• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • چوپاناطہ ، مجسمہ ہائے عضو تناسل اور مراوہ تپہ ایران/محمد سعد مکی شاہ

چوپاناطہ ، مجسمہ ہائے عضو تناسل اور مراوہ تپہ ایران/محمد سعد مکی شاہ

قبل ازیں صفحات میں خالد نبی کا مزار جو ترکمانستان کی سرحد کے پاس مراوہ تپہ نامی گاؤں کے نزدیک بلند ترین پہاڑی پر واقع ہے کی بابت مختصر تذکرہ ہو چکا ہے۔

اپریل 2025 میں ہم دوبارہ مزید تفصیلات و معلومات کے حصول کے ساتھ ساتھ وہاں فوٹوگرافی اور یوٹیوب چینل کے لیے ویڈیو بنانے بھی گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ نوٹ کر لیں کہ مزار پر نام خالد ابن سنان لکھا ہوا ہے اور وہاں کے متولی اور مجاوروں کا دعویٰ ہے کہ یہ موصوف حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور نبی کریم سے 82 برس قبل پیدا اور 46 برس بیشتر فوت ہوئے ، یعنی کل 36 برس عمر پائی ۔ یہ بات وہاں لکڑی کے تختوں پر اور قبر کے کتبے پر بھی لکھی ہوئی موجود ہے ۔

سمجھ سے بالاتر ہے شاید ہمیں ہی سمجھنے میں کچھ غلطی ہوئی ہو مگر وہاں لکھا ہوا یہی کچھ ہے ۔

اس کی ایک حقیقت تو یہ ہے کہ صحاح ستہ سمیت کسی بھی معتبر و مستند احادیث کی کتب میں ان کا تذکرہ موجود نہیں ہے۔

خالد نبی کا تعلق اکثر ایرانی صوبہ گلستان کے سنی اور بالخصوص ترکمان علاقوں کی سینہ گزٹ روایات میں بالعموم ملتا ہے ۔ وہاں موجود بہت سے لوگ انہیں نبی اللہ کہتے اور سمجھتے ہیں جبکہ بہت سے لوگوں نے انہیں فقط ولی اللہ قرار دیا ۔ بعض افراد نے انہیں ایک افسانوی شخصیت قرار دیا۔ درج بالا معلومات ہم نے وہیں مزار پر اور ارد گرد کے لوگوں ، سیاحوں سے بات چیت کرتے ترتیب دی ہیں ۔

ایک سنی ترکمان عالم نے وثوق سے خالد بن سنان العبثی/ عبسی کو حضرت عیسیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیانی دور کا قرار دیا ہے اور ان کے مطابق ایک دو احادیث بیہقی ، طبرانی اور طبری جیسے مورخین کی کتب میں درج ہیں جس کے مفہوم کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ خالد ابن سنان نبی تھا مگر اس کی قوم نے اسے ضائع کر دیا۔ مگر علما دوستوں کے مطابق یہ روایات ضعیف اور مرسل ہیں ۔ اسناد منقطع اور راوی ضعیف ہیں۔ بعض تاریخ کی کتب میں انہیں بنی عبث/ عبس قبیلے سے قرار دیا گیا جو نجد اور حجاز کے درمیان رہتے تھے اور ان کی بیٹی فاطمہ بنت خالد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حیات تھیں اور انہوں نے ان سے ملاقات بھی کی۔

بحر کیف عالم اسلام کی کثیر تعداد ان سے واقف نہیں ہے۔

نیز ہمارا ذہن بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چند ہی عشرے پہلے کسی نبی کی آمد سے ہرگز آگاہ ہے اور نہ ہی تسلیم کرتا ہے مگر کیا کیجئے کہ ایران ، ترکمانستان اور قازقستان کی بیشتر سنی آبادی ثقہ حد تک اس پر تیقن کی حامل ہے ۔

جہاں تک میری معلومات ہیں ، شیعہ حضرات البتہ اس پر یقین نہیں رکھتے ۔

اب دوبارہ چلتے ہیں ہمارے اس حالیہ سفر کی طرف جو ہم نے گرگان سے مراوہ تپہ خالد نبی رح اور ان کے ارد گرد کے عجائبات کو دیکھنے کے لیے کیا۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پاکستان سے چلتے ہوئے خالد نبی رح کے مزار پر جانا اولین ہدف تھا کہ 2018 میں بھی وہاں سے ناکافی معلومات لے کر آ گیا لہذٰا اس مرتبہ سفر نامے کی تکمیل کے لیے وہاں جانا از حد ضروری ٹھہرا ۔

چھ سات سال کے وقفے کے بعد وہاں جانے کے طور طریقے کافی حد تک بدل چکے تھے اور کچھ ہم بھی سفری معاملات بھول بھال چکے تھے ۔ گزشتہ بار ہم دربست (مکمل آمد و رفت کی بک ٹیکسی ) کر کے گئے تھے ۔

جبکہ اس مرتبہ ہم نفری کے حساب سے سوار ہوئے ۔ اس سے کرایہ ہمیں پہلے کی نسبت بھی کچھ زیادہ پڑا۔ ٹوٹل یک طرفہ سفر تقریبا ًایک 180 سے 200 کلومیٹر کے لگ بھگ رہا۔ گرگان سے ہم آزاد شہر جا کر اترے۔ آزاد شہر سے پھر ٹیکسی میں سوار ہو کر کلالہ اور پھر وہاں سے دربست ٹیکسی (مکمل ٹیکسی) کرائی اور خالد نبی رح کے مزار پر بلند و بالا سرسبز پہاڑوں سے ہوتے ہوئے سب سے اونچے پہاڑ پر جا پہنچے ۔ مزار کو دیکھا اندر گئے فاتحہ خوانی کی اور متولی کو باہر بلا کر اس سے فارسی میں مکالمہ شروع کر دیا ۔ معلومات کشید کیں۔ سنسان اور دور دور تک آبادی کا نام و نشان تک نہیں تھا ۔ ارد گرد کا تا حدِ نگاہ صاف میدانی علاقہ ترکمان صحرا کہلاتا ہے ۔ مزار کے ایک طرف ڈیڑھ دو سو میٹر نیچے کی طرف پتھروں سے تراشی ہوئی کچی سیڑھیاں تھیں جو ہمیں عجائب و غرائب نما مناظر کی طرف لے گئیں ۔ جاتے ہوئے تو ہم تیز رفتار رہے حالانکہ میری پیٹھ پر 20 سے 25 کلو وزنی میرا بیگ تھا اور بھی بہت سے سیاح آ اور جا رہے تھے ۔ وہیں ہمیں تین چار خوبرو ساڑھی پوش دوشیزائیں ماتھوں پر انڈین سٹائل کی تلک نما بندیا لگائے ہوئے ملیں ۔ ہم نے انہیں انڈین سمجھا اور انہوں نے ہمیں ہندی ۔ وہ بار بار ہمیں چہکتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر پرنام کر کے نمستے نمستے کہنے لگیں ، ان کے لہجے سے معلوم ہوا کہ ہیں تو وہ ایرانی ہی مگر متاثرینِ بالی وڈ ہیں ، سو ہم نے بھی ان کی دلپشوری مناسب سمجھتے ہوئے انہیں ہاتھ جوڑ کر فرداً فرداً پرنام اور نمستے کہا ان کی اجازت سے ان کی وڈیو بنائی ۔ وہ کھلکھلا رہی تھیں اور ہم درونِ دل ہنہناتے ہوئے آگے بڑھ گئے ۔ یہ سوچتے ہوئے کہ وہ جو کچھ دیکھ کر آ رہی ہیں اور ہم جو دیکھنے جا رہے ہیں وہ ایک جنسی ٹیبو ہی تو ہے ۔

اونچی نیچے خطرناک پگڈنڈیوں کے ارد گرد خوبصورت بلکہ انتہائی خوبصورت ، صحتمند گھوڑے اور تقریباً آسٹریلین نسل کی ہٹی کٹی گائیں چرتی ہوئی بہت بھلی لگ رہی تھیں ۔ یہ سارا علاقہ چراگاہ ہی تو تھا جو طویل و عریض سرسبز میدان ، پہاڑیوں اور ایک لحاظ سے سطح مرتفع لگ رہا تھا ۔ کیا خوش کن مناظر تھے اور اس تنگ اور خطرناک رستے پر ایرانی حسن کی آمد و رفت دل کی پہلے سے بے ترتیب دھڑکنوں پر ساز بجا رہی تھی ۔
سنا اور دیکھا ہوا تو پہلے بھی تھا مگر اس مرتبہ ویڈیوز اور فوٹوگرافی کے لیے خاص طور پر یہاں آنا ہوا کہ قبل ازیں ھہارے دوست فقط مشاہدات پر یقین نہیں کرتے تھے ۔ پتھر کے بنے ہوئے سینکڑوں زنانہ اور مردانہ انسانی عضو ہائے تناسل کافی پھیلے ہوئے سرسبز اور سطح مرتفع ٹائپ اونچے نیچے رقبے میں گڑے ہوئے تھے ۔

آٹھ نو فٹ سے لے کر ڈیڑھ دو فٹ تک کے یہ مجسمے 2018 کی نسبت تعداد میں مجھے کم لگے۔ پھر بھی سو ڈیڑھ سو تو ضرور ہونگے ۔ ٹوٹ پھوٹ گئے یا توڑ دیے گئے تھے ۔ حاصل کردہ معلومات کے مطابق قبل ازیں بھی بعض شدت پسند مذہبی گروہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں انہیں توڑ پھوڑ دیا تھا اور باقی کو حکومت ایران نے ثقافتی ورثہ بنا کر محفوظ کر لیا ۔ اب لوگوں سے کشید کردہ معلومات کے مطابق بعض لوگ انہیں خالد نبی رح سے منسوب کرتے ہیں ۔ ان کے مطابق ان کی قوم میں زنا عام ہو گیا تھا تو خدا کی طرف سے اس قوم پر پتھروں کے عضو ہائے تناسل کی بارش ہوئی اور لوگ مارے گئے ۔ بعض کہتے ہیں کہ بنجر زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیے آسمان سے ان کی بارش ہوئی اور خشک پہاڑ سرسبز ہو گئے ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ مجسمے بطور نسل ، قوت مردانگی اور رزق کی علامت بنائے گئے۔ خود کچھ لامذھب قسم کے سیاح خواتین و حضرات کے مطابق ان مجسموں کا تعلق زرتشت، ہندو ،آریائی یا قبل از اسلام ترکمانوں سے ہے۔

یہ قبیلے میں طاقت کی طلب، نسل بڑھنے، بارش اور رزق کی فراوانی اور زمین کی زرخیزی کے لیے بنائے جاتے تھے۔ ان پر چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے۔

اور بہت سے لوگوں نے یہ بھی کہا کہ یہ دراصل زمانہ قبل از اسلام کا قبرستان ہے اور شناخت کیلئے مردانہ قبر پر مردانہ اور زنانہ قبر پر زنانہ عضو تناسل کا مجسمہ نصب ہے ۔ بہرحال جناب ہم سمیت سارے سیاح بلا تخصیص مرد و زن ان عضو ھائے تناسل کے مجسموں کے ساتھ بصد شوق تصاویر بنا رہے تھے ۔ انتظامیہ کے افراد ہمیں تنگ کر رہے تھے ۔ فوٹوگرافی سے منع کرتے رہے اور وہاں کے دکاندار بھی ہمارے شمالی علاقہ جات والوں کی طرح بلاوجہ دخل در نامعقولات کر کے ہمیں کھانے پینے کی چیزیں مہنگی بیچ رہے تھے ۔ ایک جگہ پر ٹکٹ اور دو جگہ پر غنڈا ٹیکس بھی دینا پڑا مگر ہم نے ان عظیم عضو ہائے تناسل کی فلم بندی کر ہی لی ۔

اب حیرانی اس بات کی تھی کہ ہمیں حضرت خالد نبی رح کی دائیں بغل میں ڈیڑھ دو سو میٹر کے فاصلے پر ڈھیر سارے عضو ھائے تناسل کے پتھری مجسموں کی موجودگی کی منطق سمجھ نہیں آرہی تھی۔ اور ابھی تک نہیں آئی ۔ مزار خالد نبی رح سے نیچے مذکورہ مجسموں تک کا جو سفر ہم نے 10/15 منٹ میں بھاگ کر طے کیا تھا ، واپسی میں وہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں بمشکل ٹھہر ٹھہر کر ، پانی پی پی کر ، گھسٹ گھسٹ کر طے کیا ۔ جب دوبارہ اوپر پہنچے تو ایک اور سرپرائز ہمارا منتظر تھا۔

حضرت چوپاناطہ رح

جب مراوہ تپہ جو ترکمانستان بارڈر سے 35 سے 40 کلومیٹر دور ہے ، ہم نیچے مجسمہ جات عضو ہائے تناسل دیکھ کر آئے تو تھکن کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ بس نہیں چل رہا تھا کہ شب بسری اسی درگاہ میں کر لیتے جو شاید انتہائی یادگار ہوتی ۔ تبھی مزار خالد نبی رح کے متولی سنی امام ترکمان نے دوسری طرف 60 سے 70 میٹر نیچے ایک اور مزار کی طرف اشارہ کیا کہ یہ حضرت خالد نبی رح کے خلیفہ ، مرید اور ولی اللہ کا مزار ہے ۔ ان کا نام دریافت کرنے پر انہوں نے چوپاناطہ کہا۔ زبان و بیان کے اس فرق کے پیش نظر ہماری تو ہنسی چھوٹ گئی کہ یہ کیسا نام ہے بھائی ؟ خیر تھوڑا اگلے کے مزاج کو مدنظر رکھ کر تفتیش کی اور فکری تشنگی لیے واپسی کے لیے اپنی منتظر ٹیکسی میں بیٹھ گئے ۔ اب مزید 60 سے 70 میٹر نیچے اترائی اور چڑھائی اپنے بس سے بالکل باہر ہو چکی تھی۔ لہٰذا حضرت چوپاناطہ رح کے مزار پر دور اوپر سے کھڑے ہو کر فاتح خوانی کی ۔ ایک بات بطور خاص یہاں لکھنا باقی ہے کہ حضرت خالد نبی رح کے مزار کے ساتھ متصل ایک درخت پر ہزاروں کپڑے کے ٹکڑے ، دھاگے وغیرہ بغرض منت و مراد برآوری بندھے ہوئے تھے ۔ جس سے صاف ظاہر تھا کہ ضعیف الاعتقادی کے معاملے میں ایرانی بھی ہم سے قطعی کم نہیں ہیں ۔ خالد نبی رح صاحب کا مزار انتہائی سادہ تھا ۔ عام سی قبر پر عام سا کمرہ بنا ہوا تھا۔ جس پر سبز رنگ کا گنبد ہے۔ جبکہ حضرت چوپا ناطہ یا مزار پر لکھے ہوئے نام کے مطابق “چوپان آتا”کے مزار کا رنگ بھی سبز ہی ہے۔

حضرت چوپان آتا (فارسی لہجے میں چوپاناطہ) کے عجیب و غریب نام کی وجہ سے واپسی کا تمام سفر شش و پنج میں گزرا ۔ اس تمام سفر کا معاملہ ہی عجیب و غریب تھا۔ سنسان ترین پہاڑی سلسلے میں بلند پہاڑی پر ایک عالم اسلام کے غیر معروف نبی جو خالد نبی رح کے نام سے ہی وہاں معروف ہیں ۔ وہاں جا کر پتہ چلا کہ پورا نام خالد بن سنان ہے۔ اس سے چند سو میٹر دور سینکڑوں پتھری عضو ہائے تناسل کے مجسموں کا اسرار اور پھر اس کے مخالف سمت میں عجیب و غریب نام حضرت چوپان آتا رح کا مزار ، سب کچھ سمجھ سے بالاتر تھا۔ مکمل اور ٹھوس معلومات بھی کمیاب تھیں ۔ خیر ہم واپسی پر براستہ گنبد کاؤوس آئے ۔ گنبد کاؤوس کو دیکھا ، فوٹوگرافی کی ۔ گنبد شہر میں ہی امام زادہ یحییٰ بن زید بن علی بن حسین بن ابی طالب رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر گئے ۔ جس کی تفصیل آئندہ صفحات میں آئے گی ۔ چند روز بعد بندر ترکمان دوبارہ گیا تو وہاں اس ترکمان دوست کے پاس گیا ۔ جس نے پہلی بار مجھ سے خالد نبی رح کا تذکرہ کیا تھا ۔ اس سے معلومات دریافت کیں تو وہ مجھے اپنے ہمراہ سنی آخوند (سنی بڑے مولانا ) کے پاس لے گیا ۔ ترکمان زبان میں چوپان کے معنی چرواہا اور آطہ یا آتا کا مطلب نیک بزرگ ، مرشد یا پیر بابا ہے ۔ ترکمانستان، قازقستان اور شمال مشرقی ایران میں چوپاناطہ ایک معروف روحانی اور نیم افسانوی چرواہوں کے روحانی بزرگ اور ولی اللہ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

اس کے بارے میں کوئی مستند یا معتبر شرعی یا تاریخی روایات ، حوالہ کتب دستیاب نہیں ہیں ۔ ہاں چرواہوں اور ان کی بھیڑوں کی حفاظت ، افزائش ، نسل و برکت ، بارش و سبزے کی فراہمی جیسی بے شمار کرامات ان سے منسوب ہیں ۔ مقامی شاعری ، لوک داستانوں اور دعاؤں کے توسل میں ان کا تذکرہ کیا جاتا ہے ۔ وہاں بہت سے ترکمان سنی لوگ انہیں خالد نبی رح کا خلیفہ یا مرید بھی کہتے ہیں ۔ یہ سیاحتی مقام بھی ہے اور غالبا نو روز میں یہاں میلا ٹھیلا یا عرس بھی لگتا ہے ۔ جبکہ منتیں مرادیں ، نیازیں مانگنے اور بانٹنے والے سارا سال یہاں آتے جاتے رہتے ہیں ۔

میں آپ کو ضرور مشورہ دوں گا کہ گرگان سے دربست ( مکمل ٹیکسی) آنے اور جانے کیلئے حضرت خالد نبی رح ، حضرت چوپاناطہ رح اور پتھروں سے بنے مجسمہ ہائے عضو تناسل دیکھنے ضرور جائیں ۔ صبح سویرے نکلیں اور رستے میں بہت سے سرسبز تفریحی و سیاحتی مقامات پر رکتے ،دیکھتے ہوئے مذکورہ عجائباتِ عالم بھی دیکھ آئیں ۔

گرگان سے بذریعہ ٹیکسی مراوہ تپہ آمدورفت پاکستانی 5 سے 6 ہزار روپے میں بہت آسانی ممکن ہے ۔

julia rana solicitors london

(نوٹ) ۔ یہ مضمون بھی بندہ کے زیرِ تحریر سفرنامے “مشاہدات ایران” سے مقتبس ہے ۔ احباب و قارئین سے استدعا ہے کہ اس بابت اپنی آراء سے ضرور نوازئیے گا تاکہ لکھنے کا پیسہ وصول ہو جائے ۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply