پاکستان کی سیاسی و عسکری تاریخ میں قبائلی علاقوں اور خیبرپختونخواہ کا باب ایک طویل اور کڑوا سچ بیان کرتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں اس خطے میں اکیس سے زائد بڑے فوجی آپریشنز کیے گئے۔ ہر بار یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ آخری کارروائی ہوگی، دہشت گردی جڑ سے ختم ہوگی اور امن قائم ہو جائے گا۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ نہ دہشت گردی ختم ہوئی، نہ پائیدار امن قائم ہوا۔ اس کے برعکس لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، معاشرتی ڈھانچہ بکھر گیا اور متاثرہ علاقوں کی ترقی دہائیوں پیچھے چلی گئی۔
ان آپریشنز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انہیں اکثر صرف سیکیورٹی کے تناظر میں نہیں بلکہ وسائل اور جغرافیائی کنٹرول کی جنگ میں بھی استعمال کیا گیا۔ آئینِ پاکستان واضح کرتا ہے کہ علاقائی وسائل پر پہلا حق ان کے مکینوں کا ہے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ معدنیات، بجلی کی رائلٹی اور دیگر معاشی وسائل کی منصفانہ تقسیم کبھی مکمل طور پر عمل میں نہیں آئی۔ مرج ایریاز کو آج تک وہ رائلٹی اور ترقیاتی فنڈز نہیں ملے جو آئینی طور پر ان کا حق ہیں۔
آئین کا آرٹیکل 19 اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، لیکن عملی طور پر فوج یا اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرنے والوں کو سنسرشپ، گرفتاری اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 9 ہر شہری کو حقِ حیات دیتا ہے، مگر شورش زدہ علاقوں میں یہ حق سب سے زیادہ پامال ہوتا ہے۔ اس دوہرے معیار نے نہ صرف عوامی اعتماد کو نقصان پہنچایا بلکہ ریاست اور شہریوں کے درمیان خلیج کو گہرا کیا۔
سیاسی سطح پر بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ مینڈیٹ کی چوری، عدالتی فیصلوں میں مداخلت، اور مخالف جماعتوں کو انتخابی میدان میں نقصان پہنچانے کے الزامات پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ 2018 میں پی ٹی آئی پر دھاندلی کے الزامات لگے، مگر عدالتی طور پر ثابت نہ ہو سکے۔ اس کے برعکس 2024 میں پی ڈی ایم حکومت پر منظم دھاندلی اور سیاسی انجینئرنگ کے الزامات سامنے آئے، مگر طاقت کے اصل مراکز پر کوئی احتساب نہ ہوا۔
یہ سب کسی وقتی حادثے یا انفرادی غلطی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم اور دیرینہ نظام کا حصہ ہے جسے ہم اسٹیبلشمنٹ کے نام سے جانتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ محض ایک ادارہ یا فرد نہیں بلکہ ایک طاقتور ڈھانچہ ہے جو عوامی مینڈیٹ سے بالاتر ہو کر فیصلے کرتا ہے، سیاسی جماعتوں کو توڑتا اور بناتا ہے، میڈیا اور عدلیہ کو دباؤ میں رکھتا ہے، اور پارلیمان کو محض ایک رسمی ادارہ بنا دیتا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج محض حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ اس نظام کی تبدیلی ہے جو عوام سے ڈرتا ہے، ان کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتا اور طاقت کو چند ہاتھوں میں مرتکز رکھتا ہے۔ جب تک ریاستی ادارے غیر جانبداری اور آئین کی بالا دستی کو تسلیم نہیں کرتے، نہ امن قائم ہو گا، نہ ترقی آئے گی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ طاقت کے اصل مراکز پر سوال اٹھائے جائیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ جب 22 کروڑ عوام ایک سمت میں بڑھنا چاہتے ہیں تو چند طاقتور لوگ ان کے فیصلے کیوں بدل سکتے ہیں؟ یہ وہ وقت ہے جب سچ بولا جائے، سوال اٹھائے جائیں اور حقیقی جمہوریت کی طرف بڑھا جائے، ورنہ آنے والی نسلیں یہی پوچھیں گی کہ جب سب کچھ واضح تھا، ہم کیوں خاموش تھے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں