• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • گلگت بلتستان میں تعلیمی کامیابی اور نوجوانوں کا مستقبل – ضلع وار جائزہ/شیر علی انجم

گلگت بلتستان میں تعلیمی کامیابی اور نوجوانوں کا مستقبل – ضلع وار جائزہ/شیر علی انجم

سال 2025 کے میٹرک امتحانات میں گلگت بلتستان کے طلباء کی کارکردگی نے ایک مرتبہ پھر محنت، لگن اور قابلیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ کل 9159 طلباء نے امتحانات دیے جن میں سے 8421 نے کامیابی حاصل کی، یعنی 92 فیصد طلباء پاس ہونے کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ نمایاں کارکردگی بتاتی ہے کہ تعلیمی معیار میں بہتری آئی ہے، مگر ساتھ ہی نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے کئی چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔

سرکاری اعداد شمار کے مطابق خطے میں ضلع وار تعلیمی کارکردگی کی رپورٹ کچھ اس طرح ہے:

1- ضلع غذر: اعدادوشمار کے مطابق ضلع غذر سب سے بہتر رہا، جہاں 1484 میں سے 1447 طلباء نے کامیابی حاصل کی، جو 98 فیصد کامیابی کی شرح ہے۔ یہ ضلع تعلیمی میدان میں بہترین مثال ہے۔ سیاسی اور شعوری میدان میں بھی ضلع غذر کا شمار گلگت بلتستان کے باشعور اضلاع میں ہوتا ہے۔

2- ضلع دیامر: دیامر 96 فیصد کامیابی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جہاں 808 طلباء میں سے 779 کامیاب ہوئے۔ یہ یقیناً خوش آئند ہے، جس پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

3- ضلع گلگت:یہاں 1136 میں سے 1076 طلباء کامیاب ہوئے، یعنی 95 فیصد کامیابی کی شرح۔

4- ضلع گانچھے:اس ضلع میں 94 فیصد طلباء میٹرک میں کامیاب ہوئے۔

5- ہنزہ اور استور: ان دونوں اضلاع میں تقریباً 91 فیصد طلباء نے کامیابی حاصل کی، جو کہ حوصلہ افزا ہے۔

6- ضلع نگر اور شگر: یہاں 89 فیصد کامیابی ریکارڈ کی گئی۔

7- ضلع کھرمنگ اور سکردو: مشترکہ طور پر 87 فیصد کامیابی کے ساتھ یہ اضلاع نویں نمبر پر موجود ہیں۔

اگرچہ تعلیمی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے، مگر میٹرک کے بعد نوجوانوں کے لیے مقامی سطح پر اعلیٰ تعلیمی اداروں کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اکثر طلباء کو مجبوراً شہروں کی طرف ہجرت کرنی پڑتی ہے، جہاں رہائش، تعلیم اور روزگار کی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ خاص طور پر غریب خاندانوں کے بچوں کے لیے یہ چیلنج مزید سنگین ہو جاتا ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ضلع میں سرکاری کالج اور یونیورسٹی کیمپس قائم کیے جائیں تاکہ تعلیم کے دروازے مقامی سطح پر کھلیں۔ اگر صرف کھرمنگ کی بات کریں تو پورے ضلع میں ایک ہی کالج ہے، وہ بھی تعلیم کے بجائے ملازمین کی نوکریوں کے لیے بنایا گیا ہے، اور یہ کالج محدود گاؤں کے علاوہ پورے ضلع کو مستفید کرنے سے قاصر ہے۔تاہم، اب طولتی میں کالج کا قیام نیک شگون ہے، اور یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ اس کالج میں باقاعدہ ٹرانسپورٹ سسٹم بھی موجود ہے، جو دور دراز سے آنے والے طلباء کو سہولیات فراہم کرتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کالج کو مزید فعال بنایا جائے، اور دور دراز سے آنے والے مستحق اور ذہین طلباء کے لیے بس کی ماہانہ فیس سرکاری سطح پر یا ضلعی انتظامیہ کے سوشل ویلفیئر فنڈز کے تحت ادا کی جائے، تاکہ کوئی بھی غریب بچہ اعلیٰ تعلیم سے محروم نہ رہے۔

جہاں کالجوں کی عدم موجودگی ایک سنگین مسئلہ ہے، وہیں اچھے نمبر حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کے لیے کسی قسم کی اسکالرشپ، مالی امداد اور وظائف کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے، تاکہ مستحق طلباء بلا رکاوٹ اپنے ہی گاؤں میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ اسی طرح ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جا سکے اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم ہوں۔ اس کے علاوہ اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی سہولیات کو بہتر بنایا جائے تاکہ معیارِ تعلیم بلند ہو۔

Facebook Comments

شیر علی انجم
مصنف بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معیشت و بین الاقوامی امور اور مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply