پاکستان کے عام شہری کیلئے انصاف ایک خواب بن چکا ہے۔ خاص طور پر جب مخالف فریق بااثر ہو، وسائل رکھتا ہو، اور نظام کے اندر اپنی رسائی رکھتا ہو۔ ریاستی ادارے، جنہیں مظلوموں کی دادرسی کرنی چاہیے، یا تو بےبس دکھائی دیتے ہیں یا خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ کراچی میں زمینوں پر قبضے کرنے والا مافیا ایسی ہی ایک مثال ہے، جو برسوں سے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکتا چلا آ رہا ہے۔راقم نے سعودی عرب میں تقریباً 13 سال مسلسل بحیثیت بینکر خدمات انجام دیں۔ اس دوران، گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ کچھ رقم بچا کر ایک بہتر مستقبل کی امید میں کراچی میں سرمایہ کاری کی۔ جس سوسائٹی میں زمین خریدی گئی، وہ ایک قریبی جاننے والے کی وساطت سے تھی۔ پلاٹ خریدتے وقت موقع پر جا کر باقاعدہ جانچ پڑتال اور مکمل ادائیگی کے بعد راقم دوبارہ سعودی عرب روانہ ہو گیا۔کچھ عرصے بعد مجھے پلاٹ کا قبضہ دیا جانا تھا تاکہ وہاں مکان تعمیر کیا جا سکے۔ تاہم، سوسائٹی کی جانب سے بتایا گیا کہ متصل سوسائٹی اور ہماری زمین کا مالک ایک ہی ہے، اور ان کے کچھ قانونی مسائل پیدا ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے قبضے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ مجھے تسلی دی گئی کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ بدقسمتی سے، اسی دوران کووڈ-19 کی عالمی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے میری نوکری بھی متاثر ہوئی۔ کئی ماہ بعد جب پاکستان واپسی ہوئی، تو دیکھا کہ یہاں حالات مزید خراب ہو چکے ہیں۔
میں اس دوران معمولی پیمانے پر رئیل اسٹیٹ کا کام بھی کرتا رہا۔ اتفاق سے ایک اوورسیز انویسٹر سے بات چیت ہوئی جو کراچی میں ہاؤسنگ سوسائٹی بنانا چاہتے تھے۔ جب وہ پاکستان آئے تو میں انہیں لاہور سے خصوصی طور پر کراچی لے آیا تاکہ موقع پر زمین دکھا سکوں۔ لیکن وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ زمین پر کسی اور نے قبضہ جما رکھا ہے۔ یوں محسوس ہوا جیسے میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ہو۔ اس وقت نہ روزگار تھا اور نہ ہی کوئی اور سہارا۔ ایک اور بڑی پریشانی نے آ گھیرا۔ جب سوسائٹی والوں سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے لینڈ مافیا کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے اور اس پر حکمِ امتناعی (سٹے آرڈر) حاصل کیا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد فیصلہ متوقع ہے، مگر جب کافی دیر تک کوئی پیشرفت نہ ہوئی تو میں نے پاکستان سیٹیزن پورٹل پر شکایت درج کروا دیا، جس میں زمین مافیا کی نشاندہی کی گئی۔ شکایت میں تفصیلات اور شواہد فراہم کیے گئے، لیکن محض اس بنیاد پر شکایت مسترد کر دی گئی کہ یہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عدالت میں زیر سماعت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انتظامیہ اپنی آنکھیں بند کرلے؟ اگر معاملہ عدالت میں ہے تو کیا یہ حکومت کو بری الذمہ کر دیتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر، اگر عدالتوں کو فیصلہ کرنے میں برسوں لگیں، تو عام آدمی کہاں جائے؟ عدالتیں اس مافیا سے کوئی ثبوت نہ حاصل کر سکیں، مگر تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ انصاف میں تاخیر، دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ ایسے میں شہری کی امید پہلے ہی کمزور ہو چکی ہوتی ہے، اور جب حکومتی پلیٹ فارم بھی غیر موثر ثابت ہوں، تو مایوسی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔پاکستان سٹیزن پورٹل کو وزیرِاعظم کا ایک قابلِ تحسین اقدام تصور کیا گیا تھا، جس کا مقصد عام شہریوں کو براہِ راست حکام بالا تک رسائی دینا تھا۔ لیکن جب یہ پلیٹ فارم بھی معاملہ عدالت میں ہے جیسے روایتی بیوروکریٹک بہانے بنا کر شکایتوں کو رد کرے تو اس کی افادیت پر سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ہزاروں پاکستانی شہریوں کی داستان ہے، جو روز ریاست سے انصاف کی بھیک مانگتے ہیں۔ زمین مافیا، تجاوزات، پولیس کی بے حسی، اور عدالتی سست روی ۔ یہ سب ایک بڑے نظامی بحران کی نشانیاں ہیں۔ اگر ریاست اس نظام کو درست نہیں کرتی، تو وہ دن دور نہیں جب عوام کی عدالتیں سڑکوں پر لگیں گی، اور قانون کو لوگ اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیں گے۔ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا: کیا وہ چند بااثر افراد کی پشت پناہی کرنا چاہتی ہے یا 22 کروڑ عوام کو تحفظ دینا چاہتی ہے؟ کیا پاکستان صرف طاقتور کے لیے ہے یا عام آدمی کا بھی کوئی حق ہے؟
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے:
جب انصاف بکتا ہے، اور آواز دبتی ہے، تو قومیں صرف جسمانی نہیں، اخلاقی طور پر بھی مر جاتی ہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں