غزہ کے ساحل پر جہاں لہروں کی آواز ہوائی جہازوں کی سیٹیوں کے ساتھ گھل مل جاتی ہے, اور سمندری ریت اجتماعی قبروں کی دھول میں گھل مل جاتی ہے، سرخ قالین بچھا دیا گیا تھا، یہ کسی سربراہ مملکت یا کسی فلمی ستاروں کے چلنے کے لیے بھی نہیں، بلکہ ایک گدھے کے چلنے کے لیے، اس لمحے وہ مقام لوگوں کے ہجوم سے گھرا ہوا تھا۔ بظاہر یہ ایک ایونٹ تھا ایک بلیک کامیڈی کا ایونٹ ، جسے فلسطینی فنکاروں نے گدھے کے اعزاز میں ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا، یہ ان فنکاروں کا اپنے بے گھر ہونے، بھوک اور موت کے سفر کا اظہار تھا۔
اس تقریب کو فنکاروں اور دانشوروں کے ایک بڑے ہجوم کے درمیان فلمایا گیا تھا، جس کا مقصد اسے “7 اکتوبر کا گدھا” کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم کی تیاری کے لیے استعمال کرنا تھا، جس میں غــزہ میں جنگ کے دوران گدھوں کی عزت افزائی کی گئی تھی۔ یہ واقعہ اسرائیلی میڈیا کی کوریج کے بعد شروع ہوا تھا، جس میں اســـرائیلی فوج کی طرف سے جنگ کے دوران غزہ سے متعدد گدھوں کو بچانے اور انہیں “جانوروں کے تحفظ” کے مقصد سے اسرائیلی تنظیموں کو منتقل کیا گیا تھا۔
اسرائیلی بیانیہ ان دعوؤں پر تھا کہ اسرائیل گدھوں کو جنگ سے بچانے کے لیے ان کی نقل و حمل میں دلچسپی رکھتا تھا اور ان کی بیماریوں، غذائی قلت اور نفسیاتی بیماریوں کا علاج کرتا تھا جو جنگ کے دوران انھیں متاثر کرتی تھیں، حیرت یہ تھی کہ یہی اسرائیلی فوجی غزہ کے لوگوں کے ساتھ “بد سلوکی” اور قتل و غارت کرنے پر کوئی ہمدردی نہیں رکھتے ۔ یہ ایونٹ صرف مذاق نہیں تھا، یہ بلیک کامیڈی اور ننگی حقیقت کا مرکب تھا۔ جب انہوں نے گدھے کو سرخ قالین پر چڑھایا اور ننگے پاؤں گدھے کو صاف ستھرا لباس پہنایا تو وہاں کے فنکار ایک وجودی سوال پوچھ رہے تھے کہ:
اس دنیا میں عزت کا مستحق کون ہے؟”
یہ ایونٹ فلسطینی مصور فنکار، ثقافتی کارکن، اور فلم کے پروڈیوسر معاتز الحبش کی کاوش تھی جنہوں نے اس تقریب کو دستاویزی شکل دی، اور ہدایت کار مصطفیٰ النبیح، جو اس پروجیکٹ میں اس کے ساتھی تھے۔ معاتز نے سنہء 2022 میں جنگ سے پہلے اسرائیل کی جانب سے پیش کردہ ان رپورٹس پر یہ تنقیدی عمل کیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے پچاس گدھوں کو غزہ میں داخل ہونے سے روکا تھا، یہ کیونکہ فلسطینی گدھوں کے ساتھ برا سلوک کر رہے ہیں اور ان کی کھالیں تجارت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
معاتز کی اس سرگرمی کا مقصد عالمی تضاد کو بے نقاب کرنا تھا، کیونکہ یہ سب ہے کہ “اسرائیلی اور یورپی تنظیمیں جو غـزہ سے گدھوں کو ‘تحفظ’ کےنام پر بچانے کا دعویٰ کرتی تھیں، جب کہ وہاں روزانہ سینکڑوں فلسطینیوں کو مارا جاتا ہے۔ وہ دنیا جو جانوروں کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے اور ان انسانوں کی نسل کشی پر آنکھیں بند کر لیتی ہے، جس کی پوری دنیا ایک قدر کھو چکی ہے۔” اس ایونٹ میں “گدھے کی عزت کرنا اس اخلاقی گراوٹ کو بے نقاب کرنے کا ایک طریقہ تھا، اور یورپیوں کو اپنے تضادات کا سامنا کرنے پر مجبور کرنے کا ایک طریقہ تھا۔ یہ فنکار انہیں بتانا چاہتے تھے۔
اگر آپ کو فلســطینی انسان نہیں دکھتے تو کیا آپ اس گدھے کو دیکھتے ہیں جو ان کی خدمت کرتا ہے؟”
سب سے زیادہ افسوس ناک خبر یہ تھی کہ اس فلم کی شوٹنگ کے وقت 70 سے زائد فلسطینی آٹے کی تلاش کے دوران شہید کر دیے گئے، گدھے کے اعزاز میں پینٹنگ بنانے والی آرٹسٹ آمنہ السلمی کو بعد میں شہید کر دیا گیا۔
فلسطینی فنکار ایک کھلے گیلوٹین کے درمیان زندگی کا ایک لمحہ تخلیق کر رہے تھے۔”
یہ فلم بنانے کا عمل تقریباً ایک مہم جوئی کی طرح تھا، جو موت سے بھرا ہوا تھا۔ اس فلم بنانے کی پہلی ابتدائی کوشش میں گدھوں کے مالکان نے آنے سے انکار کر دیا تھا، کیونکہ گدھوں کو قلت کے وقت سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ دوسری کوشش میں فنکاروں نے ایک غیر متعلقہ فلم کے فوٹو گرافر اور کچھ ساتھیوں کو موت کے منہ میں جاتے دیکھا، کیونکہ یہ جس جگہ یہ فلم کے بنانے کی تیاری کر رہے تھے، وہاں سے انہیں فوری طور پر نکلنے کی وارننگ ملی کیونکہ یہ بمباری کا ہدف ہو سکتا ہے کیونکہ
یہ غزہ ہے جہاں ہر قدم زندگی یا موت کا تجربہ تھا”۔”
یہ فلم مکمل کرنا آسان نہ تھا یہاں گدھا صرف ایک فنکارانہ موضوع نہیں تھا، بلکہ ایک داستان کی علامت ہے جسے وہ فنکار ہم تک پہنچانا چاہتے تھے، کہ وہ فلسطینی ایسے لوگ ہیں جو فنا ہو رہے ہیں اور پھر بھی جو موت کو آرٹ میں تبدیل کرنے سے باز نہیں آتے، اور اپنی آواز کو سب سے آسان مخلوق کے ذریعے بھی دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تقریب محض خراج تحسین سے بالاتر ہے,ان فنکاروں نے دنیا کو مجبور کیا کہ وہ فلسطینیوں کو ایک غیر متوقع زاویے سے دیکھیں۔ گدھے کی عزت نے انسانوں کو نظر انداز کرتے ہوئے جانوروں کے ساتھ منتخب ہمدردی کی مضحکہ خیزی کو بے نقاب کیا۔ ان کا واضح پیغام تھا
کہ ہم فلسطینی انسان خبروں پر نمبر نہیں ہیں, بلکہ ہم زندہ جیتے جاگتے وجود ہیں، ہم ماتم کررہے ہیں۔”
یہ ریڈ کارپٹنگ گدھے کو عزت دینے سے زیادہ بے بسی اور اس عہد کی سب سے بڑی جنوسائڈ کے مقابل آخری حربے کے طور پر اک تصوراتی فن اور علامتی مزاحمت ہے۔ جسے انہوں نے اپنے فلسطینی بیانیے کو اسرائیلی بیانیے کے سامنے مسلط کرنے کے لیے آرٹ کا استعمال کرتے ہوئے پیش کیا یوں گدھا دنیا کے ساتھ بحث کرنے کا موضوع بن جاتا ہے، یہ کنسرٹ صرف ایک تہوار نہیں ہے، بلکہ وقار کی پکار ہے، اس زندگی کے لیے جو موت کے باوجود دھڑکتی رہتی ہے۔ اس ایونٹ نے اس تباہی کے درمیان فلسطینیوں کے لئے انسانیت کو بحال کیا ہے۔”
ان فنکاروں کا کہنا ہے کہ ہمیں ایک ناقابل برداشت جذباتی ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن جب ہم نے گدھے کی عزت کی تو ہمیں ایسا لگا جیسے ہم اپنے انسانی نقطہ نظر کے لیے کھڑے ہیں۔ جب ہم نے گدھے کو سرخ قالین پر چلتے دیکھا تو ہمارے آنسو بہنے لگے۔ ہم نے سوچا:
آخر فلسطینیوں کے ساتھ گدھے جیسا سلوک بھی کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیا ہماری زندگیاں اتنی بیکار ہو گئی ہیں؟”
معاتز نے اک انثرویو میں کہا کہ
یہ افسوسناک ہے کہ مجھے دنیا کو ہماری طرف دیکھنے کے لیے دھوکہ دینا پڑا۔ میں نے طنز کا انتخاب کیا کیونکہ یہ وہ زبان ہے، جسے یورپی لوگ سمجھتے ہیں، جب وہ انسانوں سے زیادہ جانوروں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ یہ تکلیف دہ ہے کہ ہمیں ایک گدھے کو سجانا پڑتا ہے، اور اسے سرخ قالین پر صاف لباس پہنانا پڑتا ہے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ ہم زندہ ہیں اور یہ ثابت کرنے کے لئے ہمارے پاس آخری چیز ہے۔
” ضمیر جس نے اپنی انسانیت کھو دی ہے، میرا مشن یہ ہے کہ وہ دیکھیں جو دوسروں کو نظر نہیں آتا، غصے کو ایک علامتی عمل میں بدلنا، یہاں تک کہ گدھے کی عزت کرنا ہمارا غصہ نکالنے اور دنیا کو بے نقاب کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں