سوارا بھاسکر کی گواہی۔۔سعید چیمہ

بیتے ہوئے سال کی بات ہے جب سردی کا زور ٹوٹنے میں نہیں آ رہا تھا، سردی بھی ایسی تھی کہ ہر وقت بستر سے چمٹے رہنے کی خواہش غالب ہونے کو بے تاب رہتی تھی، پانی تو شجرِ ممنوعہ بن چکا تھا جس کے قریب جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا تھا، دھند ایسی تھی کہ سیاہ رات کی طرح ہاتھ کو ہاتھ بھی مشکل سے سجھائی دیتا تھا،  مگر اس دن دھند قدرے کم تھی اور آفتابی گولے کی آنکھ مچولی جاری تھی، عرض پرداز اپنے ہاسٹل سے جامعہ جانے کے لیے نکل کھڑا ہوا،  موٹر سائیکل پر جامعہ کیوں کر جایا جاتا ،جب کہ پیدل چلتے ہوئے بھی دانت سے دانت بج رہے تھے، ایسا موسم ہو تو لاہور میں اسپیڈو بس سروس کا سفر کسی نعمت سے کم نہیں لگتا،  یار لوگ جتنی مرضی دہائی دیں مگر شہباز شریف نے لاہور میں ٹرانسپورٹ کا نظام تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔

یہ الگ بحث ہے کہ ان کے دور میں پنجاب کے بجٹ کا زیادہ تر حصہ لاہور پر خرچ کر دیا جاتا،  مگر یہ بات ماننی ہو گی کہ  پہلے اسپیڈو بس سروس، پھر میٹرو اور اب اورنج ٹرین  سے لاہور کا ٹرانسپورٹ سسٹم اب  دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے خوبصورت شہروں ایسا  ہو گیا ہے، اُس دن عرض پرداز اسپیڈو بس سروس پر محوِ سفر تھا، بس میں چلنے والے ہیٹرز جسم کی فرحت کا سامان کر رہے تھے،  اسپیڈو بس سروس کے مخصوص اسٹاپ ہیں جن پر بس نے رکنا ہوتا ہے، اسٹاپس کے علاوہ ڈرائیور کو سواریاں بٹھانے یا اتارنے کی اجازت نہیں ہوتی،  مگر عرض پرداز نے دیکھا کہ بس ایک سنسان سی شاہراہ سے گزر رہی تھی جب شاہراہ کنارے ایک چار پانچ سالہ بچے کے ساتھ کھڑی عورت نے ڈرائیور کو رکنے کا اشارہ کیا، ڈرائیور نے بس روکتے ہوئے اس عورت اور بچے کو بس پر سوار کر لیا، اس وقت بھی یہ سوچا تھا کہ اگر اس عورت کی جگہ کوئی مرد ہوتا تو ڈرائیور کبھی بس نہ روکتا، ہم اخلاقیات سے جتنا مرضی دور چلے جائیں مگر کچھ اقدار ہمارے ہاں ابھی بھی شان و شوکت سے زندہ ہیں،  جس میں سے ایک یہ ہے کہ بس میں سوار مرد ہمیشہ بوڑھوں یا عورتوں کے لیے اپنی سیٹ چھوڑ دیتے ہیں،  چونکہ یہ واقعات عرض پرداز کے ذاتی مشاہدات پر مبنی ہیں اس لیے آپ ان واقعات کو با آسانی جھٹلا سکتے ہیں،  مگر ہم اپنے دلائل کی عمارت کو مضبوط اور بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ کرنے کے لیے ایسی گواہی پیش کریں گے جس کو کوئی جھٹلا نہ سکے گا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

میری گواہ ایک ہندوستانی اداکارہ ہیں، سوارا بھاسکر جو کہ درمیانے درجے کی سانولی رنگت والی اداکارہ ہیں  2015ء میں پاکستان آئیں،  مذاق رات کے میزبان اس وقت ہر دل عزیز نعمان اعجاز تھے، نعمان نے سوال پوچھا کہ آپ نے ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کی بسوں میں سفر کیا ہے تو آپ نے دونوں ملکوں کی بسوں میں سفر میں کیا فرق پایا، بھاسکر کہنے لگیں کہ ہندوستان میں عام طور پر مرد اور عورت بس میں اکھٹے سفر کرتے ہیں اور بعض اوقات رش زیادہ ہونے کی وجہ سے بس میں اکھٹے کھڑے ہونا بھی پڑتا ہے،  جس کی وجہ سے عورتوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،  لیکن پاکستان میں عورتوں کے لیے بس میں  ایک حصہ مخصوص ہوتا ہے اور مرد حضرات اپنے سے بڑوں اور عورتوں کے لیے نشست چھوڑ دیتے ہیں،  اب کوئی یہ بھاشن نہ دینا شروع کر دے کہ دیکھیں جی پاکستان میں تو عورتوں کو برابر کے حقوق بھی حاصل نہیں ہیں، ان کو تو جائیداد میں بھی حصہ نہیں دیا جاتا، ان پر ظلم کے بحر بہائے جاتے ہیں،  اس بات سے بھلا کون انکاری ہو سکتا ہے کہ دنیا کے باقی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی عورتوں کو بعض مسائل کا سامنا ہے، آئیڈیل حالات تو کہیں بھی نہیں ہیں، لیکن چونکہ بری خبر ہی خبر ہوتی ہے اور اچھی خبر خبر نہیں ہوتی اس لیے عورتوں کے بارے میں بھی عام طور پر منفی خبریں ہی چلائی جاتی ہیں کہ آج عورت پر فلاں ظلم ہو گیا اور آج یہ ہو گیا،  منفی خبریں چلانے سے اعتراض نہیں مگر دل اس بات سے دکھتا ہے کہ اچھی خبریں کیوں نہیں چلائی جاتیں، ہمارے معاشرے کے مرد جو عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں اس کو بھی تو کوریج ملے، مگر ریٹنگ کے مارے میڈیا کو مثبت خبریں بھلا کہاں بھاتی ہیں

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply