یہ ملاقات نہیں تھی، یہ برف پوش فضاؤں میں جمتی ہوئی تاریخ کا ایک نیا باب تھا۔ الاسکا کی یخ بستہ ہواؤں میں جب دنیا کی دو سب سے بڑی طاقتوں کے سربراہ آمنے سامنے بیٹھے تو ایسا لگا جیسے سرد جنگ کے مردہ لاشے کو قبر سے نکال کر دوبارہ میز پر بٹھا دیا گیا ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی مسکراہٹ اور ولادیمیر پیوٹن کی خاموشی گویا برف کے تودوں کے درمیان چھپی ہوئی آگ تھی، جو کسی بھی وقت بھڑک سکتی تھی۔ امریکی بمبار طیارے کی گرج، سرخ قالین کی چمک اور عالمی میڈیا کے کیمرے، سب مل کر ایک ایسے منظر کو تراش رہے تھے جو سفارتکاری سے زیادہ طاقت کے کھیل کی یاد دلا رہا تھا۔ سوال یہ تھا کہ یہ منظرنامہ امن کی صبح کا آغاز ہے یا تاریخ کا ایک اور ادھورا وعدہ؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات ایک ایسا واقعہ تھا جس پر دنیا کی نظریں جمی ہوئی تھیں۔ اس ملاقات کو بعض حلقے امن کی نئی کوشش قرار دے رہے تھے تو بعض نے اسے ایک ناکام شو کے طور پر دیکھا۔ عالمی میڈیا نے اس پر گہری توجہ دی اور ہر خبر رساں ادارہ اس کے نتائج پر تجزیے کرتا رہا۔ امریکی تاریخ میں شاذونادر ہی کسی روسی صدر کو امریکی سرزمین پر اس انداز سے خوش آمدید کہا گیا ہے، اور یہ عمل بذاتِ خود ایک علامتی کامیابی تھا۔
پیوٹن کے لیے پروٹوکول غیر معمولی اور غیر روایتی تھا۔ انہیں امریکی سرزمین پر نہ صرف فوجی دستوں کی قطاروں، سرخ قالین اور دونوں ملکوں کے قومی ترانوں کے ذریعے خوش آمدید کہا گیا بلکہ ایک اور علامتی اور حیران کن منظر بھی دیکھنے کو ملا۔ امریکی فضائیہ کے جدید بمبار طیارے نے فضاء میں پرواز کر کے سلامی دی۔ یہ وہی طیارے ہیں جو امریکہ کی ایٹمی طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ اس فضائی سلامی نے اس ملاقات کو ایک عسکری و سفارتی امتزاج کا رنگ دیا، اور دنیا بھر کے ناظرین کے لیے یہ ایک غیر متوقع پیغام تھا کہ امریکہ، اپنے سب سے بڑے عسکری ہتھیار کے ذریعے، روسی صدر کو عزت و تکریم دے رہا ہے۔
یہ واقعہ محض ایک رسمی پروٹوکول نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک سیاسی اور نفسیاتی پہلو بھی چھپا ہوا تھا۔ امریکی میڈیا اور بین الاقوامی مبصرین نے اسے اس بات کی علامت قرار دیا کہ ٹرمپ روس کو نہ صرف مذاکرات کی میز پر برابری کی سطح پر بٹھانا چاہتے ہیں بلکہ اسے طاقت کے کھیل میں ایک تسلیم شدہ قوت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ روسی میڈیا نے بھی اس استقبال کو بھرپور انداز میں دکھایا اور اسے روس کی عظمت کی بحالی کا عنوان دیا۔
یہ اجلاس اینکریج کے جوائنٹ بیس ایلمنڈورف رچرڈسن میں منعقد ہوا جہاں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔امریکی وفد میں وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، سی آئی اے ڈائریکٹر جان راتفلیف، وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز، پریس سیکریٹری کیرولائن لیویت اور خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف شامل تھے۔ دوسری جانب پیوٹن کے ہمراہ صرف حکومتی عہدیدار ہی نہیں بلکہ کچھ روسی کاروباری شخصیات بھی شریک ہوئیں۔ یہ شرکت اس بات کی غمازی کرتی تھی کہ روس اپنے سفارتی ایجنڈے کو محض سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی رنگ دینا چاہتا ہے تاکہ دنیا کو پیغام دیا جا سکے کہ روس تنہا نہیں بلکہ عالمی تجارت و سرمایہ کاری میں بھی جگہ رکھتا ہے۔
ابتدائی توقع یہ تھی کہ دونوں رہنما یوکرائن کی جنگ پر کسی حد تک پیش رفت کریں گے اور شاید کسی وقتی جنگ بندی پر دستخط ہو جائیں گے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ مذاکرات کے دوران اگرچہ ٹرمپ نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا لیکن اجلاس کے اختتام پر وہ اپنے اسی مطالبے سے پیچھے ہٹ گئے اور اس کے بجائے وسیع تر امن معاہدے کی بات کرنے لگے۔ اس تبدیلی نے امریکی اتحادیوں کو حیران کر دیا اور نیٹو کے کئی ممالک نے اس پر تشویش کا اظہار کیا۔ روس نے بدلے میں یہ تجویز رکھی کہ یوکرائنی افواج ڈونباس کے کچھ علاقوں سے انخلا کریں تو روس محاذ پر وقتی طور پر پیش قدمی روک سکتا ہے، لیکن کوئی باضابطہ معاہدہ طے نہیں پایا۔ یوں اس ملاقات کے نتائج محض زبانی وعدوں اور سفارتی جملوں تک محدود رہے۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ ملاقات عملی طور پر ناکام رہی۔ کوئی نیا معاہدہ نہ ہوا، کوئی جنگ بندی طے نہ پائی، اور نہ ہی کوئی ایسا لائحہ عمل سامنے آیا جسے دنیا ایک سفارتی پیش رفت قرار دے سکے۔ البتہ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ پیوٹن کے لیے یہ ایک علامتی فتح تھی۔ انہوں نے امریکی سرزمین پر قدم رکھ کر ایک ایسی تصویر دنیا کو دکھائی جو روس کے عالمی تنہائی کے بیانیے کو کمزور کرتی ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا پر پیوٹن کی تصاویر اور تقاریر چھا گئیں اور یہ تاثر ابھرا کہ روس اب بھی ایک بڑی طاقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ٹرمپ کے لیے یہ ملاقات زیادہ فائدہ مند ثابت نہ ہوئی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی پوزیشن سے پیچھے ہٹ کر اپنے اتحادیوں کو مایوس کیا۔ یورپ میں یہ تاثر پھیل گیا کہ امریکہ روس کے سامنے کمزور رویہ اختیار کر رہا ہے۔ نیٹو کے کئی ممالک نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اس قسم کی ملاقاتیں یوکرائن کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں کیونکہ اس سے روس کو مزید جرات ملتی ہے۔ یورپی یونین کے رہنما اس نتیجے پر پہنچے کہ امریکہ کی قیادت میں اب پہلے جیسا اعتماد باقی نہیں رہا۔
پاکستان پر اس ملاقات کے اثرات بالواسطہ ہیں۔ بظاہر پاکستان اس اجلاس کا فریق نہیں تھا لیکن عالمی طاقتوں کے توازن میں تبدیلی پاکستان کے لیے بھی معنی رکھتی ہے۔ اگر امریکہ روس کے قریب ہوتا ہے تو خطے میں چین اور پاکستان کے لیے نئی سفارتی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے چین کے ساتھ اسٹریٹیجک پارٹنرشپ رکھتا ہے، اور اگر روس عالمی قبولیت حاصل کرتا ہے تو وہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں نئے اقتصادی و دفاعی معاہدے کر سکتا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک موقع بھی بن سکتے ہیں اور چیلنج بھی۔ اس کے علاوہ، اگر روس توانائی کے شعبے میں نئی راہیں کھولتا ہے تو پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ ایک اقتصادی موقع ہوگا، بشرطیکہ عالمی پابندیاں نرم ہوں۔
یہ ملاقات اس بات کا اشارہ ہے کہ دنیا ایک نئے طاقت کے کھیل میں داخل ہو رہی ہے۔ اگر روس نے امریکہ سے جزوی طور پر رعایتیں حاصل کر لیں تو اس کا مطلب ہے کہ یوکرائن پر دباؤ بڑھے گا اور شاید مستقبل میں اسے مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ لیکن اگر یہ محض ایک سیاسی شو ثابت ہوا تو آنے والے دنوں میں روس مزید جارحانہ حکمتِ عملی اپنائے گا۔ کسی بھی صورت میں دنیا کے باقی ممالک کو اپنی پالیسیوں پر ازسرِ نو غور کرنا پڑے گا۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال نئی نہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے بلکہ مفادات ہوتے ہیں۔ جس طرح امریکہ اور روس اپنے قومی مفاد کے لیے اپنی پوزیشن بدل سکتے ہیں، اسی طرح پاکستان کو بھی اپنی پالیسیوں کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ اس ملاقات نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ دنیا میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سفارتکاری کو زیادہ فعال اور لچکدار بنائے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ الاسکا کی ملاقات نے دنیا کو کوئی ٹھوس امن نہ دیا، مگر یہ روس کے لیے ایک بڑی علامتی کامیابی ضرور ثابت ہوئی۔ امریکہ اپنے اتحادیوں کے سامنے کمزور دکھائی دیا، اور عالمی برادری نے دیکھ لیا کہ ٹرمپ اپنی ہی بات سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ عالمی سیاست میں اپنی جگہ مستحکم کرنے کے لیے نئے سفارتی راستے تلاش کرے اور آنے والے وقت کی تیاری کرے۔
یوں الاسکا کی برف میں جمی یہ ملاقات اپنے پیچھے سوالوں کا طوفان چھوڑ گئی۔ دنیا نے دیکھا کہ طاقتوروں کی مسکراہٹیں بھی دھوکہ ہو سکتی ہیں اور بڑے بڑے معاہدے بھی لفظوں کے دھوئیں میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ پیوٹن اپنے وطن لوٹے تو ان کے کندھوں پر ایک علامتی فتح تھی، جبکہ ٹرمپ اپنے اتحادیوں کے سامنے دفاعی پوزیشن میں کھڑے دکھائی دیے۔ نیٹو میں بےچینی، یورپ میں بدگمانی اور ایشیا میں نئی تشویش نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ اجلاس امن کا سنگ میل نہیں بلکہ عالمی سفارتکاری کی وہ گتھی ہے جو اور بھی الجھ گئی ہے۔ پاکستان کو اس کھیل میں اب کھلاڑی بننا ہو گا کیونکہ تاریخ نے پھر سے بتا دیا ہے کہ جو قوم وقت کے ساتھ اپنی سمت نہیں بدلتی، وہ طاقت کے اس شطرنج پر محض مہرہ بن کر رہ جاتی ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں