بچے سیکھ کیوں نہیں رہے ؟ (1)-شاہد محمود

جان ہولٹ کی کتاب ” How children Fail ” کے تناظر میں

‎‎ہم تعلیم کیوں حاصل کرتے ہیں؟
‎کیا تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا اور امتحان میں اچھے نمبر لینا ہے؟ کیا ہم صرف ایک اچھی نوکری کے لیے تعلیم حاصل کرتے ہیں؟
‎اگر تعلیم کا مقصد صرف روزگار ہو، تو یہ محض ایک ذریعہ معاش بن کر رہ جائے گی، لیکن تعلیم کا حصول تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
‎تعلیم دراصل سیکھنے، سمجھنے اور شعور حاصل کرنے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، جستجو اور تجسس جیسی انمول صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ یہی خصوصیات انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز بناتی ہیں۔
‎انسان قدرت کے مظاہر پر غور کرتا ہے، مشاہدہ کرتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، تجزیہ کرتا ہے، اور زندگی کے مشاہدات و تجربات سے سیکھتا ہے۔ یہی سیکھنے کا عمل حقیقی تعلیم ہے۔
‎گویا ہر بچہ اپنی فطرت، عقل اور فطری تجسس کے ساتھ اس دنیا میں آتا ہے۔ سیکھنے کی لگن، سوالات کی بارش، اور ہر شے کو چھو کر، دیکھ کر، پرکھ کر جاننے کی خواہش ، یہ سب بچے کی فطری علامات ہیں۔والدین بھی اس بات کا اعتراف کریں گے کہ جو بچہ بولنا سیکھتے ہی سوال کرنا شروع کر دیتا ہے، ماں باپ کو پل بھر چین نہیں لینے دیتا، ہر بات کا سبب جاننا چاہتا ہے کہ ۔۔۔۔
‎یہ کیوں ہے ؟
‎یہ کیسے ہوا ؟
‎بارش کہاں سے آتی ہے ؟
‎یہ تارے کہاں سے آئے ؟
‎ہم پرندوں کی طرح اڑتے کیوں نہیں ؟
‎بحری جہاز سمندر میں کیوں نہیں ڈوبتا ؟
‎اور اسی طرح کے کئی سوال دن میں نہ جانے کتنی دفعہ پوچھتا ہے اور مزید پوچھنے سے رکتا نہیں۔

‎وہی بچہ جب اسکول میں قدم رکھتا ہے تو رفتہ رفتہ خاموش ہونے لگتا ہے۔
‎سوال کم ہو جاتے ہیں اور پھر ختم ہو جاتے ہیں۔ آنکھوں کی چمک ماند پڑ جاتی ہے، تجسس تو جیسے سو جاتا ہے۔ آخر ایسا کیا ہوتا ہے ؟ اسکول کے دروازے کے اندر بچہ سیکھنے سے گھبرانے لگتا ہے۔
‎وہی بچہ جو گھر میں ہر چیز کے پیچھے دوڑتا تھا، کلاس میں خاموش، الجھا ہوا اور بیزار نظر آنے لگتا ہے۔

‎سوال یہ ہے: بچے سیکھ کیوں نہیں رہے؟
‎یہی سوال ایک امریکی استاد کے ذہن میں بھی ابھرا، جب وہ برسوں بچوں کو پڑھا رہے تھے۔

‎جان ہولٹ John Holt
‎ جن کا تعلق امریکہ سے تھا، 1923 میں پیدا ہوئے اور اپنی پوری زندگی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ تدریس کے دوران انہوں نے صرف یہ نہیں دیکھا کہ بچے کیا سیکھ رہے ہیں، بلکہ یہ جاننے کی کوشش کی کہ بچے سیکھ کیوں نہیں رہے؟
‎وہ بچوں کے سیکھنے کے فطری اور قدرتی طریقہ کار کو سمجھنے میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ انہوں نے بار بار دیکھا کہ بچہ سوال کرتا ہے، سوچتا ہے، لیکن اسکول کے ماحول میں رفتہ رفتہ خاموش ہو جاتا ہے۔

‎جان ہولٹ نے 1964 میں ان تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر ایک انقلابی کتاب لکھی جس کا عنوان تھا:
‎”How Children Fail”
‎یعنی “بچے ناکام کیوں ہوتے ہیں؟”
‎یہ کتاب آج بھی دنیا بھر کے اساتذہ، والدین اور تعلیمی ماہرین کے لیے ایک آئینہ ہے ۔
‎ ایسا آئینہ جس میں ہم اپنے نظام تعلیم کی وہ کمزوریاں دیکھ سکتے ہیں جنہیں ہم برسوں سے نظرانداز کر رہے ہیں۔
‎جان ہولٹ کے مطابق، بچے کا سیکھنا ایک فطری، قدرتی اور خودکار عمل ہے۔
‎ہولٹ کا ماننا یہ ہے کہ ” ہمیں بچوں کو پڑھانا نہیں ہے بلکہ سیکھتے رہنے سے روکنا نہیں ہے ”

‎وہ سیکھنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں، ان میں سوال کرنے، جاننے اور سمجھنے کی جبلّت موجود ہوتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارا موجودہ تعلیمی نظام اسی فطری عمل کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔
‎جو تعلیمی نظام بچے کے دل میں غلطی کرنے کا خوف بٹھا دے، جب اس سے صرف “درست جواب” کی توقع کی جائے اور اس کی کوشش، مشاہدے یا سوچ کو نظرانداز کر دیا جائے ، تو وہاں سیکھنے کی جستجو دم توڑ دیتی ہے۔ بچہ سوچنے کے بجائے یاد کرنے پر زور دیتا ہے، سوال کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرتا ہے۔

‎جان ہولٹ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب “How Children Fail” میں ان تمام پہلوؤں کی نشان دہی کی ہے۔
‎اس نے نہ صرف مسائل کا تجزیہ کیا بلکہ ان کے حل کی طرف بھی رہنمائی فراہم کی۔ ہولٹ کا ہر مشاہدہ، ہر مثال، اور ہر جملہ
‎ اساتذہ، والدین اور ماہرین تعلیم کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا واقعی ہم بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں، یا صرف انہیں قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

‎ہولٹ کی یہ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔
‎ہماری کوشش ہو گی کہ اس کتاب کے ہر باب کو عام فہم، سادہ اور قابلِ عمل انداز میں پیش کریں ، تاکہ ہم نہ صرف سمجھ سکیں کہ بچے سیکھ کیوں نہیں رہے، بلکہ یہ بھی دیکھ سکیں کہ ہم بطور والدین، استاد یا نظام تعلیم ،
‎ کہاں غلطی کر رہے ہیں؟
‎جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply