جب بونیر کی وادیوں میں سیلاب کا پانی اترا تو اس نے نہ صرف گھروں اور کھیتوں کو تباہ کیا، بلکہ انسانیت کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ منظر دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے ہمیں ایک بار پھر ہماری غلطیوں کا احساس دلانے کے لیے سخت سبق دیا ہو۔ درحقیقت، یہ محض ایک قدرتی آفت نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی غفلت اور ماحولیاتی بے حسی کا نتیجہ ہے جو آج ہمارے سامنے ایک المناک صورت اختیار کر گیا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے ہم نے بونیر کے حسین پہاڑی علاقوں میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی ہے۔ درختوں کے بغیر یہ پہاڑ اب ایسے ہیں جیسے بغیر اینٹوں کے دیوار۔ جب بارش ہوتی ہے تو مٹی کو تھامنے والا کوئی نہیں ہوتا، اور یوں پانی تیزی سے نیچے آکر تباہی مچا دیتا ہے۔ دریاؤں اور ندی نالوں پر غیرقانونی قبضے نے اس مسئلے کو اور بڑھا دیا ہے۔ جب پانی کو اپنا قدرتی راستہ نہیں ملتا تو وہ رکاوٹوں کو توڑتا ہوا آبادیوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ہماری اپنی بنائی ہوئی مصیبت ہے۔
اس سارے المیے میں اگر کچھ تسلی دینے والی بات ہے تو وہ ہمارے معاشرے کے ان گمنام ہیروز کا کردار ہے جو مشکل کے اس لمحے میں سامنے آئے ہیں۔ YDA کے ڈاکٹروں نے دن رات ایک کر کے زخمیوں کا علاج کیا۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے مشکل ترین حالات میں بھی متاثرین تک خوراک اور ادویات پہنچانے کا بیڑا اٹھایا۔ مقامی نوجوانوں نے کشتیوں کے ذریعے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالا۔ یہ وہ روشن چہرے ہیں جو ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔
لیکن صرف یہ کافی نہیں۔ ہمیں اس مسئلے کے بنیادی اسباب کو سمجھنا ہوگا اور ان کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے تو جنگلات کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کرنی ہوگی۔ درخت لگانے کے منظم پروگرام شروع کرنے ہوں گے۔ دریاؤں اور ندی نالوں سے غیر قانونی قبضے ہٹانے ہوں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے ڈیمز اور نکاسی آب کے جدید نظام تعمیر کرے۔
ہم عام شہری بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مالی طور پر مستحکم لوگ امدادی فنڈز میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ نوجوان رضاکارانہ خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ ہر شخص اپنے حلقہ اثر میں ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی پھیلا کر ہم بہت سے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔
یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بونیر کا یہ سیلاب کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو آنے والے سالوں میں ایسے واقعات بار بار ہوں گے، بس مقامات بدلتے رہیں گے۔ قدرت کے ساتھ ہم آہنگی میں رہنا ہی ہماری بقا کی ضمانت ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور پائیدار ماحول چھوڑنا ہوگا۔
آج کا دن سوچنے اور عمل کرنے کا ہے۔ ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا ہوگا اور ان غلطیوں کو درست کرنا ہوگا جن کی وجہ سے ہمارے ہم وطنوں کو اس قدر تکلیف اٹھانی پڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمت عطا فرمائے کہ ہم اس آزمائش میں صبر کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح نبھائیں۔ آمین۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں