بہار اسمبلی انتخابات اور مسلمان/ ابھے کمار

بہار میں اسمبلی انتخابات میں اب محض چند ماہ باقی ہیں، لیکن سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ چکی ہے۔ ایک طرف کانگریس رہنما راہل گاندھی “ووٹ چوری” کے خلاف ریاست کا دورہ کر رہے ہیں، تو دوسری جانب بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنان بدلتی ہوئی ڈیموگرافی کا خوف دکھا کر اکثریتی طبقے کو اپنے حق میں منظم کرنے کی مہم میں مصروف ہیں۔ یہ انتخابات حکمران جماعت جدیو کے لیے بھی نہایت اہم ہیں کیونکہ بی جے پی مسلسل اپنی حلیف پارٹی پر حاوی ہو رہی ہے، حالانکہ اسی جماعت کے سہارے بھگوا جماعت نے بہار میں اپنے قدم جمائے تھے۔ آر جے ڈی کی قیادت تیجسوی یادو کے ہاتھوں میں ہے اور ان کے حامی انہیں وزارتِ اعلیٰ کے مضبوط ترین امیدوار کے طور پر پیش کر رہے ہیں، مگر خود ان کے قریبی اور رشتہ دار بھی ان کی حمایت میں اتنی مضبوطی سے سامنے نہیں آ رہے، جتنی وہ توقع کر رہے تھے۔ تیجسوی کے لیے مشکلات جَن سوراج کے سربراہ پرشانت کشور نے بھی بڑھا دی ہیں، جو آئے دن ان پر سخت تبصرے کرتے اور آر جے ڈی کی سیاست کو کمزور کرنے کے لیے نت نئے حربے اختیار کر رہے ہیں۔ پرشانت کشور سماجی انصاف، ذات پات کی عدم برابری اور طبقاتی تفریق جیسے مسائل کے بجائے، متوسط طبقے کو لبھانے والے موضوعات اٹھا رہے ہیں۔ چراغ پاسوان اور مُکیش سَہنی بھی بہار کی سیاست کے اہم کھلاڑی ہیں، مگر ان کی سیاست نظریے سے زیادہ مصلحت پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ بائیں بازو نے پچھلے انتخابات میں قابلِ ذکر کامیابی حاصل کی تھی، لیکن سیاسی مبصرین اس کامیابی کو بائیں بازو کی نظریاتی وابستگی کے بجائے اتحاد کی سیاست کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں، ان کی پالیسیاں مختلف ہیں اور وہ رائے دہندگان کو قریب لانے کے لیے الگ الگ راستے اپناتی ہیں، لیکن ایک پہلو جو کم و بیش تمام جماعتوں میں مشترک ہے وہ مسلمانوں کی مؤثر اور متناسب نمائندگی پر ان کی خاموشی ہے، حالانکہ بہار میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ١٧ فیصد ہے اور اس لحاظ سے اقتدار میں ان کا حصہ خاصا وزنی ہونا چاہیے، مگر ٹکٹ تقسیم کے وقت انہیں ان کے حریف سامنے سے اور ان کے حلیف پسِ پردہ وار کرتے ہیں۔

اگر ہم موجودہ بہار اسمبلی پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ مسلم اراکینِ اسمبلی کی کل تعداد بیس سے بھی کم ہے، حالانکہ آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کے کم از کم چالیس نمائندے ایوان میں موجود ہونے چاہییں۔ یہ اعداد و شمار صاف طور پر اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی آدھی سے زیادہ سیٹیں ہتھیا لی جاتی ہیں، اور موجودہ حالات میں بھی اس رویے کے بدلنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اب تک کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آئی اور وہ بدستور مسلمانوں کا نام لینے سے کتراتے ہیں۔ ہندوستانی سیاست اس وقت ایک پیچیدہ بھنور میں الجھی ہوئی ہے، جہاں فرقہ پرست جماعتیں ہر انتخاب میں مسلمانوں کو کھلنائیک بنا کر اکثریتی طبقے کا ووٹ سمیٹ لیتی ہیں، جبکہ سیکولر اپوزیشن جماعتیں فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف جدوجہد میں سیکولرازم کا تمام بوجھ مسلمانوں کے کندھوں پر ڈال دیتی ہیں اور اس عمل میں اقلیتوں کے جائز مفادات قربان کر دیتی ہیں۔یہی رجحان دنیا کے کئی ممالک میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جہاں قدامت پسند قوتوں نے سفید فام عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سیاہ فاموں کو نشانہ بنایا، اور نام نہاد جمہوری و ترقی پسند جماعتوں نے بھی انہیں ان کے حقِ نمائندگی سے محروم رکھا، اس سوچ کے تحت کہ مظلوم طبقات کے پاس ان کی حمایت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

مسلمانوں کے خلاف تعصب کا یہ عالم ہے کہ سیکولر پارٹیوں کے پوسٹروں اور بینروں سے مسلم رہنماؤں کی تصویریں غائب ہوتی جا رہی ہیں۔ جلسوں کے اسٹیج پر یا تو انہیں بلایا ہی نہیں جاتا، اور اگر بلا بھی لیا جائے تو پارٹی صدر سے دور کسی کونے میں ایک چھوٹی سی کرسی پر بٹھا دیا جاتا ہے، جہاں ان کا اصل کردار نہ بولنا ہوتا ہے اور نہ ملت کی ترجمانی کرنا، بلکہ محض تالیاں بجانا رہ جاتا ہے۔ آج کی سیکولر پارٹیاں ایسے مسلم چہروں کو ہی آگے کرتی ہیں جن کے پاس نہ اپنی زبان ہے اور نہ فکر۔ وہ اعلیٰ قیادت کی باتوں کو طوطے کی طرح دہرانے کو ہی ترقی کی سیڑھی سمجھتے ہیں۔ ملک کی سیاست کی نہ انہیں کوئی خاص سمجھ ہے اور نہ ہی سمجھنے کی خواہش دکھائی دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پر پارٹی کے بڑے لیڈروں کے ٹویٹ اور پوسٹ شیئر کرنا ہی وہ اپنی قوم و ملت کی خدمت تصور کرتے ہیں۔ دوسری طرف وہ مسلم نوجوان جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو ہندوستان کی تاریخ اور سیاست سے واقف ہیں اور جن کے دلوں میں یہ جذبہ ہے کہ مظلوم طبقات بشمول مسلمانوں کو ان کا جائز حق دلایا جائے، ایسے نوجوانوں کو فرقہ پرست پارٹیاں “اینٹی نیشنل” اور شدت پسند قرار دے کر بدنام کرتی ہیں اور کئی کو جیلوں میں بھی ڈال دیتی ہیں، جبکہ سیکولر پارٹیاں اپنے مظلوم نواز اور غریب پرور دعووں کے باوجود کسی نہ کسی بہانے انہیں آگے بڑھنے سے روکتی ہیں۔ ان پارٹیوں کی نظر میں مسلمانوں کو اپنے حقوق کے لیے خود کھڑا نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں بس سیکولر پارٹیوں کو ووٹ دے کر مطمئن ہو جانا چاہیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلم تشخص کے نام پر بنی اور مسلم قیادت والی بعض پارٹیاں بھی نئی سوچ اور جدت رکھنے والے فعال مسلم نوجوانوں کو اپنے قریب آنے نہیں دیتیں اور طرح طرح کے بہانے تراشتی ہیں تاکہ پارٹی پر ان کی خاندانی اجارہ داری قائم رہے۔

ان مشکل حالات میں مجھے ڈاکٹر امبیڈکر کی یاد آ رہی ہے۔ ٢٧ جنوری ١٩١٩ کو انہوں نے ساؤتھ بورو کمیشن کے سامنے پیشی دی، جو انتخابی حقوق کے مسئلے پر غور کے لیے قائم کیا گیا تھا، اور وہاں انہوں نے دلتوں کی نمائندگی کے حق میں مضبوط دلائل دیے۔ امبیڈکر نے کہا تھا کہ “صرف ووٹر ہونا کافی نہیں ہے، قانون ساز ہونا بھی ضروری ہے، ورنہ جو قانون ساز ہوں گے وہی ان پر حاکم ہوں گے جو محض ووٹر رہ جائیں گے۔” وہ بار بار اس بات پر زور دیتے تھے کہ چونکہ ہندوستانی سماج ذات پات کی غیر برابری پر قائم ہے، اس لیے کوئی ایک رہنما جو کسی نہ کسی ذات میں پیدا ہوا ہو، سب کے حقوق کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ ان کا واضح مؤقف تھا کہ محکوم اور مظلوم طبقات کے حقوق کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے، جب دبے کچلے، کمزور اور اقلیتی طبقات کے لوگ پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک پالیسی سازی اور قانون سازی میں برابر کے شریک ہوں۔ آج تمام سیاسی جماعتیں امبیڈکر کے سب سے بڑے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، مگر وہ باتیں جنہیں امبیڈکر سب سے زیادہ اہم سمجھتے تھے، ان سے کتراتی ہیں۔ امبیڈکر جمہوریت کی کامیابی کو ہمیشہ اقلیتوں کی مؤثر اور متناسب نمائندگی سے جوڑ کر دیکھتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ محض اچھا قانون ہونا انصاف کی ضمانت نہیں ہے، انصاف تبھی ممکن ہے جب محکوم طبقات کے نمائندے قانون کو نافذ کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ سوال یہ ہے کہ بہار انتخابات کے موقع پر ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت کیا سیاسی جماعتیں بابا صاحب کی ان انمول باتوں کو یاد رکھیں گی؟

Facebook Comments

ابھے کمار
ابھے کمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ان کی دلچسپی ہندوستانی مسلمان اور سماجی انصاف میں ہے۔ آپ کی دیگر تحریرabhaykumar.org پر پڑھ سکتے ہیں۔ ان کو آپ اپنے خط اور اپنی رائے debatingissues@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply