امام الہند ابوالکلام آزاد رح/ سید عطاء المنعم بخاری

خالق کائنات اس فانی و متناہی کارخانہ ہائے رنگ و بو میں شب روز نجانے کتنی ہی ارواح کو تہمت حیات سے متہمم کر کے اس زمین جو کہ مجموعۂ فتنہ و فساد ہے کی قید سے نوازتا ہے اور کتنے ہی اسیران حیات کو نوائے اجل بھیج کر انکی لافانی راحت یا آزمائش کے سفر پر روانہ کر دیتا ہے ۔ اس دنیا میں حیات و ممات کا یہ نظام ہمیشہ سے سلسلہ بند ہے اور اسکی ہمیشگی کی انتہاء اسی دنیا کے وجود پر منحصر ہے ۔ اس تماشائے آمد و جامد میں کامیابی و ناکامی کا انحصار روانئ عمر و طغیانئ نفس پر حکم ربانی کے اطلاق سے ہے ۔ یعنی جس قیدی نے اپنے ایام اسیری ہی میں خواہشات نفس پر احکامات خداوند کو مقدم کرنا سیکھ لیا تو اسکو بشارت بہشت مل گئی ، وگرنہ اسکی منزل تحت الثری کے ساتوں طبقات ٹھہرا دی گئی ۔ قابل عبرت ہے وہ حیوان ناطق کہ جسے نفس کو مات دے کر احکامات خداواند کی تعمیل کرنے کی سعی کرنے ہی کے دوران پکار اجل آجائے اور وہ نفس کو مغلوب نہ کر پایا ہو ، اور باعث رشک ہے وہ جسم نامی کے جو حیات ارضی کی حقیقت پنہاں کو بھانپ کر “الدنیا سجن المؤمن” کو مان لیتا ہے اور عاقبت سنوار جاتا ہے ۔ انہی باعث رشک ارض و سماں اجسام قدسیہ میں سے ایک تابندہ ستارہ جس کا تذکرہ مقصود تحریر ہے ، وہ مولانا محی الدین احمد رح کی شخصیت ہے جو ابوالکلام کے نام سے معروف ہے ۔ اصل نام محی الدین احمد تھا اور آزاد تخلص تھا . والد کا نام خیرالدین اور دادا کا نام محمد ہادی تھا ۔ مولانا کے یوم پیدائش کے حوالے سے صاحبان علم میں ایک یوم کے فرق سے روایات میں عدم تطابق بکثرت پایا جاتا ہے لیکن غالباً مولانا کی دوسری برسی کے موقع پر ہندوستانی سرکار میں موجود نجانے کس ناہنجار نے آپکا یوم پیدائش 11 نومبر قرار دے دیا ۔ تاہم راقم کی تحقیق کے مطابق آپکی ولادت باسعادت 9 ذوالحجۃ 1305 ہجری ، بروز جمعۃ المبارک مطابق 17 اگست 1888، بوقت تہجد ، مکۃ المکرمہ کے محلہ قدوہ ( متصل باب الاسلام ) میں ہوئی ۔ پہلا نام تاریخی اعتبار سے فیروز بخت رکھا گیا ، اسم ثانی محی الدین احمد تھا ۔ تعلیم آپ نے گھر ہی میں حاصل کی ، 1893ء میں جب مولانا کی عمر قریباً پانچ سال تھی ۔ مولانا خیرالدین نے حرم مکہ میں شیخ عبد اللہ سے مولانا کی بسم اللہ کروائی ، پہلی استانی کے اعزاز کا قرعہ آپکی خالہ کے نام کا نکلا ، علاوہ ازیں کچھ اسباق بنگال کے کسی مولوی صاحب سے بھی پڑھتے رہے ۔ خطاطی کے اسباق حافظ بخاری سے لیتے رہے ۔ دریں اثناء 1898ء میں بوجہ علالت مولانا خیرالدین صاحب کو مکہ سے کلکتہ ہجرت کرنا پڑی ۔ ہجرت سے پہلے ہی مولانا آزاد کا ناظرہ مکمل ہوچکا تھا اور چند سورتیں مولانا نے حفظ بھی کر لی تھیں ۔ ہجرت کے کچھ عرصہ بعد ہی مولانا کی والدہ کا انتقال ہوگیا ۔ خیرالدین صاحب تو اس سانحے پر اس قدر برداشتۂ خاطر ہوئے کے فوراً مکہ واپسی کا ارادہ کر لیا لیکن پھر حاجی عبدالواحد صاحب کے کہنے پر رک گئی ۔ کلکتہ میں مولانا نے درس نظامی کی تعلیم کا آغاز کیا تو ایسا غوجی و گلستاں تا صحاحِ ستہ تقریباً تمام کتب اپنے والد مولانا خیرالدین سے ہی پڑھیں ۔ البتہ درمیان میں گاہے بگاہے ایک مختصر سے عرصہ میں والد گرامی کے حکم پر ہی مولانا نزیر الحسن امیٹھوی ، مولانا محمد شاہ محدث ، مولانا سعادت حسین ، مولوی محمد یعقوب ، مولوی محمد ابراہیم ، سید باقر حسین اور مولوی محمد عمر جیسے اساتذہ کی صحبت میں زانوئے تلمذ طے کرنے کا شرف حاصل کیا ۔ 1899ء سے مولانا نے باقاعدہ شاعری کا بھی آغاز کر دیا تھا جبکہ پہلی تصنیف غالباً ( اعلان الحق ) 1902ء میں کی ۔ مولانا کو مولانا خیرالدین نے 1900ء میں دوران تعلیم ہی رشتۂ ازدواجی میں منسلک کر دیا تھا آپکی ہمشیرہ فاطمہ بیگم کی روایت ہے کہ “جب مولانا بارہ برس کے ہوئے تو ہمارے والد نے کلکتہ میں مولانا کی شادی کردی ، شادی کے وقت مولانا رو رہے تھے کہ مجھ کو کیوں عورتوں میں لے جایا جا رہا ہے؟ 1903ء میں پندرہ برس کی عمر میں مولانا نے درس نظامی کی تکمیل کی ۔ فراغت کے بعد مولانا نے صحافت کی دنیا میں پہلا قدم ہفت روزہ احسن الاخبار کلکتہ ادارت سے اٹھایا جوکہ بعد ازاں الندوہ و وکیل سے ہوتا الہلال و البلاغ تلک گیا ۔ 1905ء میں مولانا نے اپنے والد کے ایک مرید سیتا خاں جو کہ طوائفوں کی معلمی سے توبہ کر کے مولانا خیرالدین سے بیعت ہوئے تھے سے موسیقی اور ستار بجانا چار پانچ سال تک سیکھتے رہے ۔ سگریٹ کا آغاز نا معلوم کب کیا لیکن فاطمہ بیگم کی روایات میں سترہ برس کی عمر میں مولانا کی میز پر سگریٹ کیس کا وجود دیکھا جا سکتا ہے ۔ غبار خاطر کے مطالعہ میں مولانا کی سگریٹ و ستار کے بند اب بھی اگر پڑھ لوں تو دل بہکا دینے کے وہی تاثیر رکھتے ہیں جو پہلی بار مطالعہ کرنے میں تھی ۔ اور پھر میری تو مولانا سے شناسائی ہی غبار خاطر سے ہوئ تو مولانا آزاد کا نام جب بھی زہن میں آیا ان دو علت ہائے نافرجام کا ساتھ یاد آنا بھی لازم ٹھہرا ۔ 15 اگست 1908ء کو مولانا کے والد مولانا خیر الدین صاحب چند ماہ کی علالت کے بعد انتقال کر گئے ۔ والد کے انتقال کے بعد سے الہلال کے ابتداء تک چار سال میں مولانا کی کوئی خاص معلومات موجود نہیں ، لیکن پھر الہلال کی ابتداء سے مولانا کی اپنی رحلت ( 22 فروری 1958ء ) تک کی زندگی اس قدر تعدد سے لکھی و پڑھی جا چکی ہے کہ اسے ایک بار پھر سے لکھنا اسراف قلم و قرطاس ہوگا اور قارئین کے وقت کا ضیاع ۔ میری امام الہند سے پہلی شناسائی کا واقعہ یہ ہے کے اس مختصر سے عرصۂ زیست میں امام الہند سے عقیدت و احترام کے اس رشتے کا جنم ماضی قریب میں ہی ہوا اور وہ بھی یوں کہ 7 جولائی 2022 شب آہنگ میں سجی اک محفلِ مُراختہ میں ساقیٔ شب نے غبار خاطر کا ایک نسخہ مجھے دیا اور مکتوبِ اول پڑھنے کو کہا ۔
؎ اے غائب از نظر کہ شدی ہم نشین دل
می بینمت عیان و دعا می فرستمت
“دل حکایتوں سے لبریز ہے ۔ مگر زبان درماندۂ فرصت کو یارائے سخن نہیں ۔ مہلت کا منتظر ہوں ۔
ابوالکلام ۔”
27 جون 1945ء کو نواب صدر یار جنگ کے نام لکھا ہو امام الہند کا مبنی بر یک شعر و یک سطر ِ نثر یہ وہ پہلا مکتوب تھا کہ جس کو پڑھتے ہی دل میں اچانک جنم لینے والے نجانے کتنے ہی متفرق خیالات کا امتزاج ایک لمحے میں ہی اس جملے کی صورت میں لبوں سے یوں ادا ہوا کہ “اچھا۔۔۔۔۔فصاحت در زباں نامِ ایں شے است۔”
مولانا آزاد سے عقیدت کی جو شمعِ افروختہ اس ایک مکتوب کو پڑھ کر دلِ من میں تاباں ہو چکی تھی اس کو مزید پروان چڑھانے کے لئیے مکمل کتاب کے مطالعہ کی ابتدا کر دی ۔
؎گاہے گاہے باز خواں ایں دفتر پارینه را
تازه خواھی داشتن گر داغ ہائے سینہ را
غبارِ خاطر کے مطالعہ کو تمام تک پہنچایا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ آج تک جتنی بھی ریختہ بصورت نثر یا نَثر مقفیٰ میرے کاسۂ چشم میں نقش پارینہ ہوئی تھی وہ اردوئے معلیٰ کے اس منصبِ جلیلہ تک نہ پہنچ پائی تھی ۔ میرے ذہن کے لیے یہ بات کچھ ایام تک شدید حیرت کا باعث رہی کہ مجھ جیسوں کے لئیے نثر کی یہ جو معراج ہے وہ ایک ابوالکلام کے لئیے صرف اپنے صدیق مکرم کے نام لکھے ہوئے مکاتیب سے زیادہ کچھ نہیں ۔ سو غیر اختیای طور پر دل میں مولانا کی شخصیت ایک گہرا اثر قائم کر گئی ، جو گاہے بگاہے الہلال ، البلاغ اور مولانا کی دیگر علمی و ادبی کاوشوں کو بھی مسلسل زیر نظر رکھنے سے مزید پختہ ہوتا گئی ۔ مولانا کی نثر کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کے اس میں علاوہ ازیں فصاحت ، بلاغت ، حسنِ انتخاب اشعار و درد دل کے ایک کمال درجہ جاذبیت موجود ہے جو کہ قاری کے ذہن پر ایک سِحر آفرینی کیے رکھتا ہے اور اس بات کا ثبوت بھی دیتا ہے کہ مولانا کے لیے کچھ بھی لکھتے وقت کسی پر اپنی فہم الکلامی کے رعب جمانے کا خیال نا آتا تھا بلکہ انکا یہ اسلوب اپنانا در اصل دل و دماغ میں ابلتے ہوئے علم کو قابو رکھنے کے لئے بأمر مجبوری تھا ۔
“غالب کی طرح مولانا بھی رعایت لفظی اور صنعت مراعاۃ النظیر کے نام سے کانوں پر ہاتھ دھرنے والے تھے ، لیکن آخر ذوق زبان کے مارے ہوئے تھے اور لطف بیان کے گھائل ۔ ایسے چٹخاروں سے بچ کر گھائل کہاں جا سکتے تھے ۔
غم اگرچہ جاں گسل ہے پر کہاں بچیں کے دل ہے
غالب ہی کی طرح جب کبھی اس شجر ممنوعہ کو ہاتھ لگایا تو جسد بے جان میں روح پھونک دی ، پتھر کو ہیرا کر دیا ، آبنوس کو کندن کی طرح چمکا دیا ، زرہ بے نوا کو آفتاب کی تپش و تابش دے دی” عبدالماجد دریا آبادی اگر میرے موجودگی میں یہ جملہ لکھتے تو میں بلا جھجھک یہ دعویٰ کر دیتا کے انہوں نے یہ جملہ میرے ذہن سے چرایا ہے ۔ اور وہ اگر میری کیفیت قلبی کو جان لیتے تو مجھے یہ سطریں بخوشی عطا کر دیتے ۔
حسرت موہانی نے یہ شعر
جب سے دیکھی ہے ابوالکلام کی نثر
نظم حسرت میں کچھ مزا نہ رہا
شاید مجھ جیسوں کے لئیے ہی کہا تھا ، راقم بھی مطالعہ کے ابتدائی دور میں میر ، غالب ، سودا ، مصحفی و درد کو پڑھنے کے بعد اگر ابوالکلام کو نہ پڑھتا تو شاید کبھی نثر لکھنا تو دور کی بات اسکی افادیت کا بھی معترف نا ہوتا ۔ یہ ابوالکلام ہی تھا کہ جس کی تحریر نے بتلایا کے اظہار درد دل کے لئیے نثر بھی اپنے دامن میں نظم جتنی ہی وسعت رکھتی ہے ۔ یعنی مولانا کا اسلوب تحریر اگر شورش کے قلم کی سجدہ گاہ ہے تو مجھ جیسوں کے لئیے تو واقعی یہ ایک معراج ہے کہ اس اسلوب کو حاصل کرنے کی حسرت لیے زندگی میں مسلسل لکھتے رہنا اور رہنا اور پھر بھی اس کو نا پاسکنا قبول ہے ۔
نشان منزل جاناں ملے ملے نہ ملے
مزے کی چیز ہے یہ ذوق جستجو میرا
راقم کا اب تک کا تجربہ بھی یہی ہے کہ اسلوب آزاد کو اختیاری طور پر اپنانا شاید کسی بھی طور ممکن ہی نہیں ۔ بلکہ یہ تو وہ مقام قبولیت ہے کہ جو صرف خدا کی طرف صدیوں میں کسی ایک فرد کو ملتا ہے اور بقیہ افراد کو اسے دیکھ کر صرف تڑپنا ہی نصیب ہوتا ہے ۔ بارگاہ وحدہ لاشریک میں دعا ہے کہ یہ معراج نا سہی لیکن کچھ ایسا نصیب ہو جائے دیکھنے والا اتنا تو سمجھ جائے کہ اسنے ابولکلام کو پڑھ رکھا ہے ۔ آمین!
قلم ایں جا رسید و سر بشکست۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply