ملحد/ اقتدار جاوید

الحاد خدا کا انکار ہے اور دہریت اس کی فکری تشکیلات پر مبنی ایک تحریک ہے۔جب ملحد مذہبی عقائد کی من پسند تشریح کرتا ہے تو وہ اسی دہریت کی فکری تحریک کا ہی دست و بازو بنتا ہے۔الحاد کا معنی ایک طرف ہو جانا ہے۔ملحدین آیات ِقرانی سے انحراف کرتے ہیں اور جو آیات قرانی کے اپنے مطالب نکالے وہ بھی زمرہ ِالحاد میں آتا ہے۔یوں تو مختلف زایوں سے سوچنا اور سوال اٹھانا عین تہذیب ہے اور اس بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں مگر دو نمبر لوگوں کی تو جیسے لاٹری نکل آئی ہے۔انہیں ایک ایسے پلیٹ فارمز میسر آ گئے ہیں جن سے وہ کئی مبتدی اذہان کو باقاعدہ ہانکا لگا کر گھیرتے ہیں۔جس طرح نابالغ بچوں کو جنسی ترغیب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ویسے ہی وہ نابالغ اذہان کو ملحدانہ جال میں پھنساتے ہیں۔عموماًان کا ٹارگٹ نوجوان نسل ہوتی ہے جن کی عقل کی ابھی مسیں بھیگ رہی ہوتی ہیں، جذباتی ہوتے ہیں اور جذبات کی رو میں لایعنی سوالات کو اہم سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔
جدید قسم کے الحادیے علم کو بنیاد نہیں مانتے اور فری تھنکر ہونے کا یا فری تھنکنگ کے ذریعے خود کو ٹیگ کرانا اور اسی نام سے جانے جانے کو اپنے لیے عافیت گاہ سمجھتے ہیں۔فری تھنکنگ اور الحاد کے فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔الحاد خدا کا انکار ہے جب کہ فری تھنکنگ میں مذہب کے علاوہ دوسرے بھی دوسرے معاملات کے بارے میں سوال اٹھایا جاتا ہے۔فری تھنکنگ ایک رویہ ہے جس میں ثقافتی نظریات ہوں یا سماجی مسائل ہوں سائنسی نظریات ہوں یا سماج کے اصول ہوں ان کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور سوال اٹھایا جاتا ہے۔مذہب بھی فری تھنکنگ کا موضوع ہوتا ہے۔مثلاً فری تھنکنگ یہ بھی ہے کہ آپ زندگی میں کیا کرنا چاہتے ہیں کس فیلڈ میں جاب کرنا چاہتے ہیں کون سا شعبہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔یہاں معاشرہ ایک سائڈ پر اور فری تھنکنگ کا آپشن دوسری طرف ہوتا ہے۔معاشرے کی ناروا پابندیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے لیے اپنی پسند کا شعبہ اختیار کرنا فری تھنکنگ کی عمدہ مثال ہے۔الحاد اور فری تھنکنگ میں کچھ مماثلات ہوں بھی تو دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔جو لوگ جو خود کو اتھیسٹ ہونے کا دعوی رکھتے ہیں ان کا معاملہ ذات خدا وندی ہے جس کے وہ منکر ہوتے ہیں۔کوئی اگر یہ کہے کہ میں خدا کو نہیں مانتا تو وہ ملحد تو ہو سکتا ہے ضروری نہیں وہ فری تھنکنگ پر بھی یقین رکھتا ہو۔منطق دلیل آزادانہ رائے اور تنقیدی جائزہ لینا اس میں شامل ہیں۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ملحد صرف خدا کی ذات کا انکار کرتا ہے جبکہ فری تھنکنگ کا فوکس کسی ایک موضوع تک محدود نہیں۔وہ ایک اپروچ ہے عقیدہ نہیں۔جب ملحد کسی عقیدے کا انکار کرتا ہے تو وہ خود بھی تو ایک نظریے کا موئد ہی ہو جاتا ہے۔
آج کل کے پاکستان میں جنم لینے والے ملحدین خود کو فری تھنکر یا آزاد خیال کہلوانا چاہتے ہیں۔پاکستانی ملحدین کا دائرہ کار اور ٹارگٹ مخصوص پاکستانی سوسائٹی کے نوجوان لوگ ہیں۔ان کے مخاطبین پاکستانی ہیں۔یہ مخصوص چند لوگوں مذہب اسلام، اس کی بنیاد، اسلامی اسطور اور انبیا کرام کے بارے میں غیر سنجیدہ رویہ اپناتے ہیں، کبھی واضح اور کبھی غیر محسوس طریقے سے اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتے ہیں۔مثلاً ایک ملحد جو بزعم خود خود کو کوئی توپ شے سمجھتے ہیں انہوں اسلامی شعائر کی یوں توہین کی اور مذاق اڑایا۔
” اسلامی اساطیر کے مطابق قوم عاد کے لوگ بارہ گز قامت کے ہوتے تھے۔ بقرعید پر وہ لوگ ڈائنوسار ذبح کرتے تھے” اور “ہمارے دوست اعجاز حسین نے تجویز پیش کی ہے کہ چونکہ قربانی کی کھالیں مسجدیں لیتی ہیں، اس لیے جانوروں کو ان مسجدوں ہی میں باندھنا چاہیے تاکہ گلی محلوں میں گندگی نہ پھیلے۔ میں اس میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ ٹھیک اسی مقصد سے ملاؤں کو بھی مسجدوں میں باندھ کے رکھنا چاہیے۔”
مندرجہ بالا اقتباسات اس آدمی کے خبث باطن کو ظاہر کرنے کے لیے کافی و شافی ہیں۔دوئم یہ صاحب ان معاملات کو چھیڑتے ہیں جن کا علما اور مفسرین کی طرف سے جواب دیا جا چکا ہے۔ایک اور صاحب ہیں ان کا تو ذکر ہی اپنی زبان پلیت کرنا ہے کہ وہ جو کچھ لکھتا ہے اس کا ذکر کرنا ہی نامناسب ہے۔وہ ایک منور ظریف ٹائپ سکالر ہے۔
آج کل کا دور رونق میلے کا دور ہے سنجیدہ اور عالمی بحث مباحثے کے لیے مناسب نہیں اور نہ ان کو تخلیق کرنے کا یہ مقصد تھا۔مگر اب یہ پلیٹ فارم دو نمبر لوگوں کی جنت ہے۔یہ حسن بن صباح کی جنت ہے۔جس کا اصل جنت سے تعلق نہیں مگر اس کے جھولے جنت والے ہی ہیں۔یہی نہیں یہاں کئی شاعرات ایسی میں جو فیس بک پر اپنی وال فحش گفتگو تک کے لیے رات گئے اوپن کرتی ہیں اور مقصد کے حصول کے بعد وال بند کر دی جاتی ہے اور پوسٹ ڈیلیٹ کر دی جاتی ہے۔اس کاروائی کا مقصد لائکس اور کمنٹس کا حصول ہوتا ہے۔ان دو اشخاص کی دنیا بھی چوبیس گھنٹوں پر مشتمل ہوتی ہے۔انہی چوبیس گھنٹوں میں ان کی علمی سطح کا غبارہ بلند ہوتا اور پھٹتا ہے۔
آزاد خیالی یا فری تھنکنگ کی مثال غلام احمد پرویز جیسے اصحاب ہیں جن کا مطالعہ وسیع، انداز فکر عالمانہ اور لہجہ تہذیب آمیز ہے مگر یہ لوگ اپنی پوسٹس کو اپنی جذباتی تسکین کا ذریعہ بناتے ہیں۔ایک دو سو لایکس اور چالیس پچاس کمنٹس کے دائرے میں گھومتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔یہ باقاعدہ مفکرین بھی نہیں اور مصنفین تو ہر گز نہیں ہیں۔ان کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ کوئی مبسوط مقالہ یا اپنے خیالات کو کتابی شکل میں لانے کا بندوبست کریں تا کہ علمائے خیر اس کا مسکت جواب دینے کی پوزیشن میں ہوں۔ان کی پوسٹس

julia rana solicitors london

Ahmad Khyal کو ہماری مادری زبان پنجابی میں ” شرلیاں” کہتے ہیں۔

Facebook Comments

اقتدار جاوید
روزنامہ 92 نیوز میں ہفتہ وار کالم نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply