کوہستان کرپشن اسکینڈل/زبیر اسلم بلوچ

پاکستان کی سیاسی تاریخ ہمیشہ سے تنازعات، الزامات اور اسکینڈلز سے بھری رہی ہے، لیکن کوہستان کرپشن اسکینڈل نے بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ بات صرف مالی خرد برد کی نہیں، بلکہ عوامی اعتماد کے ساتھ کھلواڑ اور اقتدار کی ہوس کی عبرتناک مثال ہے۔ تحریک انصاف جو اپنے آپ کو “تبدیلی” کا علمبردار کہتی ہے، اس اسکینڈل نے اس کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔
کوہستان، خیبر پختونخوا کا ایک پسماندہ علاقہ، جہاں ترقیاتی منصوبوں کی بات تو بہت کی جاتی ہے، لیکن عملی طور پر زمین پر کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ اسکینڈل اس وقت منظر عام پر آیا جب نیب نے کوہستان میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر کی گئی مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات شروع کیں۔ نیب کے مطابق، پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے دور میں کوہستان میں کاغذات پر کئی بڑے منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے، لیکن عملی طور پر نہ کوئی سڑک بنی، نہ ہسپتال تعمیر ہوا، نہ ہی کوئی اسکول یا پل وجود میں آیا۔ یہ سب کچھ صرف فائلوں اور کاغذات تک محدود رہا۔”
نیب کی کارروائیوں نے انکشاف کیا کہ تقریباً 200 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کو مختلف منصوبوں کے نام پر نکلوایا گیا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، ان منصوبوں کے لیے مختص رقوم یا تو ٹھیکداروں کے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل ہوئیں یا پھر جعلی چیکوں کے ذریعے غائب کر دی گئیں۔ اس بدعنوانی کے نیٹ ورک میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے لے کر مقامی ٹھیکداروں تک شامل تھے، جن میں پی ٹی آئی کے کچھ اہم رہنما بھی نمایاں ہیں۔
نیب کی حالیہ کارروائیوں نے اس اسکینڈل کے کئی خوفناک پہلوؤں کو بے نقاب کیا۔ تحقیقات کے دوران 25 ارب روپے کے اثاثے منجمد کیے گئے، جن میں 1 ارب روپے نقد، 3 کلو سونا، غیر ملکی کرنسی، اور 77 لگژری گاڑیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، 73 بینک اکاؤنٹس فریز کیے گئے، جن سے 5 ارب روپے برآمد ہوئے۔ یہ تمام اثاثے مبینہ طور پر ان ٹھیکداروں اور عہدیداروں کے نام پر تھے جو اس کرپشن نیٹ ورک کا حصہ تھے۔
سب سے چونکا دینے والا انکشاف پی ٹی آئی کے رہنما اعظم سواتی کا نام سامنے آنا تھا۔ نیب کے مطابق، اعظم سواتی کے ذاتی اکاؤنٹ میں 300 ملین روپے منتقل کیے گئے، لیکن وہ نیب کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ، کروڑوں روپے مالیت کے پلازوں، گھروں اور دکانوں کی تفصیلات بھی سامنے آئیں، جو مبینہ طور پر اس کرپشن سے حاصل کی گئیں۔
اس اسکینڈل کی سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ یہ کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے عوامی وسائل کی لوٹ مار کی گئی۔ نیب کی رپورٹس کے مطابق، ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں کے لیے جعلی کمپنیوں کا سہارا لیا گیا۔ ان کمپنیوں نے کاغذات پر منصوبوں کی تکمیل کے جعلی سرٹیفکیٹس جمع کیے اور اربوں روپے وصول کیے۔ کچھ معاملات میں، منصوبوں کے لیے مختص زمین ہی فروخت کر دی گئی، جبکہ کچھ جگہوں پر معمولی کام دکھا کر بڑی رقوم نکلوائی گئیں۔
یہ نیٹ ورک صرف مقامی ٹھیکیداروں تک محدود نہیں تھا۔ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے مبینہ طور پر ان جعلی منصوبوں کو منظوری دی اور فنڈز کی منتقلی میں سہولت فراہم کی۔ اس کے بدلے میں، وہ کمیشن اور دیگر مراعات حاصل کرتے تھے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ پی ٹی آئی، جو اپنے سیاسی بیانیے میں بدعنوانی کے خاتمے کی بات کرتی رہی، اسی بدعنوانی کا شکار ہوئی یا اسے فروغ دیا۔
کوہستان جیسے پسماندہ علاقے کے لیے 200 ارب روپے کی رقم کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ وہ خطیر رقم تھی جو اس علاقے کی تقدیر بدل سکتی تھی۔ اس سے ہسپتال، اسکول، سڑکیں اور پلوں کی تعمیر ہو سکتی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے، یہ پیسہ عوام کی بجائے چند افراد کی تجوریوں میں چلا گیا۔ کوہستان کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ نہ تو ان کے پاس صاف پانی ہے، نہ بجلی، اور نہ ہی علاج معالجے کی مناسب سہولیات۔ یہ اسکینڈل صرف مالی بدعنوانی کی کہانی نہیں، بلکہ کوہستان کے غریب عوام کے ساتھ کیے گئے ظلم کی داستان ہے۔
پی ٹی آئی کے ترجمانوں نے اس اسکینڈل کو “سیاسی انتقام” قرار دیتے ہوئے نیب کی کارروائیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد پی ٹی آئی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ لیکن نیب کی جانب سے پیش کیے گئے ٹھوس شواہد، جیسے کہ منجمد کیے گئے اثاثے، برآمد شدہ نقدی، اور فریز کیے گئے بینک اکاؤنٹس، ان کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ عوام اب یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی واقعی بدعنوانی کے خاتمے کی علمبردار ہے، تو اس کی اپنی صوبائی حکومت میں یہ سب کچھ کیسے ہوا؟
کوہستان کرپشن اسکینڈل سے ایک بات تو طے ھوئی کہ پاکستان میں بدعنوانی ایک گہرا مرض ہے، جو کسی ایک جماعت تک محدود نہیں۔ پی ٹی آئی، جو اپنے آپ کو دوسروں سے مختلف ثابت کرنے کی کوشش میں تھی، اس اسکینڈل نے اس کی ساکھ کو شدید دھچکا لگایا ہے۔ عوام کا پیسہ لوٹنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نیب کی کارروائی ایک اچھا آغاز ہے، لیکن اسے مکمل شفافیت کے ساتھ اپنے منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔
کوہستان کے عوام، جو برسوں سے ترقی کے منتظر ہیں، اس اسکینڈل کے بعد ایک بار پھر مایوسی کے عالم میں ہیں۔ لیکن یہ مایوسی ایک نئے عزم کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔ اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں، تو ہمیں نہ صرف بدعنوان عناصر کا احتساب کرنا ہوگا، بلکہ ایک ایسا نظام بھی بنانا ہوگا جو شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنائے۔ ووٹ کا تقدس اور عوامی اعتماد کوئی مذاق نہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے مستقبل کے لیے کھڑے ہوں اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply