• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • شاہراہ قراقرم، ریاستی رٹ کا سوالیہ نشان اور خون آلود تاریخ/شیر علی انجم

شاہراہ قراقرم، ریاستی رٹ کا سوالیہ نشان اور خون آلود تاریخ/شیر علی انجم

گزشتہ چند دنوں سے شاہراہ قراقرم پر گلگت بلتستان کے مسافروں کے ساتھ روا رکھا جانے والا غیر انسانی سلوک گلگت بلتستان کی عوام کے پرانے زخموں کو بار بار  کرید  رہا ہے۔ چھمو گڑھ، گلگت میں ایک کوہستانی شخص کی ہلاکت کے بعد کوہستان کے مختلف علاقوں میں شناختی بنیادوں پر گلگت بلتستان کے مسافروں کو روک کر شناختی کارڈ چیک کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خیبرپختونخوا مذہبی انتہا پسندوں کے رحم و  کرم پر ہے ۔  یہ اقدام نہ صرف غیر قانونی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی اخلاقیات کے بھی منافی ہے۔ یہ المناک سلسلہ ایک بار پھر وہ سوال اٹھا رہا ہے جو کئی دہائیوں سے حل طلب ہے کہ شاہراہ قراقرم پر ریاستی رٹ کہاں ہے؟ کیونکہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جب شاہراہ قراقرم پر گلگت بلتستان کے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس شاہراہ کی تاریخ خون سے لکھی گئی ہے۔ 1988 کے قتل عام کا لشکر ہی کوہستان میں تیار ہوا تھا، سے لے کر 2012 اور 2013 میں بسوں سے مسافروں کو شناختی بنیادوں پر اتار کر بے دردی سے قتل کیے جانے تک، یہ خطہ بار بار خون میں نہلایا گیا۔ المیہ یہ ہے کہ ان سفاکانہ واقعات کے باوجود آج تک کسی بھی مجرم کو منصفانہ سزا نہیں ملی۔ یہی بدقسمتی اور قانون کی بالادستی کا فقدان ہی دہشت گردی کے اس سلسلے کو بے خوفی سے جاری رکھنے کا سبب بنا ہوا ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام بجا طور پر سوال کر رہے ہیں:

کیا یہ شاہراہ، جو قومی ترقی کے منصوبے سی پیک کی شہ رگ ہے، ان کے لیے محفوظ ہے؟

اگر ‘داسو ڈیم’ جیسے اہم منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، تو ایک عام شہری کی جان کس کھاتے میں ہے؟

یہ سوال پورے ریاستی ڈھانچے کو للکار رہا ہے۔ یہاں ایک اور پہلو قابل غور ہے کہ گلگت بلتستان کے علاقوں میں ہزاروں کوہستانی مزدور بلا خوف و خطر کام کر رہے ہیں۔ انہیں کبھی شناختی بنیاد پر نہیں روکا جاتا ہے   بلکہ اہل تشیع کی  مساجد میں باقاعدہ نماز بھی ادا کرتے ہیں، نہ ہی ان پر کسی قسم کا تشدد کیا گیا۔ لیکن جب گلگت کے مخصوص علاقے میں  کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے، تو اس کا بدلہ بے گناہ گلگت بلتستان کے بیگناہ مسافروں سے لیا جاتا ہے۔ یہ کیسا “انصاف” ہے؟ یہ دوہرا معیار صرف نفرت اور تقسیم کو ہوا دے رہا ہے۔اس تمام صورت حال میں حکومت خیبر پختونخوا اور وفاقی اداروں کی خاموشی سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔ شاہراہ قراقرم پر مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال ریاستی رٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس خاموشی نے گلگت بلتستان کے عوام کو احساس محرومی کی اس انتہا پر پہنچا دیا ہے جہاں وہ اپنے تحفظ کے لیے خود اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ یاد رکھیے، یہ صورتحال کسی بھی ریاست کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان حکومت، خیبر پختونخوا حکومت اور وفاقی حکومت کو فوری طور پر شاہراہ قراقرم کو نو گو ایریا (No-Go Area) بننے سے روکنے کے لیے ٹھوس حفاظتی اقدامات اٹھائیں۔ شاہراہ پر مسافروں کو شناختی بنیاد پر روکنے، ہراساں کرنے یا تشدد کرنے والے عناصر کے خلاف فوری، سخت اور شفاف قانونی کارروائی کریں اور شاہراہ قراقرم پر ہونے والے تاریخی سانحات، خصوصاً 1988, 2012, اور 2013 کے خون خرابے کی عدالتی سطح پر آزادانہ تحقیقات کرائیں اور مجرمان کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں ۔ اس علاوہ بین الاقوامی اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل اس  شاہراہ پر بین الاقوامی معیار کے مطابق سکیورٹی کے جدید اور موثر انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ صرف چیک پوسٹس کافی نہیں، پورے راستے پر موثر نگرانی اور فوری ردعمل کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ ریاستی اداروں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اگر ایک شاہراہ پر شہری محفوظ نہیں ہیں، تو سی پیک جیسے اربوں ڈالر کے منصوبے کی سیکیورٹی کا خواب بھی ادھورا رہ جائے گا۔ مقامی آبادی کا اعتماد اور تحفظ سی پیک کی کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔ لہذا اب ریاست کو فیصلہ کرنا ہے کہ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی یا پھر قبائلی اور مذہبی انتہا پسند جتھوں کی دہشت گردی اور اجارہ داری؟

julia rana solicitors london

اس وقت شرمندگی اور غیر ذمہ داری کا عالم یہ ہے کہ شاہراہ قراقرم کو محفوظ بنانے کے بجائے اسے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا  گیا ہے جو کہ ریاستی ناکامی اور گلگت بلتستان حکومت کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیونکہ شاہراہ قراقرم محض سڑک نہیں، پاکستان کی معاشی اور اسٹراٹیجک شہ رگ ہے۔ اس پر امن اور تحفظ صرف قانون کی بالادستی، موثر حکومت، اور تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک سے ہی ممکن ہے۔ ریاست کو اپنا فرض ادا کرنا ہوگا ورنہ تاریخ پھر سے دہرائی جائے گی، اور اس کا نقصان پورے پاکستان کو اٹھانا پڑے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ خون آلود تاریخ کا سلسلہ توڑا جائے اور شاہراہ قراقرم کو امن اور ترقی کی شاہراہ بنایا جائے۔

Facebook Comments

شیر علی انجم
مصنف بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معیشت و بین الاقوامی امور اور مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply