معاشرے کو خامیوں اور مسائل سے پاک کرنے کے لیے مختلف تہذیبوں اور ادوار میں مختلف نظریات پیش کیے گئے، لیکن کوئی بھی ایسا مکمل نظریہ پیش نہ کیا جا سکا جو ہر طرح سے انسان کی فطرت سے مطابقت رکھتے ہوئے اس کے تمام مسائل کے حل کی صلاحیت رکھتا ہو۔ بالآخر اسلام کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو ایک ایسے کامل دین سے نوازا، جو حیاتِ انسانی کے ہر شعبہ میں بھرپور رہنمائی کے ساتھ ہر قسم کے مسائل کا بہترین حل پیش کرتا ہے۔ علماء و فقہاء نے ہر زمانے میں شریعتِ اسلامی کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے انسان کو درپیش مسائل کا حل تلاش کیا ہے۔
عصرِ حاضر کے بڑے مسائل میں سے ایک بڑا معاشرتی مسئلہ غیرت کے نام پر قتل کا ہے۔ اس مضمون میں غیرت کے نام پر قتل کی تعریف، اس کے اسباب اور سدِ باب پر شریعت کے اصولوں کی روشنی میں بحث کی جائے گی۔
غیرت کے نام پر قتل
غیرت کے نام پر قتل کو عام طور پر Honor Killing یا Crime of Honor کہا جاتا ہے۔ اس کی تعریف مندرجہ ذیل الفاظ میں کی گئی ہے:
“An act of violence, usually murder, committed by male family members against female family members and their male accomplices, who are held responsible for bringing dishonor upon the family. [1]“
ترجمہ: غیرت کے نام پر قتل ایک پُرتشدد عمل ہے، جو مرد اپنے خاندان کی عورت اور اس کے ساتھی مرد کو قتل کی صورت میں انجام دیتا ہے، کیونکہ وہ خاندان کی بے عزتی کا سبب بنتے ہیں۔
خاندان کی بے عزتی کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں، جن میں گھر سے بھاگ جانا، خاندان کے طے شدہ رشتے سے انکار کرنا، کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی حرکت میں ملوث ہونا یا محض اس طرح کا شک ہونا وغیرہ شامل ہیں۔
غیرت کے نام پر قتل کو مختلف علاقوں میں مختلف نام دیے جاتے ہیں، جیسے پشتون علاقوں میں اسے تور (Tore)، سندھ اور بلوچستان میں کاروکاری (Karo Kari)، اور پنجاب میں کالا کالی (Kalla Kali) کہا جاتا ہے[2]۔
پاکستانی معاشرے میں غیرت کے نام پر قتل کے مختلف اسباب ہیں۔ ذیل میں ان اسباب کا تذکرہ کرکے قرآن و حدیث اور اقوالِ ائمہ کی روشنی میں ان کے شرعی احکام بیان کیے جائیں گے:
بیوی پر بدکاری کا شک ہونا
پشتون معاشرے میں جب شوہر کو اپنی بیوی پر غیر اخلاقی حرکت کا شک ہوتا ہے تو بعض اوقات وہ معاشرے میں اپنی عزت و ساکھ برقرار رکھنے کی خاطر بیوی کو قتل کر دیتا ہے۔ پشتون معاشرے میں یہ کوئی غیر قانونی عمل تصور نہیں کیا جاتا، یہی وجہ ہے کہ مقتولہ کے رشتہ دار بھی قاتل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ ایسے شخص کو عموماً معاشرے میں ایک غیرت مند شخص سمجھا جاتا ہے۔
شریعت کا مؤقف
اس صورت میں شریعتِ اسلامی نے شوہر کو قانون ہاتھ میں لینے کا کوئی اختیار نہیں دیا، بلکہ ایک جامع نظام وضع فرمایا ہے جس میں میاں بیوی دونوں کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِين[3]
ترجمہ:اور جو عیب لگائے اپنی بیویوں کو اور شاہد نہ ہو ان کے پاس سوائے ان کی جان کے تو ایسے شخص کی گواہی کی یہ صورت ہے کہ چار بار گواہی دے اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر مقرر وہ شخص سچا ہے اور پانچویں بار یہ کہ اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہو اس شخص پر اگر وہ جھوٹا ہے۔
اس آیتِ کریمہ کی شانِ نزول مفسرین نے یہ بیان فرمائی ہے کہ ایک شخص، جس کا نام ہلال تھا، نے اپنی بیوی کو ایک اجنبی شخص کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں پایا۔ اس نے اُسے کچھ کہے بغیر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ بیان کیا۔ چونکہ اس کے پاس کوئی گواہ موجود نہ تھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس پر حدِ قذف جاری کرنے کا ارادہ فرمایا۔ لیکن حد کے نفاذ سے قبل اللہ تعالیٰ نے یہ آیتِ کریمہ نازل فرما کر اس معاملے کو عام تہمت سے الگ کر دیا۔ [4]۔اس طریقہ کو شریعت کی اصطلاح میں لعان کہا جاتا ہے،جس کی تعریف ان الفاظ کے ساتھ کی گئی ہے:
هي شهاداتٌ مؤكّداتٌ بالأيمان مقرونةٌ باللّعن قائمةٌ مقام حدّ القذف في حقّه ومقام حدّ الزّنا في حقّها[5]
ترجمہ: لعان ایسی گواہیاں ہیں جو قسموں کے ساتھ مؤکد ہوتی ہیں، اور یہ لعنت پر مشتمل ہوتی ہیں۔ یہ شوہر کے حق میں حدِ قذف جبکہ بیوی کے حق میں حدِ زنا کے قائم مقام ہوتی ہیں۔
اس کا طریقہ قرآن کریم میں بیان فرمایا گیا ہے کہ جب کوئی شوہر اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور اس کے ساتھ اس کے علاوہ کوئی گواہ نہ ہو، تو قاضی کے سامنے پہلے شوہر اپنی سچائی پر چار قسمیں کھائے گا، جبکہ پانچویں قسم میں جھوٹا ہونے کی صورت میں اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بھیجے گا۔ اس کے بعد عورت بھی اسی ترتیب سے پانچ قسمیں کھائے گی۔ دونوں کے پانچ پانچ قسمیں پوری ہونے کے بعد قاضی ان کے درمیان جدائی کا فیصلہ کرے گا۔ لیکن اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی قسم کھانے سے انکار کرے، تو اس پر حد جاری کی جائے گی۔ اگر مرد قسم سے انکار کرے، تو اس پر حدِ قذف اور اگر عورت انکار کرے، تو اس پر حدِ زنا جاری کی جائے گی۔
اپنی بیوی پر شک ہونے کی صورت میں شریعتِ اسلامی نے واضح ہدایات دی ہیں کہ یا تو گواہ لاؤ اور عدالت کے ذریعے بیوی کو سزا دلواؤ، یا لعان کے ذریعے اس سے علیحدگی اختیار کرو۔ اس کے علاوہ شوہر کو کوئی حق حاصل نہیں۔ لہٰذا شوہر کا کسی بھی صورت میں بیوی کو قتل کرنا شریعت کے واضح احکامات کی صریح خلاف ورزی اور ناجائز عمل ہے، اور ہر صورت میں شوہر شریعت اور قانون کی نظر میں قاتل تصور ہوگا۔
لڑکی کا اپنی مرضی سے شادی کرنا
پشتون معاشرے میں اگر کوئی لڑکی باپ کی مرضی اور اجازت کے بغیر اپنا نکاح کر لے، چاہے گھر سے بھاگ کر کورٹ میرج کی شکل میں ہو یا کورٹ سے باہر روایتی طریقے سے، دونوں صورتوں میں لڑکی اور لڑکے کے اس عمل کو ایسا جرم سمجھا جاتا ہے، جس کی سزا قتل کو جائز قرار دے دی جاتی ہے۔ لڑکی کے رشتہ داروں کو لڑکی کے ساتھ ساتھ لڑکے کو بھی غیرت کے نام پر قتل کرنے کا معاشرتی اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ اور قتل کے بعد لڑکے کے خاندان والے بھی قانونی یا انتقامی کارروائی سے گریز کرتے ہیں، کیونکہ ان کی نظر میں بھی لڑکے کا جرم اتنا بڑا ہے کہ اس کی کم از کم سزا قتل ہے۔
شریعت کا مؤقف
احناف کے نزدیک ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نافذ ہو جاتا ہے، تاہم وہ ولی کی اجازت کو ترجیح دیتے ہیں، تاکہ لڑکی کا یہ عمل بے حیائی یا بدکرداری کی طرف منسوب نہ ہو۔ [6]۔
شریعت اسلامی نے نکاح میں بالغ لڑکی سے اجازت لینے کا حکم دیا ہے ۔رسول اللہ کا فرمان ہے:
الأيم أحق بنفسها من وليها والبكر تستأذن في نفسها وإذنها صماتها[7]
ترجمہ: ثیبہ کا اپنے نفس کے متعلق اختیار اپنے ولی سے بڑھ کر ہے جبکہ باکرہ سے اس کے نفس کے متعلق پوچھا جائے گااور اس کاسکوت اختیار کرنا اس کی اجازت ہے۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ باپ کے کیے ہوئے نکاح کو لڑکی کی ناراضگی کی بنا پر رد فرما دیا۔ صحیح البخاری میں یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ منقول ہے::
أنكحها أبوها وهي كارهة فرد النبي صلى الله عليه وسلم ذلك[8]
ترجمہ: اس کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح باپ نے کرایا تو رسول اللہ ﷺ نے اس نکاح کو رد فرمایا۔
شریعت کی نظر میں بالغ لڑکی کا خود کیا ہوا نکاح اگرچہ مستحسن عمل نہیں، لیکن پھر بھی اسے ایسا کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ لہٰذا اس پر لڑکی کو مطعون کرکے اس درجے مجرم سمجھنا کہ اس کے قتل کو جائز قرار دیا جائے، کسی صورت درست نہیں۔ البتہ لڑکی کے خود کیے ہوئے نکاح کے معاشرے اور خود اس کی زندگی پر پڑنے والے برے اثرات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ لڑکی نکاح کے فیصلے میں اپنے اولیاء کی رائے کا احترام کرے۔
غیر اخلاقی حرکات کا شک ہونا
پشتون معاشرے میں بعض اوقات محض شک کی بنیاد پر اپنی رشتہ دار لڑکی یا کسی اور خاندان کے مرد کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل بعض اوقات انتہائی معمولی اعمال کو بنیاد بنا کر بھی کیا جاتا ہے، جیسے مرد و زن کا خفیہ تعلق رکھنا، موبائل پر یا براہِ راست بات چیت کرنا، راستے میں لڑکی کو کوئی اشارہ کرنا، کسی کے گھر میں جھانکنا، یا ان افعال کا محض شک ہونا۔ اس قسم کے افعال کو اکثر چادر اور چاردیواری کے تقدس کی پامالی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
شریعت کا مؤقف
شریعتِ اسلامی نے جرائم کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے: ایک وہ جرائم جن کی سزا شارع نے خود مقرر کی ہے اور جنہیں ‘حدود اللہ’ کہا جاتا ہے۔[9] ۔ جبکہ دوسری قسم میں وہ جرائم شامل ہیں جن میں سزا کا اختیار حاکم کو تفویض کیا گیا ہے، اور جنہیں ‘تعزیر’ کہا جاتا ہے۔ [10]۔
صورتِ مذکورہ میں، اگر رشتہ دار جس گناہ کا الزام لگائیں وہ حدود اللہ میں شامل ہو، تو اس کے لیے شرط یہ ہے کہ اس کا اجرا صرف حاکمِ وقت ہی کر سکتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں حدود اللہ خود قائم فرمائیں، اور آپ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا۔ البتہ اگر امام (حاکم) کسی کو اپنا نائب مقرر کرے، تو اسے بھی حدود کے نفاذ کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔[11]۔
اگر رشتہ دار جس گناہ کا الزام لگائیں وہ حدود اللہ میں شامل نہ ہو، تو ایسی صورت میں حاکم کو تعزیری سزا دینے کا اختیار حاصل ہے۔ اس صورت میں بھی شریعت نے کسی فرد کو خود قانون نافذ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گناہ یا جرم چاہے جس درجے کا بھی ہو، اس کی سزا دینے کا اختیار صرف حاکم یا اس کے مقرر کردہ نائب کو حاصل ہے۔ لہٰذا کسی بھی صورت میں رشتہ داروں کا از خود کوئی سزا دینا شرعاً جائز نہیں۔
حدیثِ مبارک سے استدلال
غیرت کے نام پر قتل کا تصور چونکہ قدیم زمانے، بلکہ انسان کی پیدائش کے ابتدائی دور سے پایا جاتا ہے، اس لیے اس کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں بھی ملتا ہے۔
مذکورہ قتل کے شرعی حکم اور اس کی مختلف صورتوں کو تفصیل سے بیان کرنے کے بعد یہ ضروری ہے کہ اس حدیثِ مبارکہ کے متعلق ائمہ کی آراء بھی ذکر کی جائیں، جسے بعض لوگ غیرت کے نام پر قتل کے لیے دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
مفسرین و محدثین سورۃ النور آیت 6 کی شانِ نزول کے ضمن میں یہ حدیثِ مبارکہ نقل کرتے ہیں:
أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لَا قَالَ سَعْدٌ بَلَى وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ[12]
ترجمہ: آپ کا کیا خیال ہے کہ کوئی اپنی بیوی کے ساتھ دوسرےشخص کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کردے؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں۔ سعد بولے ہرگز نہیں اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا تو نبی ﷺ نے جواب دیا سنو، سنو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے؟
اسی طرح ایک اور روایت بھی منقول ہے:
قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ نَعَمْ قَالَ كَلَّا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ كُنْتُ لَأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ إِنَّهُ لَغَيُورٌ وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللهُ أَغْيَرُ مِنِّي[13]
ترجمہ: سعد بن عبادہؓ کہنے لگے یا رسول اللہﷺ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پالوں تو میں اس کو کچھ نہیں کہہ سکتا حتی کہ چار گواہ لے آؤں تو رسول اللہﷺ بولے ہاں۔سعد کہنے لگے ہرگز نہیں، قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں تو جلد ہی اس سے قبل تلوار سے اس کا کام تمام کردوں گا۔ تورسول اللہﷺ نے کہا سنو اپنے سردار کی سنو۔ یہ بڑا غیور ہے اور میں اس سے زیادہ غیور ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے۔
امام شافعیؒ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ:
“اگر کوئی شخص کسی مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ نامناسب حالت میں پائے، اور وہ غصے میں آکر ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک کو قتل کر دے، تو ہر صورت میں قاتل کو قصاص میں قتل کیا جائے گا[14]۔”
علامہ نوویؒ فرماتے ہیں:
“جو شخص حاکم کی اجازت کے بغیر کسی کو قتل کرے — چاہے وہ شخص محصن ہو یا غیر محصن، اور چاہے قاتل زنا پر گواہ پیش کر سکے یا نہ کر سکے — بہر صورت قاتل پر قصاص لازم آئے گا اور اسے سزائے موت دی جائے گی[15]۔”
اکثر ائمہ گواہ پیش کرنے کے بعد بھی قاتل کے صرف دیانۃً سچائی کے قائل ہیں جبکہ دنیوی سزا بہرحال قصاص کی صورت میں جاری ہوگی۔
نتائج
- غیرت کے نام پر قتل کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں، بلکہ شریعت نے ایسے مواقع کے لیے بہترین اور منصفانہ متبادل راستے تجویز کیے ہیں۔
- آرٹیکل میں مذکور حدیث کو عصرِ حاضر میں غیرت کے نام پر قتل کے جواز کے لیے دلیل نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ یہ حدیث ایک مخصوص تاریخی سیاق و سباق سے متعلق ہے۔
- شریعت میں سزا دینے کا اختیار صرف حاکم یا اس کے مقرر کردہ نمائندے کو حاصل ہے۔ کوئی بھی فرد یا رشتہ دار از خود سزا دے کر شریعت کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے اور خود سزا کا مستحق بنتا ہے۔
- غیرت کے نام پر قتل جیسے سنگین مسئلے کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی، مضبوط عدالتی نظام، اور ہر سطح پر شعور کی بیداری نہایت ضروری ہے۔ یہ ہر فرد کی قومی، اخلاقی اور شرعی ذمہ داری ہے۔
i Facets of violence against women, samar Minallah & Ayesha Durrani, 25,Pangraphics , Islamabad ,2009
[4] تفسیر الطبری،محمد بن جریر الطبری،۱۹: ۱۱۱، مؤسسۃ الرسالۃ ، بیروت،۲۰۰۰ء
[5] کنز الدقائق، عبد اللہ بن احمد بن محمود النسفی، ۱ :۳۰۱،دار البشائر الاسلامیۃ،۲۰۱۱ء
[6] الہدایۃ،علی بن ابی بکر المرغینانی،۱ :۱۹۱،دار احیاء التراث العربی، بیروت،ت ن
[7] صحیح مسلم،کتاب الحج،باب استئذان فی النکاح،رقم الحدیث:۱۴۲۱
[8] ٍصحیح بخاری،کتاب الحیل،باب فی النکاح،رقم الحدیث:۶۹۶۹
[9] کتاب التعریفات،علی بن محمد بن علی الزین الشریف الجرجانی،۱ :۸۳،دار الکتب العلمیۃ ، بیروت،۱۴۰۳ھ
[10] بدائع الصنائع،علاء الدین ابو بکر بن مسعود الکاسانی،۷ :۶۳،دار الکتب العلمیۃ ، بیروت، ۱۹۸۳ء
[11] صحیح البخاری،کتاب الحدود،با الاعتراف بالزنا،حدیث:۶۸۲۷
[12] ٍصحیح مسلم،کتاب الطلاق،باب انقضاء العدۃ المتوفی عنہا زوجہا،رقم الحدیث:۱۴۹۸
[13] ٍصحیح مسلم،کتاب الطلاق،باب انقضاء العدۃ المتوفی عنہا زوجہا،رقم الحدیث:۱۴۹۸
[14] الام ، امام محمد بن ادریس الشافعی،۶:۳۱ ، دار المعرفۃ ، بیروت، ۱۹۹۰ء
[15] المنہاج شرح صحیح مسلم، یحییٰ بن شرف النووی،۱۰ :۱۲۱، دار احیاء التراث العربی، بیروت ،۱۹۷۲ء
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں