ایک چھوٹی سی بھول ؟- جاویدایازخان

ہمارے ایک کزن کے ماشاللہ نو بچے تھے اور اتنے ہی ان کے بھائی کے بچے تھے جو ماشااللہ اب جوان ہو چکے ہیں ۔جب یہ بچے چھوٹے تھے تب یہ دونوں خاندان ایک شادی میں شرکت کرکے کوٹ ادو سے واپس جھنگ جارہے تھے ۔رات کو روانہ ہونے والی بس عموما صبح جھنگ پہنچتی تھی ۔ سردی اور شادی سے تھکے یہ دونوں خاندان بس میں بیٹھ کر سو گئے ۔راستے میں چوبارہ کے قریب ان کی بس خراب ہوگئی اور باوجود کوشش کے ٹھیک نہ ہو سکی تو لیہ سے آنے والی ایک بس میں سواریوں کو منتقل کر دیا گیا اور دوسری والی بس جب تقریبا~ پندرہ بیس کلو میٹر ہی گئی ہوگی کہ ایک بھائی کی بیگم نے شور مچا دیا کہ میرا گود والا ایک بچہ تو خراب ہونے والی پچھلی گاڑی میں ہی رہ گیا ہے ۔بس والے نے فورا بس کو واپس موڑا ۔خراب والی بس وہیں موجود پائی اورعملہ سو چکا تھا ۔انہیں جگایا اور پوچھا کہ بھائی ہمارا ایک بچہ گاڑی میں سوتا رہ گیا ہے ۔بس کے کنڈیکٹر نے پچھلی سیٹوں پر جا کر دیکھا اور انہیں ہنستے ہوۓ بتایا کہ بی بی وہاں تو ماشاللہ ! کمبل تلے دبے چار بچے سوۓ ہوۓ ہیں ۔اندر آو اور اپنا اپنا بچہ پہچان لو ۔اند رجاکر دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ چاروں بچے ان ہی کے تھے دو ان کے اور دو ان کے دوسرے بھائی کے تھے ۔جس بھائی کو پتہ ہی نہ تھا کہ اس کے بچے بھی بس میں ہی رہ گئے ہیں ۔بچے زیادہ ہوں تو گنتی میں غلطی  کا احتمال ہو سکتا ہے ۔بیس بچوں میں سے ایک دو کو بھول جانا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی ۔یہ تو شکر ہے کہ انہیں جلد ہی بچوں کا خیال آگیا ورنہ صبح جھنگ جاکر بھی پتہ چل سکتا تھا ۔

اس واقعہ کے بعد میرے یہ کزن ہمیشہ گن کر بچے ساتھ رکھتے ,سوار ہوتے اور اترتے وقت اپنے بچے گن کر پورے کر لیتے تھے ۔لیکن بیوی تو ایک ہی ہوتی ہے تو اسے کیسے بھولا جاسکتا ہے ؟ ہمارے ایک بھلکڑ دوست کے بارy  میں سنا ہے کہ وہ اکثر اپنی بیوی کو بھول جاتے ہیں ۔کسی تقریب میں جائیں تو فنکشن ختم ہونے پر خو واپس گھر آجاتے ہیں اور پھر جب یاد آتا ہے کہ بیوی تو تقریب میں ہی ہے تو واپس دوڑتے ہیں یہ تو اللہ بھلا کرےy  موبائل فون کا ,جب سے یہ ہاتھ میں آیا ہے بیگمات کا کنٹرول کافی سخت ہو گیا ہے ۔ ایک زمانے میں جب موبائل فوں کی سہولت میسر نہ تھی ایک اور دوست کی نئی نئی شادی ہوئی ہمیشہ اکیلے سفر کے عادی تھے پہلی مرتبہ بیوی کو لینے سسرال گئے تو بیوی کو زنانہ انتظار گاہ میں بیٹھا کر خود پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگے گاڑی آئی تو بیٹھ کر روانہ ہوگئے کئی اسٹیشن گزر گئے تو خیال آیا کہ بیوی تو انتظار گاہ میں ہی رہ گئی ہے ۔واپس بھاگے مگر بیوی سمجھدار تھی ان کی بھولنے کی عادت سے باخبر تھی گاڑی نکلنے کے بعد خود ہی رکشہ کرکے واپس اپنے میکے پہنچ گئی ۔میرے ایک اور دوست اپنی نئی شادی کے بعد ایک مرتبہ میرے گھر اپنی بیگم کے ہمراہ دعوت پر آۓ خدا حافظ کہہ کر جانے لگے تو میں نے یاد دلایا کہ بھائی آپکی بیگم بھی ساتھ آئی ہیں ۔ایک اور دوست دفتر سے واپسی کہنے لگے مجھے گھر ڈراپ کردیں میں نے انہیں لے کر روانہ ہوا تو راستے میں انہیں یاد آیا کہ گاڑی تو دفتر ہی کھڑی ہے ۔جبکہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ گاڑی ان کی بیگم لے جاچکی ہے ۔

گزشتہ دنوں ایک دلچسپ مگر حیرت انگیز واقعہ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی زینت بنا جوسب کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔خبر کے مطابق ایک صاحب اپنی اہلیہ کو موٹر وۓ کے ایک ریسٹ ایریا پر بھول گئے ۔ہوا کچھ یوں کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ سفر کر رہے تھے راستے میں رکے تو بیوٰ ی واش روم گئی بچے گاڑی میں سوۓ ہوۓ تھے اور جناب نے سوچا کہ سب سوار ہو چکے ہیں اپنی گاڑی کی چابی گھمائی اور گاڑی دوڑادی ۔ بیوی کو شاید خاوند کی بھولنے کی عادت کا پہلے ہی احساس تھا اس لیے کئی کلو میٹر بعد بیوی کا موٹر وۓ پولیس کے تعاون سے فون آیا کہ “میں وہیں ہوں اور تم کہاں ہو “؟ اس پر شوہر کو جیسے نیند سے جگادیا ہو دیکھا تو ساتھ کی سیٹ پر بیگم موجود نہ تھی فورا گاڑی موڑی شرمندگی سے پسینے پسینے اور بیوی کو لینے واپس پہنچے ۔اسی لیے کہتے ہیں کہ گاڑی چلاتے وقت صرف گاڑی ہی نہیں اپنے ساتھیوں کو بھی چیک کرتے رہیں ۔ شکر ہے کہ موٹر وۓ پولیس نے بروقت کاروائی کرتے ہوۓ ان میاں بیوی کو پھر سے ملا دیا ۔یہ یقینا ًایک غیر ارادی غلطی یا بھول تھی ۔زندگی کی شاہراہ پر گاڑی تیز ضرور چلائیں لیکن ساتھ کی سیٹ پر بیٹھی ہم سفر بیوی پر بھی نظر رکھیں کہ وہ ساتھ ہے بھی یا نہیں ؟ لیکن آج کل ہمارے سوشل میڈیا پر اس واقعہ کی خوب دھوم مچی ہوئی ہے ۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ لمبے سفر یا تھکاوٹ کے دوران ڈرائیور حضرات آٹو پوائنٹ موڈ میں چلنے لگتے ہیں اور کسی کے اترنے یا چڑھنے کا نوٹس نہیں لیتے ۔یا پھر بےخیالی کی باعث ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں ۔موٹر وۓ یا سڑک پر اکثر ہم بھول کر غلط موڑ مڑ جاتے ہیں اور پھر لمبا یو ٹرن لینا پڑتا ہے یوں ایک چھوٹی سی بھول بسا اوقات بڑی مہنگی پڑتی ہے ۔

موٹر وۓ یا ہائی وۓ پر کسی کو بھول جانے کے واقعات اکثر سننے میں آتے ہیں اور خاص طور پر ریسٹ ایرا میں ہی اکثر ایسا ہو جاتا ہے ۔۔خاص طور پر جب سفر کے دوران کوئی رک کر باہر اترۓ اور ڈرائیور بغیر اسے ساتھ لیے روانہ ہو جاۓ ۔ہمارے ہاں ایک عجیب سی روایت ہے کہ جب موٹر سایکل سوار اپنی بیوی کے ساتھ ہو اور پیٹرول پمپ سے تیل ڈلوانا ہو تو وہ پردہ داری کی باعث اپنی بیوی کو ہمیشہ پمپ سے باہر کچھ دور اتار دیتا ہے اور ٹینکی فل کرا کر اکثر جلد بازی میں اسے واپس لینا ہی بھول جاتا ہے اور وہ بےچاری آوازیں دیتی اور اشارۓ کرتی دکھائی دیتی ہے ۔امریکہ میں ایک جوڑے نے ہوائی اڈے پر اپنے دس سالہ بچے کو بھول کر فلائٹ پکڑ لی اور جب انہیں یاد آیا تو فلائٹ واپس نہیں ہو سکتی تھی مجبوراً اس بچے کو اگلی فلائٹ سے بھیجا گیا ۔اسلام آباد میں ایک والد اپنے بچے کو اسکول چھوڑنے کے بعد بھول گئے کہ وہ راستے میں گاڑی کے پچھلے دروازے سے اترا تھا جب انہیں اس کی غیر موجودگی کا احساس ہوا تو دوڑے ہوۓ واپس گئے لیکن بچہ پہلے ہی پولیس کی سیکورٹی میں تھا اس پر لوگوں نے کہا کہ “بچے کو سیکورٹی فیچر سمجھ کر پیچھے چھوڑ دیا ” ہمارے ایک بینکار دوست اکثر اسکول سے بچوں کو لینا ہی بھول جاتے ہیں پھر انہوں نے اپنے موبائل پر ایک خصوصی الارم لگایا جو انہیں وقت سے پہلے یاد دلاتا ہے کہ بچوں کو اسکول سے لینا بھی ہوتا ہے ۔

julia rana solicitors london

بھولنے کی عادت کو اکثر ہنسی مذاق میں اڑا دیا جاتا ہے لیکن بعض اوقات یہ اتنی شدید ہوتی ہے کہ نقصان دہ بن جاتی ہے ۔بیوی یا بچوں کو بھولنا صرف ایک وقتی غفلت اور اتفاق کا نتیجہ تو ہو سکتا ہے ۔لیکن اس بارے میں سیریس اور محتاط رہنا بے حد ضروری ہے۔آج کل بھولنے کی عادت ہماری زندگی کا جزو بنتی جارہی ہے یہ کوئی مذاق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے ۔بات کرکے بھول جانا ،وعدہ کرکے بھول جانا،وقت دۓ کر بھول جانا ،بازار سے کچھ لینے جانا اور بھول جانا عام سی بات سمجھی جاتی ہے لیکن ہمین اس کی عام وجوہات پر بھی غور کرنا ہوگا ۔ماہرین کے مطابق بھولنے کی عادت کی چند وجوہات یہ ہیں ۔مشغولیت یعنی ذہنی تھکاوٹ یا زیادہ کام یا سفر کی وجہ سے چیزوں کو بھول جانا ،نیند کی کمی سے یادداشت متاثر ہوتی ہے ۔ہر وقت کی پریشانی اور سوچنے کی عادت کے ساتھ ساتھ غذائی کمی خصوصاً وٹامن بی ،آئرن کی کمی یادداشت متاثر کرتی ہے ۔چند بیماریاں بھی اس کی وجہ بنتی ہے جن میں ذہنی دباو یا ڈئپریشن ،تھائیرائیڈ اور الزائمر یا ڈیمنشیا وغیرہ پھر آجکل موبائل اور سوشل میڈیا کا زیادہ اور مسلسل استعمال بھی اس کی بڑی وجہ بن رہا ہے ۔ ہمیں اپنے معمولات زندگی اور طرز زندگی کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔نیند پوری کریں ،مراقبہ یا ورزش سے ذہنی دباو کم ہوتا ہے ،صحت مند غذا اور پانی کا زیادہ استعمال بھولنے میں کمی لا سکتا ہے ۔نیند یا پریشانی میں گاڑی چلانے سے پرہیز کریں دوران سفر موبائل بند رکھیں یا سننے سے پرہیز کریں ۔اور اگر بھولنے کی عادت بڑھ رہی ہے تو ڈاکٹر یا ماہر نفسیات سے مشورہ ضرور کریں ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply