• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کوٹ ادو کے مضافات میں قیامت صغری کا منظر اور انسانیت کا حقیقی مسیحا/ زبیر اسلم بلوچ

کوٹ ادو کے مضافات میں قیامت صغری کا منظر اور انسانیت کا حقیقی مسیحا/ زبیر اسلم بلوچ

جنوبی پنجاب کی زمین ہمیشہ اپنی زرخیزی اور حسن کی وجہ سے پہچانی جاتی رہی ہے۔ یہاں کے کھیت گندم اور کپاس کے لہلہاتے خوشوں سے لبریز رہتے ہیں، یہاں کے باغ خوشبوؤں سے مہکتے ہیں، یہاں کے کسان صبح دم مٹی کو چوم کر محنت کا سفر شروع کرتے ہیں۔ لیکن آج انہی کھیتوں میں پانی کی جھیلیں ہیں، انہی باغوں میں سوکھے پتے بکھرے ہیں اور انہی کسانوں کی آنکھوں میں آنسوؤں کے دریا۔ یہ وقت ہے جب زمین اور آسمان مل کر انسان کو آزما رہے ہیں۔ اور انسان اپنی بے بسی کے ساتھ کھڑا ہے۔
کوٹ ادو کے مضافات میں جو منظر ہے، اسے دیکھ کر دل کانپ جاتا ہے۔ کچے مکان اپنی بنیادوں سمیت بہہ گئے ہیں۔ چھتیں گر چکی ہیں۔ گاؤں کے گاؤں زیرِ آب آ گئے ہیں۔ کچھ لوگ اونچے ٹیلوں پر پناہ لیے بیٹھے ہیں، کچھ کسی رشتے دار کے گھر پہنچ گئے ہیں۔ لیکن سب کی حالت یکساں ہے۔ کھانے کو کچھ نہیں، پینے کو صاف پانی نہیں، بیمار بچوں کے علاج کی سہولت نہیں۔ ایک ماں کا بچہ بخار سے تپ رہا ہے اور وہ اپنی چادر بھگو کر اس کے ماتھے پر رکھتی ہے کہ شاید اس کا درد کم ہو جائے۔ ایک باپ اپنے بیٹے کو کندھوں پر اٹھائے پانی کے دھارے کو چیرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بزرگ اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایسی کٹھن آزمائش کے تصور سے بھی لرز اٹھتے ہیں۔ یہ سب وہ منظر ہیں جو الفاظ میں سمیٹے نہیں جا سکتے۔
سیلاب کے بعد سب سے بڑا خطرہ بیماریاں ہوتی ہیں۔ جب پانی کھڑا ہو جاتا ہے تو اس میں مچھر پیدا ہوتے ہیں۔ ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ بچوں کو اسہال، ہیضہ اور ٹائیفائیڈ جیسے امراض گھیر لیتے ہیں۔ حاملہ عورتیں سب سے زیادہ خطرے میں ہوتی ہیں کیونکہ ان کے لیے دوائی اور دیکھ بھال کا کوئی بندوبست موجود نہیں ہوتا۔ ادویات کی قلت نے لوگوں کو اپنی صحت کے لیے دعا کے سوا کچھ باقی نہ رہنے دیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر کوئی انسان اپنا سب کچھ چھوڑ کر میدان میں اترے تو وہ واقعی مسیحا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عمر فاروق بلوچ کا کردار یہاں سب سے نمایاں ہے۔ وہ دن رات متاثرین کے درمیان ہیں۔ انہوں نے اپنے کلینک کو ایک فلاحی کیمپ میں بدل دیا ہے۔ جگہ جگہ فری میڈیکل کیمپ لگا کر وہ لوگوں کو نہ صرف دوائیاں فراہم کر رہے ہیں بلکہ ان کے دلوں کو بھی سہارا دے رہے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں موجود اسٹیتھو اسکوپ محض طبی آلہ نہیں بلکہ امید کا ایک نشان ہے۔ ان کا ہر مسکراہٹ بھرا لفظ مریضوں کے لیے دوا کا کام کرتا ہے۔
اصل طاقت بندوق میں نہیں، محبت میں ہے۔ اصل قیادت کرسی میں نہیں، خدمت میں ہے۔ اور ڈاکٹر عمر فاروق بلوچ نے یہ دونوں سچائیاں ایک ساتھ ثابت کی ہیں۔ وہ اپنی جیب سے دوائیاں خریدتے ہیں، اپنے ساتھی ڈاکٹروں اور نوجوانوں کو ساتھ ملا کر طبی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ جن علاقوں میں کوئی سرکاری ایمبولینس نہیں پہنچ سکی وہاں انہوں نے خود پہنچنے کی ہمت دکھائی۔ جو مریض اسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ سکتے تھے، انہیں انہوں نے اپنے ہاتھوں سے سہارا دیا۔
یہ وہ وقت ہے جب ہر شخص اپنی جان اور گھر بچانے میں لگا ہوا ہے، لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کی زندگیاں بچانے کو اپنا مقصد بنا لیتے ہیں۔ ڈاکٹر عمر فاروق بلوچ انہی میں سے ہیں۔ وہ محض ڈاکٹر نہیں بلکہ انسانیت کے سفیر ہیں۔ ان کی موجودگی نے کوٹ ادو کے باسیوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ وہ اکیلے نہیں۔
سیلاب نے جہاں بستیوں کو اجاڑا ہے وہاں ایک اور حقیقت بھی بے نقاب کی ہے، ہماری انتظامیہ کی غفلت اور نااہلی۔ ڈپٹی کمشنر اور انتظامیہ کی کارکردگی محض اخباری بیانات تک محدود رہی۔ کاغذی دعوے تو بہت ہوئے لیکن عملی اقدامات نہ ہو سکے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب حکومت کو فوری طور پر امدادی کیمپ لگانے تھے، خوراک اور ادویات پہنچانی تھیں، متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا تھا۔ لیکن افسوس کہ یہ سب کچھ نہ ہو سکا۔ اور جہاں ریاست ناکام ہوئی وہاں ایک فرد نے اپنی ذمہ داری نبھائی۔
یہی وہ فرق ہے جو انسانیت کی تاریخ کو بدل دیتا ہے۔ بڑے بڑے حکمران اپنی سلطنتوں کے باوجود یاد نہیں رہتے لیکن وہ عام انسان جو مشکل وقت میں کسی کی مدد کرے، وہ تاریخ میں امر ہو جاتا ہے۔
جنوبی پنجاب کے اس المیے نے ہمیں باور کرایا کہ قدرتی آفات محض حادثے نہیں بلکہ تنبیہ ہوتی ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ ہماری منصوبہ بندی کتنی کمزور ہے، ہمارا نظام کتنا ناقص ہے، اور ہم نے اپنے وسائل کو کس طرح ضائع کیا ہے۔ اگر آج ہمارے پاس مضبوط ڈیمز ہوتے، بہتر نکاسی آب کا نظام ہوتا، اور بروقت اقدامات ہوتے تو شاید یہ تباہی اس قدر ہولناک نہ ہوتی۔ لیکن ہم ہمیشہ حادثے کے بعد جاگتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم کب تک ایسے جاگتے رہیں گے؟ کب تک اپنے لوگوں کو بے سہارا چھوڑتے رہیں گے؟ کب تک چند درددل رکھنے والے لوگوں کی انفرادی کوشش کے سہارے معاشرہ چلتا رہے گا؟ یہ وقت ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داری کا احساس کریں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے افراد کو اپنی ٹیم کا حصہ بنائے، ان کے تجربے سے فائدہ اٹھائے، اور انہیں وہ وسائل فراہم کرے جو وہ عوام تک پہنچا سکیں۔
جنوبی پنجاب کے اس سانحے کو بھلانا ممکن نہیں۔ آنے والے وقت میں جب مورخ اس دور کو لکھے گا تو وہ یقینا انتظامیہ کی نااہلی اور عوام کی بے بسی کا ذکر کرے گا۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی لکھے گا کہ ایک شخص تھا جس نے مشکل وقت میں اپنی قوم کا ساتھ دیا۔ ایک شخص تھا جس نے اپنے پیشے کو محض کاروبار نہیں بلکہ عبادت بنایا۔ ایک شخص تھا جس نے انسانیت کے دیے کو روشن رکھا۔
یہ تحریردراصل ایک فریاد بھی ہے، ایک التجا بھی۔ یہ ان بچوں کی طرف سے ہے جو بیماری سے کراہ رہے ہیں۔ یہ ان ماں باپ کی طرف سے ہے جو اپنے اجڑے گھروں کے ملبے پر بیٹھے ہیں۔ یہ ان کسانوں کی طرف سے ہے جن کی محنت کا پھل پانی بہا لے گیا۔ یہ آواز ہے ان سب کی جنہیں ریاست نے بھلا دیا۔
معاشرے کا اصل حسن اس کے ہیروز میں ہوتا ہے۔ اور ہیرو وہ نہیں جو کرسیوں پر بیٹھے ہوں، بلکہ وہ ہیں جو پانی میں ڈوبتے انسان کو بچانے کے لیے خود پانی میں اتر جائیں۔
یہ بات صرف آج کی نہیں، آنے والے کل کے لیے بھی ہے۔ تاکہ تاریخ یاد رکھے کہ قیامت صغری کے اس منظر میں بھی ایک شخص نے چراغ جلایا تھا۔ اور وہ چراغ کبھی بجھنے والا نہیں۔

Facebook Comments

زبیر اسلم بلوچ
تعارف : زبیر اسلم بلوچ اپنی طرز کے منفرد دانشور اور ادیب ہیں۔زبیر اسلم کا رضوان ظفر گورمانی کا رشتہ ایسے ہی ہے جیسے انعام رانا اور سیدی مہدی بخاری کا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply