خوشامد اور عورت کا امتحان/ حسنین نثار

ملازمت کرنے والی خواتین اور تعلیم حاصل کرنے والی طالبات آج کے دور میں معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں۔ وہ محنت، ذہانت اور صلاحیت کے بل بوتے پر اپنا مقام بناتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے ایسے ماحول میں قدم رکھتی ہیں جہاں بعض لوگ ان کے خلوص، سادگی یا اعتماد کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔ کچھ غیر محرم مرد اپنی میٹھی باتوں، خوشامد اور بناوٹی تعریف کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ ان خواتین یا طالبات کو اپنی طرف مائل کر سکیں۔ یہ عمل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ ایک نفسیاتی جال ہے جو آہستہ آہستہ شکار کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

دفاتر، تعلیمی اداروں یا کسی بھی پروفیشنل ماحول میں ایک حد تک عزت دینا، تعریف کرنا اور خوش اخلاقی سے پیش آنا ایک اچھی بات ہے، لیکن جب یہ سب کسی کے دل کو بہکانے، نیت خراب کرنے یا ذاتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کیا جائے تو یہ اخلاقی گراوٹ اور کردار کی پستی کی علامت ہے۔ بعض مرد اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ جاب کرنے والی عورت یا طالبہ دن بھر محنت کرتی ہے، تھکن اور ذہنی دباؤ کا شکار رہتی ہے، اور ایسے میں چند میٹھی باتیں یا مسلسل تعریف اس کے دل میں نرم گوشہ پیدا کر سکتی ہیں۔ وہ اس کمزوری کو پہچان کر اپنے مطلب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

خوشامد ایک نفسیاتی ہتھکنڈہ ہے۔ اس میں تعریف سننے والا شخص لاشعوری طور پر اس تعریف کرنے والے کے قریب محسوس کرنے لگتا ہے۔ مرد اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور بار بار ایسی باتیں دہراتے ہیں جیسے “آپ تو سب سے الگ ہیں”، “آپ کا انداز بہت خاص ہے”، “آپ کے بغیر یہ جگہ خالی لگتی ہے”۔ بظاہر یہ جملے بے ضرر لگتے ہیں، مگر اصل میں یہ ایک جال ہوتا ہے جو دھیرے دھیرے اعتماد اور حدود کو کمزور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں غیر محرم مرد و عورت کے تعلقات کے آداب اور پردے کی حدود کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے تاکہ یہ فتنہ پیدا نہ ہو۔

تعلیمی اداروں میں بھی بعض لڑکیاں ایسے مرد اساتذہ یا ساتھی طلبہ کا سامنا کرتی ہیں جو عزت دینے کے بہانے یا ہمدردی کے نام پر قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جاب کرنے والی خواتین کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کولیگ یا باس اپنی چالاکی سے خوشامدی رویے کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ ان کا مقصد کبھی بھی صرف عزت دینا نہیں ہوتا، بلکہ وہ تعلق کو ذاتی فائدے اور ناجائز خواہشات تک لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ رویہ خواتین کے لیے نہ صرف اخلاقی خطرہ ہے بلکہ ان کے پروفیشنل اور تعلیمی سفر کے لیے بھی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

ضروری ہے کہ خواتین خوشامد اور تعریف میں فرق پہچانیں۔ تعریف وہ ہے جو خلوص اور سچائی پر مبنی ہو، جبکہ خوشامد اکثر لالچ، مفاد یا خواہشات کے لیے کی جاتی ہے۔ اگر کوئی غیر محرم حد سے زیادہ تعریف کرے، بار بار غیر ضروری باتیں کرے یا ذاتی زندگی میں دخل دینے کی کوشش کرے تو یہ خطرے کی علامت ہے۔ جاب کرنے والی خواتین اور طالبات کو چاہیے کہ وہ اپنی حدود کا واضح تعین کریں اور ایسے لوگوں کو شروع ہی میں اپنے رویے سے احساس دلائیں کہ وہ اس قسم کے کھیل کا حصہ نہیں بن سکتیں۔

یاد رکھیں، خوشامد بظاہر میٹھی ہوتی ہے مگر غلط نیت کے ساتھ یہ زہر ہے۔ یہ آپ کے اعتماد، آپ کی عزت اور آپ کی محنت سے بنائے گئے مقام کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس کا شکار ہو کر کوئی بھی عورت نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ زندگی بلکہ ذاتی زندگی میں بھی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ہر رشتے اور تعلق کو حدود اور آداب کے اندر رکھ کر چلایا جائے۔ عزت اور تعریف کا جواب عزت سے دیں، لیکن نیت اور انداز کو پہچاننا نہ بھولیں۔

julia rana solicitors

مرد کے لیے بھی یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جاب کرنے والی خواتین اور طالبات کی عزت کرنا نیکی ہے، مگر انہیں بہکانے یا ترپانے کے لیے خوشامد کرنا ایک گناہ اور بزدلانہ عمل ہے۔ یہ نہ صرف عورت کی عزت کے خلاف ہے بلکہ اپنے کردار کو بھی گرادیتا ہے۔ معاشرے میں پاکیزگی اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب خوشامد کو فتنہ بنانے کے بجائے خلوص کو خلوص رہنے دیا جائے اور ہر تعلق کو عزت و حدود کے دائرے میں رکھا جائے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply