مری کو جون جولائی سے دسمبر بنتے دقت نہیں پیش آتی۔ آج بھی آدھا پونا گھنٹا تیز رفتاری سے بارش برستی رہی۔ بارش خوشبو بکھیرتی ہے۔ جنم بھومی کا سبب ہے۔ یہ انواع کی ہواؤں کا سنگھٹن ہے۔ بے شمار خوبیاں ہیں جو لکھنے میں کم حواس کو زیادہ پکڑتی ہیں۔ دھوپ سے بارش سے دھوپ تک کا یہ سفر گھنٹے سے زیادہ نہیں ہے۔ زینہ بہ زینہ بہہ رہی تھی۔ پتوں بوٹوں پودوں پہ قطرہ قطرہ موتی موتی پڑ رہی تھی۔ بارش ذہنی آبیاری کا بھی سبب ہے!
کل موسم کی تبدیلیوں کے پیش نظر سکول کے سویٹر کی تلاش میں تھے۔ اچانک سے خیال آیا یہ لے لینی چاہیے۔ بھائی کتنے میں ہے؟ اخے سولہ سو کی دیتے ہیں آپ کے لیے تیرہ پچاس فائنل ہے۔ مخے پیک کر دیں! جیب ٹٹولی تو ایک ہزار پچاس روپے برآمد ہوئے جبکہ تین سو مزید درکار تھے۔ کچھ مزید اشیاء کے لیے تقریباً ہزار روپے کم از کم چاہیے تھے۔ سر دست بہرحال تین سو چاہیے تھے۔ خصوصی تعلق سے فی الفور نوٹیفکیشن موصول ہوا۔ اب ہمارے پاس سات سو باقی بچے تھے۔ مری کی زینہ بہ زینہ گلیوں میں رنگا رنگ چوڑیوں والی کچی کوٹھی تلے صوبہِ سرحد سے ایک صاحب خوبانیاں اور انجیر سجائے بیٹھے تھے۔ اُگ پُک کے نتیجے میں انجیر کا ایک گُچھا خرید لیا گیا۔ کتنے میں ہے؟ اڑھائی سو دے دیں۔ جی بہتر! اب پانچ سو بچ گئے تھے۔
عزی نے کہا ون ڈالر شاپ پہ چلتے ہیں! کیوں؟ جی ونڈو شاپنگ کرنی ہے! یہ کیا ہوتا ہے؟ یہ ایسے ہے کہ مجھے بہت ساری چیزیں پسند کرنی ہوں گی مگر کوئی ایک پسندیدہ چیز بالآخر لے لینی ہے! یہ ون ڈالر شاپ ہے تو اڑھائی سو مزید گنجائش بن رہی تھی۔ ڈائری لکھنے کے لیے ایک گلابی قلم پسند آئی جس کی بالوں والی ٹوپی تھی! سو کہیں اور استعمال ہو گئے اب دو سو بچ گئے تھے۔ طے پایا کہ میں چھلی کھاؤں گا سو ریڑھی بان سے لے لی اور عزی سپائسی چیٹوز لے گی۔راستے میں کئی جگہوں پہ چیٹوز آئے لیکن سپائسی نہیں مل پا رہے تھے۔ خیر چھلی لے لی اور بڑھتے گئے۔۔۔
آج کل حکومت پنجاب ریڑھیاں بانٹ رہی ہے۔ ریڑھی میں کچھ تصاویر تھیں۔ عزی نے دریافت کیا آیا وہ صاحب حکومتِ وقت کے سپورٹر ہیں؟ سپائسی چیٹوز کے چکر میں بڑھتے گئے اور کسی موڑ پہ بائیک نے ہچکیاں لینا شروع کر دیں۔ یہ اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ بائیک پیاسا ہے اور یہ کنویں کا متقاضی ہے وگرنہ آگے بڑھنے سے مکمل بغاوت کا اعلان ہے، واپس یوٹرن لیا اور پیٹرول پمپ کا رخ پکڑا۔ جہاں اترائی تھی اترتا گیا،جہاں چڑھائی تھی وہاں کانوں سے پکڑا کھینچتے گئے،جہاں صراطِ مستقیم مل گیا وہاں سیدھے رہے۔ بالآخر ہم کئی ہا برس پیدل سفر کے بعد پیٹرول پمپ پہنچ گئے، کیا ہے آپ کے پاس؟ جی پیٹرول بیچتے ہیں! ڈال دیں سو روپے کا! عزی سو روپے دے دیں،عزی ہکی بکی رہ گئی،وہ سوچ رہی تھی کہ چیٹوز لے گی، اب بھی پچاس روپے باقی تھے۔۔ چیٹوز نہیں مل سکے تو عزی نے رائٹ بسکٹ لے لیے،عزی کو یہ سفر مشقت طلب لگا تو بے ساختہ کہنے لگا کہ ہمیں ہر پہلو پہ نظر رکھنی چاہیے اور ہر لمحے کو انجوائے کرنا چاہیے،وہ متفق پائی گئی اور ہم چلتے گئے اور بمشکل گھر تک بائیک پہنچ پایا اور شام میں ہم تینوں نے سیر ہو کر پانی پی لیا۔
یہ درج زیل رنگین پہاڑیاں درخت اور دیگر میکانکیاں اسی سفر سے منطبق ہیں۔ عزی نے ڈائری بھی بھری اور رنگ بھی بھرے اور پتہ چلا کہ ان رنگوں کا تعلق اس بدھ والی حقیقی کہانی سے ہے! یوں ان یادوں کو محفوظ کر لیا گیا! کھلے آسمان تلے ٹھندی ہواؤں کی لپیٹ میں چند سطریں لکھی ہیں۔ بارہ بج گئے ہیں جبکہ تاریخ دس سے گیارہ ہو گئی ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں