اسلامی نظریۂ تربیت و شخصیت سازی (3,آخری حصّہ) – وحید مراد

اسلام میں تعلیم اور تربیت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ قرآن مجید نے نبی کریم ﷺ کی بعثت کا جو مقصد بیان کیا وہ تزکیہ، کتاب کی تعلیم اور حکمت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی فکر میں تربیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن، سیرتِ نبوی ﷺ اور صحابۂ کرامؓ کی عملی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نیکی عبادات تک محدود نہیں بلکہ سچا کردار، عدل، صبر اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی اسی تربیت کا حصہ ہے۔

اسلامی تربیت عقل، روح، کردار اور سماجی شعور کی متوازن نشوونما کا ایک جامع ماڈل فراہم کرتی ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسا انسان تیار کرنا ہے جو فکری طورپر بیدار، اخلاقی طور پر مضبوط اور معاشرتی طورپر مفید ہو۔ یہاں تعلیم محض نصاب یا امتحان تک محدود نہیں بلکہ مکمل شخصیت سازی کا ذریعہ ہے جس پر اسلامی مفکرین نے گہرے اور دیرپا اثرات چھوڑنے والا کام کیا ہے۔ذیل میں ہم مختصر طور پر ان میں سے کچھ نظریات اور افکار کا جائزہ لیں گے۔

امام غزالیؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب “احیاء علوم الدین” میں تربیت کو تزکیہ نفس، قربِ الٰہی اور اخلاقی اصلاح سے جوڑتے ہوئے علم و عمل، نیت و اخلاص اور کردار سازی پر زور دیا۔ ان کے نزدیک علم اگر عمل، خلوص اور خوفِ خدا سے خالی ہو تو وہ شیطانی فریب بن جاتا ہے۔

ابن خلدونؒ نے اپنی کتاب”مقدمہ” میں تربیت کو نفسیاتی اور سماجی پہلوؤں سے جوڑا۔ ان کے مطابق سختی، سزا اور جبر پر مبنی تربیت غلامانہ ذہنیت پیدا کرتی ہے۔ وہ تربیت کو تدریجی، فطری اور بچے کی استعداد کے مطابق سمجھتے ہیں۔

شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے “حجۃ اللہ البالغہ” میں تربیت کو وحی، عقل، فطرت اور تجربے کے امتزاج سے مربوط کیا۔ وہ تربیت کو ایسا عمل قرار دیتے ہیں جو انسان کو متوازن، معتدل اور ذمہ دار شہری بناتا ہے۔مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تحریریں تربیت کے اخلاقی، روحانی اور نفسیاتی پہلوؤں پر محیط ہیں۔ وہ ادب، ضبطِ نفس اور تدریجی اصلاح پر زور دیتے ہیں۔

سر سید احمد خان کا ماننا تھا کہ وہی تعلیم مؤثر ہو سکتی ہے جو انسان کی سوچ،کردار اور معاشرت کو سنوارے۔وہ تعلیم و تربیت کے امتزاج کو ضروری سمجھتے تھے اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے “تہذیب الاخلاق” جیسے رسائل کا آغاز کیا تاکہ مسلمانوں کی کردار سازی ہو سکے۔ ان کے نزدیک تعلیم دماغ کو روشنی دیتی ہے لیکن تربیت دل کو بیدار کرتی ہے اور دل و دماغ دونوں کی روشنی سے ہی ایک مہذب اور باشعور معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

علامہ اقبالؒ کے ہاں تعلیم کا مقصد خودی کی پرورش، روحانی بیداری اور تخلیقی انسان سازی ہے۔ وہ محض معلوماتی تعلیم کو فتنے کا ذریعہ گردانتے ہیں اگر وہ تربیت سے خالی ہو۔

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے تعلیم و تربیت کو اسلامی تہذیب کی تشکیل نو کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔ ان کی تحریریں جیسے “تعلیمات” ، “اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی” اس بات پر زور دیتی ہیں کہ تعلیم صالح، باشعور اور باکردار انسان پیدا کرے۔مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے اپنی کتاب “تدبرِ تعلیم” میں تعلیم کو روحانی تربیت، محبت اور شیریں تعلق پر استوار کیا۔

جدید مسلم مفکرین نے اسلامی تربیت کو نئے تناظر میں بیان کیا۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی تعلیم کو عبادت اور بندگی سے جوڑتے ہیں۔ ڈاکٹر یوسف القرضاوی دینی فہم، انسانی ترقی اور سماجی شعور پر مبنی تربیت کے قائل ہیں۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی تربیت کو تنقیدی شعور، زبان کی طاقت اور فکری آزادی سے مربوط کرتے ہیں۔ ڈاکٹر انیس احمد اخلاقی تعمیر، شعوری بالیدگی اور مقصدیت پر زور دیتے ہیں۔ ڈاکٹر کمال حسن علم کو انسان، معاشرہ اور دنیا کو بہتر بنانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر ذاکر حسین، پروفیسر محمد میاں صدیقی اور دیگر مفکرین تعلیم کو قومی تعمیر، اخلاقی بیداری اور انسان دوستی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

اسلامی تصورِ تعلیم و تربیت ہمیں بتاتا ہے کہ فرد کی تعمیر صرف درسی کتب یا نصابی کامیابی سے ممکن نہیں۔ جب تک قلب، روح اور کردار کی تربیت نہ ہو، ایک تعلیمی ادارہ صرف معلومات بانٹنے کا مرکز رہ جاتا ہے، شخصیت سازی کا ادارہ نہیں بنتا۔ جب تعلیمی اداروں سے تربیت کا عنصر ختم ہوجاتا ہے تو تعلیم محض نمبروں، ڈگریوں اور رٹے کلچر تک محدود ہوجاتی ہے جہاں مقصدشخصیت سازی کے بجائے صرف امتحانی کامیابی بن جاتا ہے۔

اسلامی نظریۂ تربیت عقل، روح، اخلاق اور سماج کے درمیان ایک متوازن اور مربوط نظامِ تعلیم پیش کرتا ہے۔ یہ نظام ہمیں بتاتا ہے کہ تعلیم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ بندگی، شعور اور معاشرتی کردار کی تیاری ہے۔لہٰذا یہ کہنا کہ تربیت صرف خاندان یا والدین کی ذمہ داری ہے، ایک نامکمل تصور ہے۔ ایک متوازن معاشرہ تبھی ممکن ہے جب گھر، اسکول، استاد، میڈیا اور ریاست مل کر تربیت کے اس ہمہ گیر عمل میں شریک ہوں۔ اسلامی تعلیم و تربیت کا یہی جامع ماڈل آج کے معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

اسلامی تعلیمات کا نظامِ تعلیم و تربیت بلا شبہ ایک کامل اور آفاقی تصور پیش کرتا ہےتاہم یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کی مسلم دنیا میں ایسا مربوط، فعال اور ہمہ گیر نظامِ تعلیم و تربیت عملاً ناپید ہے۔ نتیجتاً ہم صرف ماضی کے زریں ادوار کا حوالہ دے کر حال کی پُرپیچ راہوں کو طے نہیں کر سکتے۔ ہمیں نہ صرف ماضی کے علمی ورثے کا شعور حاصل کرنا ہے بلکہ موجودہ دنیا میں وقوع پذیر فکری، سماجی اور تعلیمی تجربات کو بھی سنجیدگی سے سمجھنا ہوگا۔

مغربی دنیا، باوجود اس کے کہ اس کے کچھ پہلو تنقید کے مستحق ہیں، کئی میدانوں میں نمایاں پیش رفت کر چکی ہے۔ بالخصوص فلاحی ریاستوں کے قیام، انسانی حقوق کے تحفظ، سوشل جسٹس اور تعلیم کی فراہمی کے میدان میں۔ ان کامیابیوں کا انکار محض تعصب ہوگا جو فکری جمود اور خودفریبی کی علامت ہے۔ہمیں مغرب سے سیکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے مگر سیکھنے کا مطلب ہرگز اندھی تقلید نہیں بلکہ ایک فعال اور فکری خودمختاری ہے۔ ہمیں ایسے نظام تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے جو بیک وقت اسلامی اخلاقی ڈھانچے میں رچا بسا ہو اور جدید انسانی نفسیات، تدریسی اصولوں اور سائنسی تحقیق کی بنیاد پر تشکیل پایا ہو۔ یہی وہ متوازن رویہ ہے جو نہ صرف ہماری شناخت کو محفوظ رکھے گا بلکہ ہمیں فکری طور پر خودمختار اور تخلیقی قوم بننے کی راہ پر بھی ڈالے گا۔

julia rana solicitors

اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ہم بطورِ قوم تعلیم اور تربیت پر سنجیدہ اور بامقصد مکالمہ شروع کریں۔ ہمیں ایک ایسا قومی ڈائیلاگ درکار ہے جس میں ماہرینِ تعلیم، مفکرین، والدین، علما، طلبہ اور پالیسی ساز سب شامل ہوں۔ اس مکالمے کا مقصد صرف نصاب کی تبدیلی یا تعلیمی ڈھانچے کی بحث نہ ہو بلکہ یہ طے کرنا ہو کہ ہمیں کیسا انسان بنانا ہے؟ کیسا شہری، کیسا مسلمان اور کیسا اخلاقی وجود؟ جب تک ہم اس بنیادی سوال پر قومی سطح پر واضح اور متفقہ جواب نہیں دیں گے ہمارا نظامِ تعلیم محض ڈگریاں بانٹتا رہے گا اور معاشرہ تربیت سے خالی، منتشر اور ناہموار ہی رہے گا۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply