کہتے ہیں کہ ہر انسان کی دو زبانیں ہوتی ہیں ایک وہ جس سے وہ بول کر اپنا مدعا اور بات بیان کر دیتا ہے لیکن بسا اوقات کچھ کہنے کے لیے اس کی یہ زبان ساتھ نہیں دیتی اور لفظ کبھی کبھی کم پڑ جاتے ہیں اور جذبات کنٹرول میں نہیں رہتے ایسے میں آنکھیں بول اٹھتیں ہیں کیونکہ ہماری دوسری زبان ہمارے آنسوں ہی میں چھپی ہوتی ہے ۔یہ آنسو انسان کی وہ زبان ہوتے ہیں جو اس کے دل کی کہانی بغیر بولے سناتے ہیں ۔رونے سے شدت جذبات اور غصے میں کمی آتی ہے ۔عام طور کہا جاتا ہے کہ انسان تب روتا ہے جب اس کے دل پر چوٹ پڑتی ہے اور درد انتہا کو چھونے لگتا ہے عام طور پر جدائی کے لمحات ،بچھڑتےہوۓ رشتے ،ٹوٹتے خواب اور کھوئی ہوئی امیدیں ،کچھ کھو دینے کا احساس ،گناہوں پر ندامت ،جب سب مل کر دل کے بند دروازے پر دستک دیتے ہیں تو درد کی لہریں آنکھوں کے بند کواڑ وں کو توڑ کر آنسوں کی صورت بہہ نکلتی ہیں ۔لیکن انسان صرف غم میں ہی نہیں روتا ،خوشی میں بھی روتا ہے جب برسوں کی دعائیں اور خواہشات بر آتی ہیں ۔جب خوابوں کی تعبیر ملتی ہے ۔جب کوئی اپنا سینے سے لگا کر کہتا ہے کہ تمہارا دکھ میرا دکھ ہے تو آنکھیں خوشی ومسرت سے چھلک کر آنسوں کے موتی بکھیر دیتی ہیں ۔کبھی ہار اور شکست کے دکھ سے روتا ہے تو کبھی جیت اور فتح کی خوشی پر آنسو آمڈ آتے ہیں اور خوشی کی شدید ترین کیفیت بھی آنکھوں کو نم کردیتی ہے ۔وہ ماں بھی روتی ہے جسے برسوں کی دعاوں اور منتوں مرادوں کے بعد اولاد کی نعمت عطا ہوتی ہے ،وہ باپ بھی روتا ہے جب اسکی اولاد ترقی کی منزلیں طے کرکے اس سے چھن جاتی ہے ۔ وہ عاشق بھی روتا ہے جو محبوب کی ایک جھلک دیکھ کر اپنی دنیا آباد کر لیتا ہے وہ دیوانہ بھی جو کچھ پا کر بھی گنوا بیٹھے اور وہ سپاہی بھی روتا ہے جو وطن کی خاطر قربانی دیتے ہوۓ آخری سانسیں لے رہا ہوتا ہے ۔وہ نوجوان بھی بے یقینی کے عالم میں روتا ہے جو اپنے امتحان میں کامیاب ہو جاۓ ۔یہ رونا کبھی احتجاج ہوتا ہے تو کبھی شکر اور کبھی عبادت ،کبھی خاموش فریاد تو کبھی بےبس التجااور پھر کبھی جب وہ اندر سے ٹوٹتا ہے اور روح کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔کہتے ہیں کہ جو دل رونا بھول جاتے ہیں وہ زندگی جینا بھی بھول جاتے ہیں کیونکہ آنسو ہی تو اندر کا میل کچیل دھوتے ہیں اور انسان کو بلکا پھلکا کر دیتے ہیں ۔ندامت کے آنسو اور سجدۓ میں گر کر اپنے رب سے راز ونیاز اس کی روح کو پھر سے تازہ کر دیتا ہے ۔تب وہ توبہ کا ذریعہ بنتے ہیں جو اسے باقی تمام مخلوقات سے افضل و ممتاز بنا دیتے ہیں ۔جب الفاظ ساتھ چھور دیتے ہیں جب دعاوں کے لیے حروف کم پڑنے لگ جاتے ہیں ،تب آنسو ہی زبان بنتے ہیں جو براہ راست عرش تک رسائی پاتے ہیں ۔قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے کہ “اور جب ان پر آیات سنائی جاتی ہیں تو ان کی آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں اور ان کے دل نرم ہو جاتے ہیں ” آنسو بہانے والا انسان یہ پیغام دیتا ہے کہ اس میں انسانیت زندہ ہے اور دل نرم ہے ۔جو دل آنسو نہ بہاۓ وہ دل پتھر بن جاتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ انسانی زندگی کی ابتدا بھی رونے سے شروع ہوکر رونے پر ہی ختم ہوتی ہے۔
میرے رونے کا جس میں قصہ ہے
عمر کا بہترین حصہ ہے
انسان تب بھی روتا ہے جب لاچاری و نامرادی اسے گھیر لیتی ہے اور جب جب لفظ اس کی بےبسی اور بےچارگی کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو جاتے ہیں ۔دل دکھ برداشت کرنے سے انکار کردیتا ہے ۔بعض اوقات تو انسان خود بھی نہیں جانتا کہ وہ کیوں رو رہا ہے بس دل بھر آتا ہے اور آنکھیں گواہی دیتی ہیں کہ انسان محض گوشت پوست کا پتلا نہیں بلکہ احساسات اور جذبات کا جیتا جاگتا سمندر ہے ۔انسان اس وقت بھی روتا ہے جب رب کی بارگاہ میں جھک کر اپنی کم مائیگی اور خطاوں کا اعتراف کرتا ہے ۔دعاکے لمحے ،رات کو تنہاٰ ئی کے سجدۓ کے سناٹے میں یا کسی شرمندگی کے کمزور لمحات میں اپنے خالق کے سامنے دل کے زخم کھولتا ہے تو آنسو کی زبان میں ہی بات کر پاتا ہے ۔ہمارا خدا ہمارے آنسوں کی زبان بہت جلد سنتا ہے کسی ایک دکھیا کے آنسو سےپورا عرش ہل جاتا ہے ۔رونا کمزوری کی علامت نہیں یہ ہمارے انسان ہونے کی دلیل ہے ہماری روح کے لطیف ہونے کی علامت ہے ۔آنسو بتاتے ہیں کہ ضمیر اور دل ابھی زندہ ،ہیں اور امید کی کرن ابھی باقی ہے ،محبت دل میں موجزن اور سلامت ہے ۔ہماری آنکھ کے آنسو اکثر وہ راز بھی سنا دیتے ہیں جو کبھی زبان سے بیان ہو ہی نہیں سکتے ۔انسان کیوں روتا ہے ؟ کیونکہ وہ انسان ہے وہ احساس کا مجسمہ ہے،وہ محبت ،دکھ ،خوشی اور لاچاری کا آئینہ ہےسب سے بڑھ کر وہ اشرفالمخلوقات کے بلند درجہ پر فائز ہے ۔رونا اس کے زندہ دل ہونے کی دلیل ہے اس کے انسان ہونے کی گواہی ہے۔دکھ وصدمہ ،خوشی کی انتہا ،بےبسی ولاچاری ،روحانی کیفیت اور جذبات کا اظہار،خوف ودہشت ،احساس جرم یا ندامت ،آنسو بہاےبغیر چارہ نہیں ہے ۔کچھ کھونے اور گنوانے کا احساس اور گناہ کے پچھتاوۓ پر ندامت کے آنسو توبہ کا دروازہ کھول دیتے ہیں ۔واصف علی واصف فرماتے ہیں کہ “آنسو خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہنے دیتا ” کیونکہ جو آنسو ہم خاموشی سے بہاتے ہیں وہ اس درد کو بیان کر دیتے ہیں جو چھپانا چاہتے ہیں ۔ہمارے ملتان سے ایک نوجوان شاعر شہزاد احمد کا شعر ہے کہ
میں رونا چاہوں بھی تو رو نہیں سکتا
آۓ گا حرف میری مردانگی پر
انسان کا سب سے گہرا اور تکلیف دہ رونا وہ ہوتا ہے جب تکلیف اسقدر بڑھ جاۓ کہ آنسو باہر ٹپکنے کی بجاۓ اندر ہی بہنے لگیں ۔یہ خاموش رونا سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ یہ کسی کو دکھائی نہیں دیتا ،سمجھ نہیں آتا ،یہاں تک کہ محسوس بھی نہیں ہو پاتا ۔یہ وہ کیفیت ہے جب دل رو رہا ہوتا ہے مگر آنکھیں خشک رہتی ہیں ۔یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان اتنا ٹوٹ چکا ہوتا ہے کہ آ نسو بہانے کی سکت بھی نہیں رہتی ۔اس بےآواز اور خاموش رونے کی گونج انسانی جسم کے کونے کونے میں اندر ہی اندر سنائی دیتی ہے۔یہ تب ہوتا ہے جب انسان صدمے کی شدت کی تمام حدود کراس کر جاتا ہے ،مگر اس کی خود داری اور مردانگی اسے دنیا کے سامنے اظہار کی اجازت نہیں دیتی ۔جب انسان بار بار کے رونے سے تھک کر نڈھال ہو جاتا ہے یا جب انسان اندر سے مکمل ٹوٹ جاتا ہے ۔یہ ایسی ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے جس میں آنسو نکلنے کی بجاۓ اندر ہی اندر جذب ہوتے رہتے ہیں ۔بظاہر انسان ہنستا مسکراتا دکھائی دیتا ہے لیکن اندر ایک ایسا ماتم برپا ہوتا ہے جو اسے رونے بھی نہیں دیتا ۔ہمارے استاد کہا کرتے تھے کہ عزت و غیرت کا دکھ ،کچھ مداوا نہ کر پانے کی بے بسی اور لاچاری یا کچھ ایسا برداشت کرنے کی کوشش جو کسی انسان سے برداشت نہ ہو سکتی ہو ۔ایسے رونے پر آنسو نکلنا بھی چاہیں تو نکل نہیں سکتے ۔چپ چاپ سلگنے اور جلنے کا یہ عمل انسان کو راکھ بنادیتا ہے بےشمار لوگ اس شدت غم یا شدت خوشی سے جان بھی گنوا دیتے ہیں یا پھر اپنے آپ کو نقصان بھی پہنچا لیتے ہیں ۔آج کل غیرت کے نام پر قتل اور خود کشی اسی کے ناقابل برداشت ہونے کا رد عمل ہوتے ہیں ۔اس لیے رونا بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہے اور آنسو کا بہہ جانا ہی انسانی زندگی کی بقا سمجھا جاتا ہے ۔کسی دکھ پر اگر کوئی نہ روۓ اور گم سم ہوجاۓ تو خطرناک ہوجاتا ہے۔ اسے ڈئپریشن سے باہر نکالنے کے لیے مختلف طریقوں سے رولانے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ طبی ماہرین کے مطابق رونا ایک ایسا فطری عمل ہے جس کے ذریعے انسان اپنے جذباتی دباؤ کو کم کرتا ہے ۔آنسو بہانے سے انسان کو ذہنی سکون ملتا ہے اور دماغ میں “اکسیٹوسن ” اور “اینڈورفنز “جیسے کیمیکل خارج ہوتے ہیں جو دکھ کی شدت میں کمی لاتے ہیں ۔اسی لیے مشہور شاعر محسن نقوی نے کہا تھا
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کردے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں