کیا آپ اس وقت کسی ’’پرانی ہو چکی‘‘ نوکری کے لیے تربیت حاصل کر رہے ہیں؟
اگر ایسا ہے، تو ممکن ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اس پیشے کی جگہ لے لے اور آپ 2030 تک اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ جیسا کہ مائیکروسافٹ نے 9,000 ملازمین کو فارغ کیا، خبروں کی سرخیاں خبردار کر رہی ہیں کہ AI لاکھوں ملازمتیں ختم کر دے گا۔
تاہم، ایک دوسرا، نسبتاً خاموش رجحان بھی سامنے آ رہا ہے، جو “نوکریوں کے خاتمے” سے توجہ ہٹا کر “نئی نوکریوں کی تخلیق” پر مرکوز ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں ان چیزوں پر توجہ نہیں دینی چاہیے جن کی جگہ AI لے رہا ہے، بلکہ ان مواقع پر نظر رکھنی چاہیے جو AI خاموشی سے پیدا کر رہا ہے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اگلے 10 سالوں میں سات ایسے بالکل نئے پیشے ہوں گے جن کی مانگ سب سے زیادہ ہوگی۔ AI ان سات پیشوں کو جنم دے رہا ہے، اور ان میں بھرتی کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔
2030 تک AI سے متعلق سب سے زیادہ مطلوبہ 7 پیشے
گزشتہ چند برسوں سے AI کی تیز رفتار ترقی مزدوروں کے لیے ایک خطرہ بن کر ابھری ہے۔ گیلپ کے ایک سروے کے مطابق، امریکہ کے 22٪ ملازمین کو یہ اندیشہ ہے کہ ان کی ملازمتیں جنریٹیو سے آئی کی وجہ سے ختم ہو سکتی ہیں، جو 2021 کے مقابلے میں 7٪ زیادہ ہے۔ ماہرین سے آئی کے ممکنہ خطرات سے بچنے اور ایک محفوظ مستقبل بنانے کے لیے مشورے دے رہے ہیں۔
اے آئی پر ہونے والی عوامی گفتگو میں زیادہ زور ملازمتوں کے خاتمے پر دیا جاتا ہے۔ McKinsey کا اندازہ ہے کہ اے آئی 2030 تک دنیا بھر میں 80 کروڑ تک ملازمتیں ختم کر سکتا ہے۔ تاہم، اسی تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اے آئی صرف ملازمتیں ختم نہیں کرے گا بلکہ نئی ملازمتیں بھی پیدا کرے گا۔
خاص طور پر ان شعبوں میں، جہاں سے آئی کا مقصد انسانوں کو تبدیل کرنا نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے، وہاں پرانے پیشوں سے کہیں زیادہ نئے پیشے پیدا ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔
OpenAI کے CEO سیم آلٹمین نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ہم ملازمتوں کی مکمل از سر نو تعریف کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان عہدوں کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوگا جن میں سے آئی کی نگرانی، تخلیقی صلاحیت، اور مسائل حل کرنے کی مہارت درکار ہو۔
Ford کے CEO جم فارلی نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کی وجہ سے ’’سفید پوش‘‘ (white-collar) ملازمتوں میں سے نصف ختم ہو سکتی ہیں، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ انسان اور مشین کے اشتراک سے بالکل نئی ملازمتیں بھی وجود میں آئیں گی۔
دنیا کی صف اول کی CNC مشینری کمپنی Yijin Hardware کے CEO گیون یی کہتے ہیں:
“ہم کسی تباہی کے نہیں بلکہ ارتقاء کے گواہ ہیں۔ سے آئی صرف انسان کے کام کا طریقہ بدل رہا ہے، انسان کی ضرورت کو ختم نہیں کر رہا۔ مستقبل کی ورک فورس، انسان کی بصیرت اور مشین کی ذہانت کا امتزاج ہو گی۔”
اسی لیے پرانی، ختم ہونے والی ملازمتوں پر غور کرنے کے بجائے، نئے ابھرتے ہوئے پیشوں سے متعلق معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ یی نے AI کی وجہ سے 2030 تک سامنے آنے والے سات نئے پیشے بیان کیے ہیں:
⸻
AI کی بدولت ابھرنے والے 7 نئے پیشے:
1. پرامپٹ انجینئر
یی کے مطابق:
“پرامپٹ انجینئرنگ سے آئی کے لیے وہی مقام رکھتی ہے جو 1990 کی دہائی میں کوڈنگ انٹرنیٹ کے لیے رکھتی تھی۔”
پرامپٹ انجینئر کا کام یہ ہے کہ وہ ChatGPT جیسے AI ٹولز کو سمجھ کر انتہائی مخصوص ہدایات (پرامپٹس) تیار کرے۔
یہ پیشہ منطق، زبان اور تخلیقیت کا امتزاج ہے، اور اسے ٹیکنالوجی، قانون اور تعلیم کے شعبوں میں اپنایا جا رہا ہے۔
2. AI اخلاقیات کے ذمہ دار (Ethics Officer)
یی بتاتے ہیں کہ AI آج کریڈٹ اسکورنگ سے لے کر مجرمانہ انصاف تک ہر شعبے میں شامل ہو چکا ہے۔
اس عہدے کا کام یہ یقینی بنانا ہے کہ ادارے انصاف، شفافیت اور عالمی ضوابط کی پابندی کریں۔
3. AI کی مدد سے کام کرنے والے میڈیکل ٹیکنیشن
AI اب تشخیص، میڈیکل امیجنگ اور علاج کے منصوبوں میں مدد فراہم کر رہا ہے۔
ایسے ماہرین کی ضرورت ہوگی جو ان سسٹمز کو چلا سکیں اور مریضوں کے ساتھ مؤثر رابطہ رکھ سکیں۔
4. AI مینٹیننس ماہر
کارخانے اور لاجسٹک مراکز اسمارٹ مشینوں پر انحصار کر رہے ہیں، جنہیں انسانی نگرانی اب بھی درکار ہے۔
یہ ماہرین AI کے رویّے اور مشینری دونوں کو سمجھتے ہوں گے۔
5. پائیدار AI تجزیہ کار (Sustainable AI Analyst)
AI بہت زیادہ توانائی استعمال کرتا ہے، لیکن اسے ماحولیاتی اثرات کم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ تجزیہ کار اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ AI مؤثر انداز میں استعمال ہو اور ماحولیاتی اہداف حاصل ہوں۔
6. AI سے تقویت یافتہ تخلیقی ڈائریکٹر
فیشن سے فلم تک، ایسے تخلیقی قائدین کی ضرورت ہے جو AI کو تخلیقی کام کے بہاؤ میں ضم کر سکیں۔
یہ ڈائریکٹرز تخلیقی بصیرت اور مشینی مواد کو ہم آہنگ کرنے والے ’’کیوریٹرز‘‘ ہوں گے۔
7. AI خواندگی کے ماہر اساتذہ (AI Literacy Educator)
جب AI ہر چیز میں شامل ہو چکا ہے، تو ایسے ماہرین کی ضرورت ہوگی جو دفاتر، حکومتوں اور تعلیمی اداروں میں لوگوں کو AI کے مؤثر اور اخلاقی استعمال کی تربیت دے سکیں۔
AI کے مواقع پر نظر رکھنا
ماہرین کا ماننا ہے کہ ختم ہونے والی نوکریوں کی بجائے ان مہارتوں کو سیکھنا بہتر ہے جو آئندہ پانچ سالوں میں درکار ہوں گی۔
یی کہتے ہیں:
“اگر آپ طالب علم ہیں یا کام کر رہے ہیں تو ان نوکریوں کے لیے تیاری نہ کریں جو آئندہ پانچ برسوں میں موجود ہی نہیں ہوں گی، یہ ایک بڑی غلطی ہو گی۔”
وہ مزید کہتے ہیں:
“2010 میں کوئی سوشل میڈیا مینیجر بننے کی تربیت نہیں لے رہا تھا، لیکن 2020 میں یہ ہر کمپنی کے لیے اہم کردار بن گیا۔ 2025 تک کئی نئی نوکریاں پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں۔ اب سب سے دانشمندانہ قدم یہ ہے کہ ہم اس طرف دیکھیں جہاں AI مواقع پیدا کر رہا ہے، نہ کہ صرف وہاں جہاں وہ خوف پیدا کر رہا ہے۔”
یی کا مشورہ ہے کہ 2030 تک ایک محفوظ کیریئر کے لیے ان سات AI سے پیدا ہونے والے پیشوں پر توجہ دی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ:
“خودکاری سے بچنے والی مہارتیں” جیسے کہ مسئلہ حل کرنا، حالات کے مطابق خود کو ڈھال لینا، مؤثر گفتگو، اور AI کے کام کرنے کی بنیادی سمجھ مستقبل میں ہر میدان میں اہم رہے گی۔
یی کا نتیجہ:
“AI ملازمتیں نہیں چھینتا، البتہ بعض پیشوں کو پرانا اور غیر مؤثر ضرور بنا دیتا ہے۔”
AI سے پیدا ہونے والے ان نئے مواقع کے ساتھ، وہی لوگ فائدے میں رہیں گے جو AI کی مخالفت کے بجائے اس کے ساتھ مل کر کام کرنا سیکھیں گے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں