حسینہ نمبر۳ سے مفصل انٹرویو کے بعد میں ایک عرصہ تک ایسی لڑکی کی تلاش میں رہا جو کلاسیکی اور جدید کے فرق کا شکار نہ ہو‘ کچھ خود تحقیق کی‘ کچھ دوستوں سے مدد لی‘ آخر ایک زن شناس دوست نے مخبری کی کہ ایک حسینہ دو تین بار کافی ہاؤس میں ایک نوجوان کے ساتھ جدید ادب پر بحث کرتے ہوئے پائی گئی ہے۔ ذرا گھات لگاؤ‘ ضرور کامیاب ہو جاؤ گے۔ گھات کامیاب رہی اور اب میں حسینہ نمبر۴ کے روبرو تھا‘ اس نے کہا:۔”آپ نے درست سنا ہے کہ میں اور میرا بوائے فرینڈ دونوں جدید ادب کے شائق ہیں لیکن وہ جدید ناول کا رسیا ہے اور میں جدید شاعری کی‘ ہم دونوں ایک عرصے سے ایک دوسرے کو اپنااپنا نقطہ نظر سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ذرا کامیابی نہیں ہوئی وہ جدید شاعری کو سراسر بے ہنگم اور بے معنی سمجھتا ہے۔ حالانکہ دیکھا جائے تو جدید ناول میں بھلا کیا دھرا ہے اگر جدید ادب کا بھرم قائم ہے تو صرف جدید شاعری سے۔ لیکن وہ ہیں کہ بات ماننے میں ہی نہیں آتے‘ بھلا آپ ہی بتائیے‘ میں حق پر ہوں یا وہ؟“۔
میری تحقیق نے ایک اور جست لگائی اور ایک ایسا رومانی جوڑا ہاتھ آ گیا جو سراسر رومانی شاعری کا دلدادہ تھا‘ میں نے سوچا چلو اب کلاسیکی اور جدید کا فرق حائل رہے گا نہ شعر اور ناول کی چپقلش۔ میں نے چھوٹتے ہی حسینہ نمبر۵ سے کہا:۔ ”کہئے آپ کا کورٹ شپ کب پابندِ شریعت ہونے والا ہے۔ سنا ہے آپ نے ایسی کامن گراؤنڈ دریافت کر لی ہے جس پر آپ اپنی زندگی کی شاندار عمارت تعمیر کر سکتی ہیں“۔ خلافِ توقع اس نے اپنے لب و لہجے میں یاس کا رنگ بھرتے ہوئے کہا:۔ ”مجھے ڈر ہے ہمارا رومانس بارآور ثابت نہیں ہوگا۔ کیونکہ ہم دونوں میں آج کل شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں‘ رومانی شعراء میں وہ اختر شیرانی کو پسند کرتے ہیں اور میں ساحر لدھیانوی کو‘ وہ اپنی پسند پر اڑے ہیں اور میں اپنے انتخاب پر‘ وہ کہتے ہیں کہ ساحر تو سرے سے رومانی شاعر ہی نہیں۔ تنگ آ کر جب میں اختر شیرانی کے متعلق کھری کھری سناتی ہوں تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں‘ میں انہیں کب تک مناتی پھروں“۔
میں نے حسینہ نمبر۵ کو اس کے حال پر چھوڑا اور کسی ایسے جوڑے کی تلاش میں روانہ ہوا جن کا محبوب شاعر ایک ہی ہو‘ اللہ کے فضل سے میری تحقیق نتیجہ خیز ثابت ہوئی اور ایک دوست نے ایسی لڑکی کی نشاندہی کی جو اپنے محبوب سمیت غالب کی رسیا تھی‘ سوچا چلو مسئلہ انجام کو پہنچا‘ حسینہ نمبر۶ سے انٹرویو کے بعد میری تحقیق مکمل ہو جائے گی۔ حسینہ نمبر۶ نے فرمایا:۔ ”آپ نے درست سنا ہے کہ وہ اور میں دونوں غالب کے مداح ہیں لیکن حال ہی میں مجھے اس کے ذوق پر شک ہونے لگا ہے کیونکہ مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ غالب کی اس غزل کو پسند کرتا ہے جس میں یہ الفاظ آتے ہیں ”پھر دیدہ تر یاد آیا“ حالانکہ اس غزل میں غالب کا کوئی کمال نہیں‘ کمال ہے تو فریدہ خانم کا‘ جس نے گا گا کر اسے مشہور کر دیا ہے ورنہ اگر خالص شعری نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ ایک اوسط درجے کی کوشش ہے‘ پتہ نہیں اسے یہ غزل کیوں پسند آئی جبکہ دیوانِ غالب میں ایک سے ایک جاندار غزل موجود ہے مثلاََ
؎ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن
ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذرِ مستی ایک دن
میں نے اپنی تحقیق کو یوں اندھی گلی میں داخل ہوتے دیکھا تو بینائی حاصل کرنے کے لئے اپنے ریسرچ گائیڈ کی طرف رجوع کیا۔ انہوں نے مجھے ایک شادی شدہ جوڑے کے پاس بھیج دیا۔ جب میں ان کے ہاں پہنچا تو وہاں قبر کی سی خاموشی تھی‘ نہ باہر پتوں میں سرسراہٹ اور نہ اندر زندگی کے کوئی آثار‘ میں اس شہرِ خموشاں میں داخل ہوتے ہوئے ہچکچایاتو ایک بوڑھے ملازم نے آگے بڑھ کر میری رہنمائی کی۔ ”اگر آپ صاحب سے ملنا چاہتے ہیں تو برآمدے کے دائیں جانب اس کمرے میں تشریف لے جائیے اور اگر بیگحم صاحبہ سے ملنا چاہتے ہیں تو بائیں طرف والے کمرے میں چلے جائیے“۔ میں نے دائیں کمرے میں داخل ہو کر اشرف صاحب سے اپنا تعارف کرایا اور اپنے ریسرچ گائیڈ کا حوالہ دیا۔ ان کے مردہ چہرے پر مسکراہٹ کی سفید کلی کھلی اور ہفتوں کے سکڑے ہوئے ہونٹ گویا ہوئے:۔
”معلوم ہوتا ہے کہ آپ شادی سے متعلق ریسرچ کر رہے ہیں۔ پچھلے سال بھی پروفیسر صاحب نے ایک طالبعلم کو میرے پاس بھیجا تھا‘ فرمائیے کیا حکم ہے۔۔۔۔۔۔“
میں نے عرض کیا:۔
”سنا ہے آپ نے شادی سے پہلے ایک دوسرے کے ذوق کو خوب پرکھ کر یقین کر لیا تھا‘ کہ نہ صرف دونوں کی پسند و ناپسند ایک ہے‘ بلکہ دونوں میں کوئی اختلاف بھی نہیں جو کبھی باعثِ رنجش بن سکے۔ آپ فرمائیں‘ کیا میں آپ کی شادی کو مثالی شادی قرار دے سکتا ہوں؟“
انہوں نے فرمایا:۔
”آپ نے درست سنا‘ ہمارا ہم ذوق ہونا ہماری شادی کا باعث بنا اور ہمیں یقین تھا کہ کوئی اختلاف ہماری زندگی میں رنجش کا زہر نہ گھول سکے گا‘ لیکن شادی کے دو تین سال بعد انکشاف ہوا کہ اتفاق رائے اور مکمل اتفاق رائے بھی زندگی کا رس نچوڑ لیتا ہے‘ زندگی بے رنگ و بے کیف ہو کر رہ جاتی ہے۔ آج یہ حال ہے کہ اگر قبرستان میں دو مردوں کو قوت گویائی نصیب ہو جائے تو شاید قبرستان کا ماحول خوشگوار ہو جائے‘ لیکن ہمارے در و دیوار میں زندگی کے لوٹ آنے کا کوئی امکان نہیں ہم بات کریں تو کیوں کر‘ ہنسیں تو کس بات پر‘ اختلاف کے بغیر بات آگے نہیں بڑھتی اور اختلاف ہمارے ہاں سرے سے مفقود ہے۔ ہماری زندگی اجیرن ہو گئی ہے“۔
یوں مجھے اپنے تحقیقی مقالے کا مرکزی نکتہ ہاتھ آ گیا اور میں خوش خوش واپس یونیورسٹی کیمپس آ گیا۔
حاصلِ بحث: اختلافِ رائے کے بغیر زندگی بے رنگ و پھیکی ہے‘ لہٰذا ایکدوسرے کی رائے کااحترام کریں‘ مناسب طریقے سے اپنا نقطہ نظر بیان کرنا اور برداشت کرناسیکھیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں