• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • سلسلہء خطوط/دو طبیب،دو ادیب،دو حبیب(ڈاکٹر خالد سہیل/ڈاکٹر عابد نواز)-خط نمبر13,14

سلسلہء خطوط/دو طبیب،دو ادیب،دو حبیب(ڈاکٹر خالد سہیل/ڈاکٹر عابد نواز)-خط نمبر13,14

خط نمبر ۱۳-ڈاکٹر ۔خالد سہیل کا ڈاکٹر عابد نواز کو خط

ماہر امراض چشم ڈاکٹر عابد نواز !

حضور والا۔۔۔مجھے آپ کا محبت نامہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ میرا دوست نہ صرف ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر ہے بلکہ اتنا اعلیٰ پیمانے کا ٹیچر بھی ہے۔ اتنے ایوارڈ پانے پر دلی مباکباد۔
مجھے سہیل زبیری اور عابد نواز جیسے دوستوں کی کامیابی کا سن کر مسرت کے ساتھ ساتھ فخر بھی ہوتا ہے۔
آپ کی شخصیت میں ڈاکٹری کے ساتھ ایک درویشی بھی ہے اسی لیے آپ نہایت عاجزی و انکساری سے کام لیتے ہیں۔
آپ کے والد بھی استاد تھے اور میرے والد بھی استاد تھے۔ ہم دونوں کو درس و تدریس کا وصف وراثت میں ملا ہے۔ میں بھی ٹیچنگ سے بہت محظوظ ہوتا ہوں بلکہ تھیریپی کو بھی ٹیچنگ ہی سمجھتا ہوں۔یہ تھا پیشہ ورانہ رویہ جہاں تک ذاتی زندگی کا تعلق ہے آپ تو راہ راست پر سفر کرتے ہیں اور فدوی کا یہ حال ہے کہ بقول عارف عبدالمتین
عمر گزری ہے تری اوروں کو دیتے ہوئے درس
کیا کبھی خود کو بھی سمجھایا ہے تو نے عارف
حضرت عابد و زاہد !
پچھلے دنوں۔۔۔سالک۔۔۔کتاب کی رونمائی ہوئی۔ اس دن کے بارے میں میں نے ڈائری کا ایک ورق لکھا تھا۔ چونکہ آپ جغرافیائی فاصلے کی وجہ سے اس میں شامل نہ ہو سکے اس لیے وہ ورق حاضر خدمت ہے۔
۔۔۔۔۔

ادبی ڈائری کا ایک ورق : سالک کی رونمائی کی تقریب

دو فروری دو ہزار پچیس کی سالک کی رونمائی کی تقریب کئی حوالوں سے اہمیت و معنویت کی حامل تھی۔
پہلا حوالہ یہ تھا کہ جہاں ہم نے چار دوستوں کو اظہار خیال کی دعوت دی تھی جن میں شاہد اختر‘ بلند اقبال‘ حامد یزدانی اور منیر سامی شامل تھے‘ وہیں چار ادبی دوستوں نے خود بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے لکھنے اور پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جو سارہ علی‘ اسما وارثی‘ مرزا یاسین بیگ اور حضرت شام تھے۔ تقریب میں دوستوں نے بڑی محبت اور اپنائیت اور خلوص دل سے اپنی آرا کا اظہار کیا۔

دوسرا حوالہ یہ تھا کہ امیر حسین جعفری نے اس تقریب کی میزبانی کی ذمہ داری سنبھالی۔ وہ پچھلے سال ایک سٹروک کا اتنی شدت سے شکار ہوئے تھے کہ بات چیت بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اب وہ اتنے بہتر ہو گئے ہیں کہ انہوں نے تقریب کی نظامت کے فرائض بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ انہیں صحتیاب دیکھ کر سب دوستوں کو مسرت ہوئی۔

تیسرا حوالہ یہ تھا کہ جب تقاریر کے آخر میں سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ پھیلتا چلا گیا۔۔ لوگ بڑے انہماک سے مکالمے کا حصہ بنتے جا رہے تھے۔
میری بھانجی وردہ نے سٹیج پر آ کر کہا کہ جس طرح سہیل ماموں اپنے چچا عارف عبدالمتین سے سوال پوچھتے تھے اسی طرح ہم اپنے سہیل ماموں سے سوال پوچھتے ہیں اور وہ ان سوالوں کو بڑی خوش دلی سے جواب دیتے ہیں اور سوال و جواب کے سلسلے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔۔ پھر وردہ نے مجھ سے سوال پوچھا
سہیل ماموں سچ کی تلاش کے سفر میں آپ کے لیے سب سے میٹھا اور سب سے کڑوا سچ کیا تھا؟
میں نے کہا سب سے میٹھا سچ یہ احساس تھا کہ میں لوگوں کی رائے کی پرواہ کیے بغیر اپنے ضمیر کی روشنی میں اپنا سچ لکھ سکتا ہوں۔

بقول عارف
بس ایک ثبوت اپنی وفا کا ہے میرے پاس
میں اپنی نگاہوں میں گنہگار نہیں ہوں
اور سب سے زیادہ کڑوا سچ یہ تھا کہ ماضی میں میرے سچ سے کئی دوستوں کے دل دکھ گئے۔ ان دنوں میں ارسطو کے فلسفے پر عمل کیا کرتا تھا جب انہوں نے اپنے استاد افلاطون کے بارے میں کہا تھا
PLATO IS DEAR BUT DEARER STILL IS TRUTH
ARISTOTLE
دھیرے دھیرے مجھے احساس ہوا کہ دوستی سچ سے زیادہ معنویت رکھتی ہے۔
امیر جعفری خدا پرست ہیں اور میں ایک انسان دوست دہریہ۔ اب میرے لیے ان کی دوستی اپنی دہریت سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
سیمینار میں جب ایک دوست نے پوچھا
ڈاکٹر سہیل آپ کے سچ کی تلاش کے سفر کے دوران روایت اور روایتی لوگوں کے بارے میں آپ کی رائے میں کیا تبدیلی آئی ہے؟ تو میں نے اپنے جواب میں دو واقعات کا ذکر کیا
پہلا واقعہ لاہور میں پیش آیا تھا جب ایک پروفیسر صاحب مجھے اور امیر جعفری کو اپنے کالج لے گئے تھے۔ تقریر کے بعد
بہت سی برقعہ پوش خواتین نے میرے ساتھ تصویریں اتروائیں اور مجھ سے اپنی ڈائری میں آتوگراف کی فرمائش کی۔ اس دن مجھے اندازہ ہوا کہ ان برقعوں کے پیچھے زندہ دل خواتین رہتی ہیں۔اس دن کے بعد میں نے کسی مرد کی لمبی داڑھی اور کسی خاتون کے کالے برقعے کو دیکھ کر اس وقت تک رائے قائم نہیں کی جب تک میں ان کی شخصیت سے متعارف نہ ہو گیا۔
دوسرا واقعہ ٹورانٹو میں لطیف اویسی سے ملاقات کا تھا۔ وہ جب بھی کسی سیمینار میں ملتے تو مجھے اپنے گھر بلاتے اور میں ان کی نورانی داڑھی دیکھ کر یہ سوچتے ہوئے معذرت کر دیتا کہ اگر میں ان کے گھر گیا تو کہیں میری آزادانہ بےباکانہ اور باغیابہ گفتگو سے ان کی دل آزاری نہ ہو جائے۔ آخر ایک دن ان کا اصرار اتنا بڑھا کہ میں ایک شام ان کے گھر چلا گیا۔ ان کی بیگم نے لذیذ کھانا کھلایا۔
کھانے کے بعد اویسی صاحب نے بتایا کہ وہ کئی برس سے میری کتابیں ٹورانٹو کی لائبریریوں کو ریکیمنڈ کرتے ہیں اور وہ ان کتابوں کو خرید کر لائبریری میں رکھتے ہیں کیونکہ لوگ میری کتابوں کو بڑے ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں۔
شام کے اختتام پر میں نے اویسی صاحب سے پوچھ ہی لیا
حضور والا آپ جانتے ہیں کہ آپ ایک خدا پرست انسان ہیں اور میں نے کافی عرصے سے خدا کو خدا حافظ کہہ رکھا ہے۔ آخر خدا کا اقراری خدا کے انکاری سے کیوں دوستی کرنا چاہتا ہے۔ کہنے لگے میں آپ کو ایک حدیث سنانا چاہتا ہوں
جب حضور سے ایک صحابی نے پوچھا کہ
سب سے اچھا انسان کون ہے؟
انہوں سب سے اچھے مسلمان نہیں سب سے اچھے انسان کے بارے میں سوال کیا تھا
حضور نے فرمایا تم میں سے سب سے اچھا انسان وہ ہے جو دوسرے انسانوں کی خدمت کرتا ہے
اویسی صاحب نے کہا کہ آپ ایک ماہر نفسیات اور لکھاری کی حیثیت سے انسانوں کی خدمت کرتے ہیں اور ہم سب اس کی عزت کرتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ اگر میرے روایتی دوست مجھ سے ہاتھ ملانا چاہتے ہیں تو مجھے بھی انہیں گلے لگانا چاہیے اور ایک انسان دوست ہونے کے ناطے ان سے دوستی بڑھانی چاہیے۔
انسانیت کا سب سے بڑا حوالہ محبت ہے۔
اب میں اپنی روایتی بہن عنبر کی بھی زیادہ عزت کرتا ہوں کیونکہ وہ اپنے بچوں اور بچوں کے بچوں پر اپنی محبت نچھاور کرتی ہیں۔
ان کی بچوں سے محبت میری کتابوں سے محبت سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
سالک کی تقریب نے مجھے اپنے دوستوں اور خاص طور پر روایتی دوستوں کے زیادہ قریب کر دیا ہے۔ وہ تقریب میری ادبی زندگی کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی ہے۔
تقریب کے آغاز میں رنٹو بھاٹیا نے میری جو غزل گائی اس کے چند اشعار تھے
تجھ سے سب کچھ کہہ کے بھی کچھ ان کہی وہ جائے گی
گفتگو اتنی بڑے گی کچھ کمی رہ جائے گی
اپنے لفظوں کے سبھی تحفے تجھے دینے کے بعد
آخری سوغات میری خامشی رہ جائے گی
حرص کے طوفان میں ڈھے جائیں گے سارے محل
شہر میں درویش کی اک جھونپڑی رہ جائے گی
رات بھر جلتا رہا ہوں میں سہیل اس آس میں
میں تو بجھ جائوں گا لیکن روشنی رہ جائے گی
اس تقریب کے انتظام و اہتمام میں رفیق سلطان پرویز صلاح الدین‘ عرفان‘ ثمر اشتیاق اور محمد مشتاق نے اہم کردار ادا کیا۔
دوستوں نے اعتراف کیا کہ سانجھ پبلشر کے امجد منہاس نے سالک کو بڑی محبت اور اپنائیت سے چھاپا ہے۔
مجھے اس بات کی بھی خوشی ہوئی کہ دوستوں نے میری تحریروں کے ساتھ ساتھ عظمیٰ بنت عزیز کی تصویروں کو بھی سراہا۔

مجھے قوی امید ہے کہ اس تقریب کی یادیں ایک طویل عرصے تک میرے دل کو معطر رکھیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔
قبلہ و کعبہ !
اگر کبھی کوئی ہمارے خطوط پڑھے گا تو ان میں صنعت تضاد پائے گا
آپ پارسا میں پاپی
آپ کے خطوط میں شگفتگی و شادابی
میرے خطوط میں سنجیدگی ہی سنجیدگی
لیکن تضاد میں بھی ایک حسن ہے خاص طور پر ادبی دنیا میں
آپ کا دیرینہ دوست خالد سہیل ۱۱ فروری ۲۰۲۵

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر عابد نواز کا ڈاکٹر خالد سہیل  کے نام خط نمبر 14
جناب درویش عالی مرتبت خالد سہیل صاحب

اس خط میں بلاوجہ تاخیر کے بارے میں مرزا غالب کے مصرعے میں تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ کہوں گا کہ

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر نہ تھا

آپ کی ڈائری کا ورق پڑھ کر سالک کی تقریب رونمائی کے بارے میں آگاہی ہوئی آپ کی بے لوث ادبی اور پیشہ ورانہ خدمات قابل تحسین ہیں برقعہ پوش خواتین اور باریش حضرات اور دوستی اور محبت کی قدر و منزلت کے بارے میں آپ کے فکر کی نکتہ رسی اور تغیر قابل قدر ہے تھراپی کو آپ ٹیچنگ کے طور پر بر تتے ہیں یہ واقعی ایک عظیم خدمت ہے

آپ کے توصیفی کلمات کا شکریہ

مجھے تو اپنا پچھلا خط خود نمائی، خود ستائی اور خود سرائی کی تصویر لگا یعنی

آپ کی بیکار ساری پارسائی ہو گئی
کارناموں سے زیادہ خود نمائی ہو گئی
مختار تلہری

اچھا ہوا بات یہاں تک نہیں پہنچی کہ

تیری میں میں کو سن کے اے واحد
بکریاں شرمسار ہوتی ہیں
عبدالغفار واحد

آپ نے درویش کا لقب بھی دے دیا ہے

اپنی درویشی بھی کچھ ایسی ہے کہ

اس زمانہ میں تو اتنا بھی غنیمت ہے میاں
کوئی باہر سے بھی درویش اگر لگتا ہے
عباس تابش

حقیقی درویشی کا تعلق آپ سے ہی بنتا ہے یہ الگ بات ہے کہ درویش کے ساتھ کبھی یہ کچھ بھی ہوتا ہے کہ

اس شہر کے لوگ بڑے ہی سخی بڑا مان کریں درویشوں کا
پر تم سے تو اتنے برہم ہیں کیا آن کے مانگ لیا تم نے
ابن انشا

صنعت تضاد کا ذکر آپ نے کیا ہے اس کی اپنی ایک اہمیت ہے مگر یہاں معمولی تضاد پر بھی صنعت فساد برپا ہونے کا معمول ہے

جون ایلیا نے بھی اپنے بارے میں کہا تھا

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

تضاد تو دور کی بات ہے کبھی تو سوال بھی یوں وبال بن جاتا ہے کہ

یہ نفسیاتی مریضوں کا شہر ہے قیصرؔ
کوئی سوال اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے
زبیر قیصر

آپ کو یاد ہو گا صنعت تضاد کے بارے میں پہلی بار ہمیں ایڈورڈز کالج میں اردو کے پروفیسر مرزا علی حسن اثیر صاحب نے بتایا تھا اور وہ حلوے والی ح کو جو کچھ کہتے تھے وہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے

آپ نے اپنی سنجیدگی کا ذکر کیا ہے اچھا ہی ہو گا یہ رنجیدگی کی طرف نہ بڑھے

وہ سنجیدہ ہے رنجیدہ نہیں ہے
مری آنکھوں کو کچھ دھوکا نہیں ہے
مهدی باقر خان معراج

سنجیدگی میں بھی اعتدال ہی بہتر رہتا ہے اور کبھی کبھی طبع زاد بچوں کی خوش طبعی بھی در آنی چاہیے

بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے
ندا فاضلی

خط کچھ طویل ہو گیا ہے لہذا اسی پر اکتفا کرنا چاہیے قبل اس کے کہ ذہن میں اور پوائنٹس آجائیں

سودا نے شاید ایسے ہی موقع پر کہا تھا
سودا خدا کے واسطے کر قصہ مختصر
اپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میں
اب اجازت
دوستِ درویش
عابد نواز
٢٦ فروری ٢٠٢٥

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply