اسلام کا انسان سے مطالبہ کیا ہے؟ -ابو الحسن نعیم

انسان خود اپنے عمل ، مزاج اور کردار سے بدرجۂ اتم واقف ہوتا ہے۔ ہر برائی ، خامی اور کمزوری اس کی نگاہ میں ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کہاں غلطی کر رہا ہے؟ اور یہ بھی جانتا ہے کہ کون سی غلطی اس نے عمداً کی ہے اور کون سی خطا انجانے میں ہوئی ہے۔ اس کی زبان سے نکلنے والے ہر ہر لفظ کی کاٹ ، وجہ اور سبب وہ اچھی طرح جانتا ہے۔ اسے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ اس نے اس موقع پر جو بات کی ہے اس کا خاص مقصد کیا ہے ؟

وہ اپنی ذات سے متعلقہ ہر ہر بات سے اچھی طرح واقف بھی ہوتا ہے۔ کبھی کوئی خیال دل کے عرشے پر بجلی کی طرح کوند پڑے تو اس کا بھی علم ہوتا ہے اور کبھی اس کا دل چغلی کھائے ، چوری کرے یا کسی حسینہ کی یاد میں کلبلائے انسان اچھی طرح ان سے واقف ہوتا ہے۔

اسی لیے تو پروردگار نے سُورۃ القیامہ کی آیت 14 ، 15 میں ارشاد فرمایا:
بَل الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ، وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ
بلکہ انسان خود اپنے آپ سے اچھی طرح واقف ہوگا۔ چاہے وہ کتنے بہانے بنائے۔

جب انسان اپنے آپ سے مکمل طور پر واقف ہے تو وہ اپنی اصلاح پر بھی اسی طرح قادر ہے۔ جب آپ اپنی غلطی سے آگاہ ہیں اور آپ کا وجدان اس بات سے واقف ہے کہ آپ کا یہ فعل یا قول صراحتاً غلط ہے تو بحیثیتِ انسان اور اس سے بڑھ کر بحیثیتِ مسلمان آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے اسے درست کرنی کی سعی کریں۔

یہ درستگی کا عمل اس وقت ہوتا ہے کہ جب انسان اپنے آپ سے مخلص ہو اور اپنی ذات کو واقعتاً ہر غلطی سے بچانے اور دور رکھنے کی سعی کرتا ہو۔ جب یہ جذبہ انسان کے اندر کار فرما ہو گا تو اس وقت صادر ہونے والی غلطیوں سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرے گا اور اگر پھر بھی غلطی ہو جائے تو اللّٰہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے کے بعد اپنی اصلاح کی کوشش اور سعی ضرور کرے گا۔

اس کے ساتھ ایک اور بات لازماً جان لیجیے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہم سے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ ہم اپنی ذات کو مکمل گناہوں سے پاک کر لیں اور فرشتوں جیسی زندگی گزاریں اور اسلام کا بھی ہرگز یہ مطالبہ نہیں ہے۔ اسلام کسی طور بھی یہ تصور نہیں دیتا کہ انسان کو ہر قسم کی خطا اور گناہ سے بہرطور پاک اور بری ہونا چاہیے۔

اگرچہ اسلام کی تعلیم اور تلقین ہے کہ ایک بندۂ مؤمن کے شایان شان نہیں کہ وہ گناہوں کی وادی میں ٹامک ٹوئیاں مارتا پھرے اور اپنے ایمان کو کمزور کر دے۔ بلکہ اسے چاہیے کہ نیکی کی وادی کا سیاح بنے اور ہمہ جہت سے لطف اندوز ہو۔

لیکن اب سوال یہ کہ اسلام اور خداوند متعال کا مطالبہ دراصل کیا ہے؟ بات سادہ سی ہے کہ اسلام کا مطالبہ گناہوں سے مکمل پاکی کا نہیں بلکہ “سچائی” کا ہے۔

کہ انسان اپنے آپ سے سچا اور مخلص ہو۔ جب دیکھے کہ اس نے غلط بات کہہ دی یا برا فعل انجام دیا تو فوراً اپنی غلطی تسلیم کرے اور اس کا ہرجانہ ادا کرے۔ یعنی اسے درست کرنے کی سعی کرے۔

julia rana solicitors london

جب انسان اپنے آپ سے مخلص ہو کر رہے گا اور ہمہ وقت اپنی غلطی و خطا کو تسلیم کرنے اور بعد ازاں معافی طلب کرنے کو اپنا شعار بنا لے گا تو ایسا شخص درحقیقت انسانیت کے معراج پر ہو گا۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply