کاغذ نے ہمیں مکمل دیوانگی سے بچایا ہے/ناصر عباس نیّر

میں ان دنوں ماسکو میں ،اپنے من پسند ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔جس روز مجھے کوئی مصروفیت نہ ہوتی؛ کہیں جانا ہوتا نہ کسی سے ملاقات طے ہوتی ، اس روز میں سہ پہر کو ہوٹل کے اس ریسٹورنٹ میں اکیلے کافی پیا کرتا، جو اس کی دسویں منزل پر تھا۔
میں کھڑکی کے پاس کرسی پر بیٹھتا۔ کبھی کوئی کتاب ساتھ لے جاتا،اور کبھی محض ایک نوٹ بک اور پنسل۔ میں نے گزشتہ رات ، ٹالسٹائی کا شیکسپیئرپر مضمون پڑھا تھا۔ میں حیرت اور استعجاب کے عالم میں تھا ۔ میرے ذہن میں اس مضمون کے مندرجات گردش کررہے تھے۔
وہ سطریں تو ذہن سے چپک کررہ گئی تھیں جن میں ٹالسٹائی کہتا ہے کہ جب میں پہلی بار شیکسپیئر کو پڑھنے بیٹھا تو مجھے توقع تھی کہ مجھے مغلوب کردینے والی جمالیاتی مسرت ملے گی؟ مگر حقیقت میں،مجھے کیا ملا؟میں شیکسپیئر کے کنگ لیئر، رومیو اور جیولٹ،ہیملٹ، میکبتھ کو پڑھتا چلا گیا ، مگر مجھے کراہت اور یکسانیت کاشدید احساس ہوا۔
ٹالسٹائی نے ایک عجب سوال خود سے کیا ۔ یہ کہ کیا میں فنی تکمیلیت کی اس معراج کو سمجھنے میں احمق واقع ہواہوں جو مغرب کی مہذب دنیا نے شیکسپیئر سے منسوب کی ہے،یا یہ مہذب دنیا ہی احمق واقع ہوئی ہے؟
یہ خیال ٹالسٹائی ہی کو آسکتا تھا۔ ٹالسٹائی ہی، پوری مغربی تہذیب اورا س کے تصورِ جمال کے مقابل کھڑا ہوسکتا ہے۔
ہر تہذیب میں ایسے آدمی ہونے چاہییں جو کسی بھی تہذیب کے تصورِ جمال ہی کو نہیں، پورے تصورِ دنیا کے بھی مقابل کھڑے ہوسکیں۔ اس میں آدمی کی اپنی تہذیب کا استثنا نہیں ہے۔
ٹالسٹائی نے کنگ لیئر کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کیا ہے،اور اس کے صحیح معنوں میں بخیے ادھیڑے ہیں۔ ٹالسٹائی کا مضمون پڑھنے کے بعد کوئی شخص ، شیکسپیئر کے لیے احترام محسوس نہیں کرسکتا۔
ٹالسٹائی کے قلم میں لوگوں کے دلوں ہی کو نہیں ،ذہنوں کو پھیر دینے کی بھی طاقت ہے۔ ٹالسٹائی عظیم ہے۔ہر عظیم مصنف کی ایک اپنی ہیبت ہوتی ہے۔اس کے افسوں ، اس کے نیرنگ کی ہیبت۔
میں اس خاموشی اور تنہائی میں سمجھنا چاہتا تھا کہ کیا فن کار کی عظمت مکڑی کا جالا ہے؟ نہایت محنت ، باریک بینی، نفاست سے بنا ہوا، جسے کسی کے قلم کی نوک کا ایک وار تہس نہس کرسکتا ہے؟
یا ایک عظیم فن کا ر کا دل ، دوسرے عظیم فن کار کے لیے کشادہ نہیں ہو اکرتا ؟
فن تخلیق کرنے والے کیا واقعی خود کو خدا کی مثل تصور کرتے ہیں؟
ایک خدا، دوسرے خدا سے صرف جنگ ہی کرسکتا ہے؟
مجھے کئی بار محسوس ہوا ہے کہ عام آدمیوں کے دل ، نام ور لوگوں کے مقابلے میں زیادہ نرم ، شفیق، رحم دل اور کشادہ واقع ہوئے ہیں۔
میری آنکھوں کے سامنے ،ماسکو کی بلند وبالا عمارتیں اورنکھرا آسمان تھا۔ میں نے ابھی کافی کا پہلا گھونٹ پیا کہ ادھیڑ عمر کا ایک شخص میری میز سے ذرا فاصلے پر آکھڑا ہوا۔ اس نے مخل ہونے کی معذرت چاہی ،اور کہا کہ وہ کافی دیر سے لابی میں میرا منتظر تھا۔
میں نے اسے کرسی پر بیٹھنے کی دعوت دی اور اس کے لیے ایسپریسو منگوائی۔ اسے یہ احسا س ہوگیا کہ میں کسی خیال میں کھویا ہوا ہوں، اور اس کی جانب پوری طرح متوجہ نہیں ہوں۔ اس نے ایک بار پھر معذرت کی اور کہا کہ وہ زیادہ وقت نہیں لے گا، بس ایک الجھن میں گرفتار ہے، اس سے نکلنے کے لیے وہ میری مدد چاہتا ہے۔
اسے قلق تھا کہ اس نے مصوری میں عظمت حاصل کرنے کے لیے سب کچھ تج دیا، مگر وہ اوسط درجے کا مصور بھی نہ بن سکا۔ اس نے شادی نہیں کی۔ دولت کا لالچ نہیں کیا۔ ایک سکول میں پڑھانے سے ملنے والی تنخواہ پر گزر بسر کی۔
اس تنخواہ کا بڑا حصہ ، مصوری کے فن سے متعلق کتابیں خریدنے پر صرف کیا۔اسے یہ احساس تھا کہ وہ اچھی اور بری مصوری کا فرق تو جان گیا ہے،مگر خود ایک شاہکا ربھی تخلیق نہیں کرسکا۔ وہ یہ کہتے ہوئے روہانسا ہوگیا۔ اس کادل واقعی ٹوٹا ہوا تھا۔ اسے اپنی ناکامی کا دلی رنج تھا۔
اس نے مجھے اپنے خیالوں میں محو دیکھ کر ایک بار پھر معذرت کی کہ وہ میری تنہائی اور خاموشی میں دخل انداز ہوا۔
’’نہیں، کسی معذرت کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے اپنی بستی کے کچھ لوگ یا د آرہے تھے، جو خود کو ناکام کہتے ہیں‘‘۔ میں نے کہا۔
خود کوناکام کہنے اور ناکام ہونے میں کوئی فرق ہے؟ اس نے میری بات سے بات نکالی۔
پہلے مجھے کبھی یہ خیال نہیں آیا، مگر اب میں محسوس کررہا ہوں کہ دونوں باتوں میں فرق ہے۔ میں نے اس سے کہا۔ اس نے میری طرف اس خیال سے دیکھا کہ میں اس کی وضاحت کروں۔
میں نے کہنا شروع کیا۔
مجھے لگتا ہے کہ ناکامی ایک حقیقت ہے،مگر لازم نہیں کہ ہم جب خود کو ناکام کہیں تو ایک حقیقت کا اظہار کررہے ہوں۔ ہمیں ناکامی کا خوف اور دھوکا بھی ہوسکتا ہے۔ ہماری زندگیوں کے آسمان پر سب سے گہرے بادل خوف اور دھوکے کے ہیں ۔ خود کو، دنیا کواس وقت دیکھیں، جب یہ گہرے سیاہ بادل ہٹ گئے ہوں۔
انھیں ہٹانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ان کے ہٹنے کا نتظار کرنا چاہیے۔ اکثر لوگ یہی انتظار نہیں کرسکتے۔
ہم دونوں خاموش ہوگئے۔
ہم خاموشی سے کافی پی رہے تھے۔
ہم دونوں اپنے اپنے آسمان سے کسی گھنے بادل کے ہٹنے کا انتظار کررہے تھے۔
دو آدمی دیر تک اکٹھے بیٹھیں تو ان کی خاموشی بھی متکلم ہوجاتی ہے۔
خاموشی کے کلام میں لفظ کی صدا نہیں،مگر معنی کی گونج ہوتی ہے۔
یہ گونج ہم دونوں سن رہے تھے۔
خاموشی کے معنی کی گونج کے سوا،آدمی کے وجود کی آخری گہرائی میں کوئی نہیں پہنچ سکتا۔
میں نے باہر آسمان کی طرف دیکھا۔رات بارش ہوئی تھی،ماسکو کا آسمان کسی نیلے گلیشیئر کی مانند دکھائی دے رہا تھا۔
دیکھو میرے دوست، تم جو کچھ مجھے کہنا چاہتے ہو،اسے لکھو۔ میرا کاندھا حاضر ہے ، مگر تمھارے لیے بہتر یہ ہے کہ تم قلم کاغذ کو کاندھا بناؤ۔تم یہ سوچو کہ دنیا میں کچھ کاغذ صرف اس لیے اب تک خالی ہیں کہ تم نے ان پر اپنی کہا نی لکھنی ہے۔ وہ تمھارے قلم کی روشنائی سے ،اپنی پیاس اور تنہائی مٹانے کے منتظر ہیں۔ یہ خیال تمھیں پوری سچائی اور توجہ سے ،وہ سب لکھنے کی تحریک دے گا، جو تمھیں مجھے سنا نا چاہتے ہو۔ یاد رکھو، ہماری پوری کہانی کوئی نہیں سنتا۔
ہماری کہانیاں، کاغذ، کینوس، بانسری یا پھر کوئی صحرا یا ہمارے تخیل میں پھیلا دشت ہی سنتا ہے۔
ہم بھی کسی کی پوری کہانی نہیں سن سکتے۔ ہمیں اپنی کہانی کو بھگتنے اور اسے سنانے کے لیے ہر وقت کوئی کاندھا تلاش کرنے سے فرصت نہیں ہوتی۔ لیکن کیسی عجیب بات ہے کہ ہم سب وہ کہانیاں پوری توجہ اور سچائی سے پڑھ لیا کرتے ہیں، جنھیں کاغذ پر لکھا گیا ہو۔
اس سے بھی زیادہ انوکھی بات یہ ہے کہ لوگ ایک مشہوروممتاز ادیب کو شاید اپنے گھر میں چند دنوں کے رہنے کے لیے کمرہ نہ دیں، مگر ا س کی کتابیں،اپنے گھر میں سالوں تک سجائے رکھتے ہیں،اور انھیں اپنے سرہانے رکھتے ہیں، سینے سے لگاتے ہیں اور انھیں کسی مقدس کلام کی مانند پڑھتے ہیں، ٹھہر ٹھہر کر،ایک ایک لفظ پر رک کر، ایک ایک لفظ میں ایک جہان کو مضمر پاتے ہیں اور اس جہان کے سب رنگ وبو کو اپنے دل کے وحشت کدے میں در آنے دیتے ہیں ۔
ہم آدمی سے زیادہ ،آدمی کی یاد میں رہنا چاہتے ہیں۔
ہمیں آدمی کے مادی وجود سے زیادہ ،آدمی کا تخیل متاثر کن لگتا ہے۔
ہم سامنے بیٹھے آدمی کو پوری طرح اس وقت محسوس کرتے ہیں، جب وہ جاچکا ہوتا ہے۔
اپنی یاد میں اورکاغذ پر ہم پورے آدمی کو محسوس کرتے ہیں۔
میں سوچتا ہوں،کاغذ کی ایجاد نے ہمیں مکمل دیوانگی سے بچا لیا ہے۔
ہم غاروں ، مٹی کی لوحوں پر کتنی دیر اور کتنی کہانیاں لکھ سکتے ؟ ہم سب ، انھی غاروں سے سر پھوڑ لیتے۔
(زیر تصنیف میراداغستان جدید سے اقتباس)

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply