سر الحمرا ہال کی ادبی بیٹھک میں، اپنی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر کی گئی گفتگو میں آپ نے یہ کہا تھا کہ وحشت آپ کے مزاج کا بہت حصہ ہے۔ آپ کے دوست ،طالب علم؛ حتی کہ آپ کے بچے بھی آپ کی ذات کے اس پہلو سے واقف نہیں ہوتے؛ تاہم اس وحشت کا اظہار آپ کی لکھت میں ہوتا ہے یا آپ کی تنہائی میں یا پھر اس وحشت کی گواہ آپ کی اہلیہ ہو سکتی ہیں۔ سر اس وحشت کا سبب آپ کی صحت بنتی ہے یا پھر اس کے علاوہ یہ وحشت کہاں سے آتی ہے؟
نہیں، صحت تو نہیں۔ صحت کے مسائل اور ہیں۔ صحت کے مسائل وحشت نہیں، بے بسی پیدا کرتے ہیں۔ وحشت کا تعلق مجھے لگتا ہے کہ آدمی کے آدمی ہونے سے ہے۔ اس کا اس بات سے تعلق نہیں ہے کہ میں کب پیدا ہوا ہوں؟ میں کون ہوں؟ میرے مسائل کیا ہیں؟ وہ چونکہ آپ آدمی کے طور پر دنیا ہیں آئے ہیں۔
سر آپ نے ابھی جو بات کہی۔۔۔یہی بات ایک روز میرے ذہن میں بھی آئی کہ آدمی کا آدمی ہونا ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
دیکھیں، حالی کا وہ شعر میں نے کئی دفعہ سنایا ہے۔ وہ بالکل اسی صورت حال کو بیان کرتا ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں کے عام پروفیسر اس شعر کو ایسے سنائیں گے کہ حالی سر سید سے ملنے سے پہلے، ایک اصلاح پسند حالی بننے سے پہلے ایک کلاسیکی شاعر تھے تو وحشت کلاسیکی شاعری کا ایک مضمون تھا۔ اس لیے حالی نے بھی وحشت پہ مضمون لکھ دیا؛ لہذا وحشت محض شاعری کا ایک مضمون ہے۔
سر ناصر کی بات ابھی جاری تھی کہ میں نے حالی کا وہ شعر پڑھنا شروع کر دیا۔ ہم دونوں نے یک زبان وہ شعر پڑھا جو میں اپنی تنہائی میں کئی بار خود کو سنا چکا تھا
کون و مکاں سے ہے دل وحشی کنارہ گیر
اس خانماں خراب نے ڈھونڈا ہے گھر کہاں
دوسرے مصرعے میں جو سوال ہے کہ “اس خانماں خراب نے ( اس کا گھر خراب ہو) ڈھونڈا ہے گھر کہاں” وہ گھر کہاں ڈھونڈا ہے؟ وہ کہیں بھی نہیں ہے؛ یعنی کون و مکاں سے آپ نکل نہیں سکتے اور اسی کون و مکاں سے آپ کا دل وحشی بھاگتا ہے۔ آپ کے سارے گھر تو کون و مکاں کے اندر ہیں تو سوال یہ ہے کہ گھر پھر کہاں ہے؟
استفہام ہے۔ ” میں نے کہا۔ ”
نہیں نہیں ، یہ پیراڈاکس ہے پورا۔ قول محال ہے کہ گھر سارے کون و مکاں میں ہوتے ہیں اور آپ کون و مکاں سے ہی کنارہ گیر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی قسمت کی خانماں خرابی ہے۔ آپ صرف خانماں خراب ہیں۔ گھر سے بھاگے ہوئے ہیں۔ یہ نہیں کہ آپ کو کہیں پناہ مل جائے گی۔ وحشت کو کہیں پناہ ملتی ہی نہیں ہے۔ اب یہ جو انسان ہونے کی بنیادی وجودی حالت ہے ، یہ شعر اس حالت کا نمائندہ ہے۔
وحشت صرف شاعری کا مضمون نہیں ہے۔ یہ انسان کا ایک مسئلہ ہے کہ وحشت ہے محدود ہونے سے۔ یعنی آدمی کی حالت ، آدمی کا ہونا ہی وحشت کا سبب ہے۔ یہ پہلی بات ہے۔ اب اس بات کو کھولنے کی ضرورت ہے۔ آدمی ہونا کیا ہے؟
آدمی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے اندر پیدا ہوتے ہی ایک بنیادی تضاد موجود ہے۔ اب وہ تضاد کیا ہے؟
وہ یہ کہ آپ پیدا تو جسم اور حواس لے کر ہوئے ہیں؛ لیکن اس کے ساتھ آپ ایک ذہن بھی لے کے پیدا ہوئے ہیں، جو جسم اور حواس کا پابند ہی نہیں ہے۔ جو ان سے ہمیشہ دور جاتا ہے؛ یعنی آدمی کا جسم محدود ہے؛ لیکن آدمی کا خیال، تخیل اور ذہن مسلسل لامحدودیت کی طرف جانے والا ہے۔ آپ کے اندر اڑنے کی خواہش؛ مطلب انسان نے ہوائی جہاز کیوں بنایا؟ اگر وہ جسم تک محدود رہتا تو قناعت کرتا۔ وہ تو خلا میں جانا چاہتا ہے۔ بہت سی دنیا کو دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ بڑا بنیادی تضاد ہے کہ آدمی کا ذہن اس کے جسم کے مقابلے میں کہیں بڑا ہے۔ ایک محدود، ایک کمزور، ایک فانی جسم میں ایک لامحدود اور غیر معمولی صلاحیت کا ذہن کا رکھ دیا گیا ہے۔ یہ انسان ہونے کا بنیادی تضاد ہے۔
انسانی ذہن کو جب یہ احساس ہوتا ہے کہ میں محدود ہوں ، گھر میں محدود ہوں، جسم میں محدود ہوں، تقدیر میں محدود ہوں، طرح طرح کے مسائل میں محدود ہوں، اس وقت اس پر وحشت طاری ہوتی ہے۔
دیکھیں، وحشت میں آدمی کیا کرتا ہے؟ کلاسیکی شاعری بتاتی ہے کہ وحشت میں آدمی گھر سے صحرا کی طرف جاتا ہے۔ وحشت کا تعلق گھر سے بھاگنے اور صحرا کی طرف جانے میں ہے۔ میر اور غالب کی شاعری میں کئی اشعار ایسے ہیں کہ شاعر گھر سے گھبراتے ہیں اور صحرا میں چلے جاتے ہیں:
جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا
بہار وحشت لاتی ہے تو آدمی صحرا کی طرف چلا جاتا ہے۔ اب صحرا لامحدودیت کی علامت ہے کہ ہر جگہ ایک ہی طرح کی حالت ہے؛ جبکہ گھر تو محدود ہے، جسم محدود ہے۔ اس تضاد کی وجہ سے آدمی وحشت میں چلا جاتا ہے۔ پھر اس سے اگلی اسٹیج ہے۔
اگلی اسٹیج یہ ہے کہ ہم چونکہ جسمانی طور پر محدود ہیں۔ ہمارا جسم، ہماری حسیات محدود ہیں۔ اس لیے ہمارے اندر بہت جلدی ایک کنفارمٹی کا رویہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ان چیزوں کو جلدی قبول کر لیتے ہیں جو چھوٹی چھوٹی چیزیں ہوتی ہیں۔ بڑا آسان طرز زندگی کہ اچھا یہ ایک جگہ ہے۔ یہ محفوظ جگہ ہے۔ یہ نوکری ہے۔ یہ ایک بزنس ہے۔ ایک چھوٹی سی پوزیشن لے لیتے ہیں۔ ایک کرسی ہے، اس پہ بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ ایک محدود طریقہ ہے۔
اسی طرح آپ بہت سے ایسے تصورات قبول کر لیتے ہیں جو “بڑے صاف ستھرے” ہوتے ہیں۔ جن میں آپ ، اپنے آپ کو فٹ کر لیتے ہیں۔ وہ تصورات کیا ہوتے ہیں کہ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ہم کس لیے آئے ہیں؟ بنے بنائے بڑے ہی زبردست قسم کے تصورات۔
یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے ایک مٹی ہوتی ہے۔ بچے اس سے کھیلتے ہیں۔ اس سے طرح طرح کے کھلونے بناتے ہیں۔ وہ مٹی کھلونا بنتی جاتی ہے۔ ہم بھی اسی طرح، اپنی مٹی کو ان سانچوں میں ڈھالتے جاتے ہیں، جو فکری سانچے ہوتے ہیں، جو تصوراتی سانچے ہوتے ہیں۔ اور اسی طرح زندگی گزارتے جاتے ہیں۔ یعنی وحشت کی تین چار اسٹیجز ہیں۔ پھر یہاں سے وحشت پیدا ہوتی ہے کہ آدمی ان تصورات سے بھاگنا چاہتا ہے۔
مثلا آپ ایک چلتا ہوا پانی ہیں۔ انسان کی زندگی اور انسان کا ذہن اس چلتے ہوئے پانی کی طرح ہے۔ آپ کتنے پانی کو قید کریں گے؟ آپ کتنے برتن پانی سے بھر لیں گے؟ وہ بھرا ہوا پانی برتن توڑ کے نکلے گا۔ پانی یا زندگی کا بہاؤ اگر ہے اور آپ اس کے لیے ایک چھوٹی سی ندی بنالیں گے تو اس ندی کا پانی کنارے توڑ کے نکل جائے گا۔ یہ کنارا توڑنا اس وحشت کی وجہ سے ہے۔ اس لیے آدمی ہر چیز سے بھاگتا ہے۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر ایک مستقل اکتاہٹ ہے۔ آپ دنیا میں کوئی آدمی نہیں دیکھ سکتے جو اکتا نہ جاتا ہو۔ ان سب چیزوں سے، جن کے لیے وہ شروع میں بڑا پرجوش ہوتا ہے۔ آپ کسی عورت کے لیے کتنے پرجوش ہوتے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ کچھ دنوں میں اسی سے اکتا جاتے ہیں۔ آپ جب کسی عہدے پہ بیٹھے ہوتے ہیں، آپ اس سے اکتا کے نکلتے ہیں۔ آپ زیادہ دن اپنے گھر میں رہیں، آپ اس گھر سے اکتا کے نکلتے ہیں۔
پھر آپ کو تحفظ کی خواہش ہوتی ہے۔ پھر آپ واپس آجاتے ہیں۔ اس عورت کی طرف واپس آ جاتے ہیں۔ اس کرسی کی طرف واپس آ جاتے ہیں۔ اس گھر کی طرف واپس آتے ہیں؛ لیکن ایک دفعہ آپ کے اندر اکتاہٹ پیدا ہوتی ہے جو آپ کو باہر نکلنے پر مجبور کرتی ہے۔
اپنے لیے لکھی گئی کتاب کا ایک جزوی باب ، سر ناصر کے خاص شکریہ کے ساتھ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں