراک کی کمی، صحت کے مسائل بڑھ رہے۔ دماغی صحت پر اثر پڑا، ٹراما سے لوگ پریشان۔ معیشت کو اربوں کا نقصان۔ بونیر میں 1470 دکانیں اور 600 گھر تباہ۔ یہ علاقہ پہلے ہی پسماندہ ہے، اب بحالی مشکل۔ موازنہ کریں تو 2022 کے سیلابوں سے بھی بدتر، جہاں بحالی اب تک نامکمل ہے۔ عالمی سطح پر، بنگلہ دیش جیسی جگہوں پر کمیونٹی تیاری نے نقصان کم کیا۔ پاکستان میں بھی ایسا ممکن ہے۔
سبق کیا ہیں؟ پہلا، غیر قانونی کان کنی اور ٹمبر مافیا کو روکیں۔ یہ پہاڑ کمزور کرتے ہیں، جو سیلاب میں پتھر بہاتے ہیں۔ دوسرا، دریا کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات بند کریں۔ تیسرے، ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو بہتر بنائیں، کمیونٹی الرٹ سسٹم لگائیں۔ چوتھا، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹیں، جنگلات لگائیں۔ ایک تجزیہ کار نے کہا، “یہ صرف قدرتی نہیں، گورننس کا چیلنج ہے۔” انسانی غلطیاں نہ دہرائیں۔
آگے کیا؟ حکومت کو طویل مدتی پلان بنانا چاہیے۔ گھر دوبارہ بنائیں، زراعت بحال کریں، ایک بلین روپے کے بیج اور 3 بلین کے قرضے اچھا آغاز ہیں۔ این جی اوز اور کمیونٹی مل کر کام کریں۔ دماغی صحت کی سپورٹ دیں، کیونکہ زخم صرف جسمانی نہیں۔ لوگوں کو بااختیار بنائیں، تاکہ اگلا سیلاب کم تباہ کن ہو۔ بونیر کے لوگ ہمارے ہیں، ان کا درد ہمارا ہے۔ اب وقت ہے، ایک ہو کر کھڑے ہونے کا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply