حال ہی میں پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر کشمیری ایک آزاد ملک کے طور پر رہنا چاہتے ہیں تو پاکستان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کشمیری بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں تو بھی پاکستان کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان اب باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کی اُن ابتدائی قراردادوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے، جن میں تیسرا آپشن یعنی خودمختار کشمیر کا ذکر موجود ہے۔
اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے استصواب رائے (ریفرنڈم) ہی واحد راستہ ہے، جس پر پاکستان اور بھارت دونوں دستخط کر چکے ہیں۔ ان قراردادوں میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ:
-
پاکستان سب سے پہلے اپنے زیرِ انتظام علاقوں یعنی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے اپنی فوجیں اور سویلین اہلکار واپس بلائے گا۔
-
اس کے بعد ان علاقوں میں ایک لوکل اتھارٹی گورنمنٹ قائم کی جائے گی، جو کہ فی الحال آزاد کشمیر میں موجود ہے، مگر گلگت بلتستان میں اس کی واضح غیر موجودگی ہے۔
-
دوسرے مرحلے میں بھارت اپنے زیرِ انتظام جموں و کشمیر سے مخصوص تعداد میں افواج واپس بلائے گا، تاکہ ریفرنڈم کے لیے غیرجانبدار ماحول پیدا ہو۔
یہ تمام اقدامات اقوامِ متحدہ کی زیر نگرانی انجام دیے جائیں گے، اور پھر ریاستِ جموں و کشمیر کے عوام کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ پاکستان، بھارت یا ایک خودمختار ملک کے طور پر اپنا مستقبل طے کریں۔
اگر ہم گلگت بلتستان کی صورتحال کا جائزہ لیں تو زمینی حقائق تشویشناک ہیں کیونکہ یہاں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ نہ صرف یہاں مکمل لوکل اتھارٹی کا فقدان ہے بلکہ بیوروکریسی کو حاکم اعلیٰ کی حیثیت حاصل ہے۔ غیر مقامی افراد (نان اسٹیٹ سبجیکٹ) کو زمین خریدنے، لگژری ہوٹل بنانے، اور وسائل کا استحصال کرنے کی کھلی اجازت دی جا رہی ہے، جو آزاد کشمیر میں ممنوع ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی، جو آئینی طور پر غیر مؤثر ہے، ایسے قوانین منظور کر رہی ہے جیسے لینڈ ریفارمز، گرین ٹورزم، اور مائننگ بلز، جو مقامی آبادی کو بے دخل کرنے کے مترادف ہیں۔ بدقسمتی سے احتجاج کرنا، جو ایک جمہوری حق ہے، یہاں جرم تصور کیا جاتا ہے، جیسا کہ حالیہ مثال میں عوامی ایکشن کمیٹی کی پوری قیادت کی گرفتاری ہے۔ یوں اس خطے کی نئی نسل احساس محرومی کا لاوا بن کر کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ستر سالوں سے مسلسل فراڈ ہو رہا ہے۔ اسحاق ڈار کے بیان سے تاثر ملتا ہے کہ کشمیری عوام پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کی بجائے ایک خودمختار ریاست کے حق میں زیادہ مائل ہیں، اور اس موقف کو متعدد سروے اور تجزیاتی رپورٹس سے تقویت ملی ہے، جو آزاد کشمیر کے اخبارات میں بھی شائع ہو چکی ہیں۔دوسری طرف گلگت بلتستان کی عوام کی بڑی تعداد پاکستان کے مکمل الحاق کی خواہشمند ہے۔ یہاں کی اسمبلی کئی بار قراردادیں منظور کر چکی ہے کہ اس خطے کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنایا جائے، لیکن اسلام آباد نے اس مطالبے پر کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں کی۔ تکنیکی طور پر ایسا ممکن نہیں کہ گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے حل سے پہلے پاکستان میں شامل کیا جائے۔ اس حوالے سے ریاست پاکستان کا موقف واضح ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین اہم فیصلے بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔یہ بات ایک سیاسی نعرہ تھی جس کی بنیاد پر وفاقی اور مذہبی جماعتوں نے انتخابات جیتے، لیکن اس کے مقابلے میں قومی سیاست اور مسئلہ کشمیر پر سوشل میڈیا سے پہلے کوئی سنجیدہ گفتگو نہیں ہوئی۔ اس وجہ سے یہاں کے عوام خوش گمانی اور بدگمانی دونوں میں مبتلا رہے کہ ان کے خطے کو صوبہ بنانے میں کشمیری رکاوٹ ہیں، حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ ریاست خود اس بارے میں کوئی اقدام نہیں کر پا رہی۔نتیجہ یہ نکلا کہ نہ یہاں کے عوام کی خواہشات کو آئینی تحفظ دیا جا رہا ہے، اور نہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں عملی اقدامات ہو رہے ہیں۔ یوں گلگت بلتستان کالونیل نظام کے تحت چل رہا ہے۔ بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کب اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کرے گا؟ مسئلہ کشمیر کو اصولی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان پہل کرے اور اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں اقوامِ متحدہ کے طے کردہ فریم ورک کے مطابق اصلاحات لائے۔ تب ہی عالمی برادری بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے اخلاقی جواز رکھے گی۔اس وقت گلگت بلتستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے انحراف نہیں بلکہ مقامی آبادی کی امنگوں اور شناخت سے انکار ہے۔ ایسے میں اگر کشمیری عوام ایک خودمختار ریاست کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ ایک فطری ارتقا ہے، جس کا عالمی اصولوں کے مطابق احترام کیا جانا چاہیے۔تاہم ایسا لگتا ہے کہ گلگت بلتستان کا مستقبل تیسری بار غلامی کے سوا کچھ نہیں، جس کے لیے گلگت بلتستان کی نئی نسل، جو اب بیدار اور فعال ہے، کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے تناظر میں اپنا حق لینے کے لیے پرعزم ہو کر جہدوجہد کرے۔لہٰذا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے تیسرے آپشن یعنی خودمختار کشمیر کی طرف رجوع ایک تاریخی موقع ہو سکتا ہے، بشرطیکہ پاکستان پہلے خود اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر دیانت داری سے عمل شروع کرے۔ ورنہ گلگت بلتستان اور کشمیر جیسے خطوں کے عوام کا ریاستی اداروں سے اعتماد ختم ہوتا جائے گا، اور یہ مسئلہ صرف بین الاقوامی نہیں بلکہ داخلی استحکام کا بھی بحران بن جائے گا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں