ہماری دادی اماں کی عادت تھی کہ وہ جو چیز بھی کھاتیں اپنے بچوں کے لیے ضرور بچا لیتی اور سنبھال رکھتی ایک روز کسی نے انہیں برفی کے چند ٹکڑے لاکر دئیے کچھ تو انہوں نے کھا لیے کچھ ایک پڑیا میں چھپا کر رکھ لیے کہ دوپہر کو ان کا بیٹا بیاض کچہری سے آۓ گا تو اسے دوں گی ۔جب بیاض خان آۓ تو انہوں نے وہ برفی انہیں کھانے کو دی اور بتایا کہ فلاں گھر سے یہ برفی آئی تھی میں نے تمہارے لیے سنبھال رکھی تھی انہوں نے وہ برفی کی پڑیا لیکر اپنی جیب میں رکھ لی تو دادی جان نے کہا بیاض اسے کھالے تو وہ کہنے لگے اماں جان تم نے اپنے بیٹے کے لیے بچا کر رکھی میں بھی اپنے بیٹے کے لیے لیکر جاوں گا جتنی محبت تمہیں اپنے بیٹے سے ہے اتنی ہی مجھے اپنے بیٹے سے بھی ہے ۔رشتوں کی یہ لڑی یونہی آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔یہی سلسلہ نئے رشتوں کو جنم دیتا ہے اور پرانے رشتوں کو کمزور کرتا چلا جاتا ہے ۔ہر رشتے کی محبت دوسرے رشتوں کو مدہم کر دیتی ہے ۔باہمی رشتوں میں توازن رکھنا ناممکن تو شاید نہیں مشکل ضرور ہو جاتا ہے ۔اپنا سب کچھ ایک دوسرے پر نثار کرنے والے بھائی بہن وارثت پر اپنے بچوں کے حق کے لیے ایک ایک انچ زمین پر آپس میں لڑتے ہیں ۔اور بھائی بہن کا رشتہ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے ۔آج کےحرص وہوس کے دورمیں کوئی کسی کا نہیں بنتا ۔بھائی اپنی اولاد کی خاطر بہنوں کی وارثت ہڑپ کرنا برائی نہیں سمجھتے ۔ والدین کے لیے اپنی اولاد کی محبت باقی سب محبتوں اور رشتوں پر حاوی ہو جاتی ہے ۔آخر کیوں ؟
کہتے ہیں کہ خاندان اور رشتے داریاں درختوں کی طرح ہوتی ہیں جن میں شاخیں آپس میں ٹکراتی ضرور ہیں مگر ٹوٹتی نہیں ۔انسانی رویوں میں لچک ہی ان رشتوں کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے ۔ اکثر ناخوشگوار چیزوں کو خوشگوار طریقے سے قبول کرنے کا نام ہی تو زندگی ہوتا ہے۔باہمی رشتوں کے بندھن بڑے عجیب ہوتے ہیں جو مضبوط بھی اسقدر ہوتے ہیں کہ زمانے کے حوادث انہیں توڑ نہیں پاتے اور کمزور بھی کچے دھاگے کی طرح ایسے نازک کہ معمولی سا ہوا کا جھونکا انہیں بکھیر کر رکھ دیتا ہے ۔کچھ رشتے دل کی دھڑکن جیسے ہوتے ہیں مسلسل ،لازمی ،خاموشی سے نبھتے ہوۓ ،کچھ رشتے شام کی چاۓ کی طرح وقتی تسکین ،وقتی تعلق اور کچھ رشتے بس وقت کی ضد کی طرح ہوتے ہیں ،نہ جڑتے ہیں ،نہ ٹوٹتے ہیں مگر رشتے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں ۔ کچھ رشتے کسی ٹرین کے سفر میں بنتے اور سفر کے ساتھ ہی ختم ہوجاتے ہیں اور کچھ رشتے ہماری زندگی میں ایسے داخل ہوتے ہیں جیسے دھوپ میں سایہ ،بارش میں چھت ،اور خاموشی میں ہم آواز مگر کیا ہر سایہ ساتھ رہتا ہے ؟ کیا چھت طوفان برداشت کر پاتی ہے ؟ اور کیا ہر آواز وقت کے شور میں سنائی دیتی ہے ؟ جی ہاں کبھی نہیں کیونکہ یہ رشتے بھی ایک دن ختم ہوجاتے ہیں جیسے دوائی کی شیشی پر چھپی ہوئی مختصر سی ایکسپائری کی تاریخ جسےہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں مگر وہی تاریخ طے کرتی ہے کہ دوا ئی اب شفا دے گی یا زہر بن جاۓ گی ۔ہمارے دادا جی ایک بڑی خوبصورت اور گہری بات کہتے تھے کہ ” دوائی کی طرح رشتوں کی بھی مقررہ معیاد یا ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے ” یہ جملہ صرف الفاظ نہیں بلکہ انسانی تعلقات کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ہر رشتہ وقتی نہیں ہوتا لیکن ہر رشتہ ہمیشہ نہیں رہتا کچھ تعلقات وقت یا جذبات کی تبدیلی سے کمزور ہو جاتے ہیں جیسے کہ دوائی وقت گزرنے کے بعد موثر نہیں رہتی ویسے ہی بعض رشتے بھی وقت گزرنے پر بےاثر ہو جاتے ہیں ۔اگر رشتے میں احساس ،احترام ،وقت اور قربانی شامل نہ ہو تو وہ مرجھا جاتے ہیں جیسے دوائی کو صیح درجہ حرارت پر نہ رکھا جاۓ تو وہ خراب ہو جاتی ہے ویسے ہی لاپرواہی رشتوں کو زہر بنا دیتی ہے ۔دوائی کی ہر شیشی پر لکھی ایکسپائری ڈیٹ بتاتی ہے کہ اس دن کے بعد یہ دوا ئی شفا کی بجاۓ زہر بھی بن سکتی ہے یا پھر بے اثر ہوکر اپنی اہمیت کھو دیتی ہے ۔ایسے ہی ہماری زندگی کے ہمارے روزمرہ کے رشتے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ کمزور ہوکر اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں یا پھر رفتہ رفتہ مدہم پڑنے لگتے ہیں یا پھر ذہنی اذیت ،جذباتی تکلیف اور روحانی تھکن کی باعث اس قدر زہریلے ہو جاتے ہیں کہ ان سے دور رہنا ہی زندگی ہوتا ہے ۔تم کسی کے کتنے بھی پیارے ہوں لیکن تمہیں وہی اپنے ہاتھوں سے دفن کر دیں گے خواہ تمہاری کتنی ہی اہمیت ہو تمہیں بھلا دیا جاۓ گا گویا کہ تم کبھی ان کے ساتھ تھے ہی نہیں ؟ایک وقت انسانی زندگی میں ایسا بھی آتا ہے کہ جب ہمارے بےپناہ رشتے کی محبت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ دعا کی جاۓ کہ اللہ اسے اٹھا لے یا اس کی مشکل آسان فرما ۓکیونکہ ہم سے ان کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی اور ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس رشتے کی معیادبھی اب اختتام کو پہنچ رہی ہے ۔رشتوں کی نوعیت اور ان کے انجام پر غور کریں کہ کب رشتہ دوا ئی اور شفا سے زہر میں بدل جاتا ہے ؟ کچھ رشتے اور تعلق وقت کے ساتھ اپنی تاثیر توکھو دیتے ہیں مگر ہم انہیں سینے سے لگاۓ بیٹھے رہتے ہیں جیسے پرانی دوائی ،جسے ضائع کرنے کا حوصلہ نہ ہوتا ہو ۔درخت بھی اپنے پرانے خشک پتے خود ہی گرا دیتا ہے تاکہ نئی شاخیں پھوٹ سکیں ۔ہم کیوں نہیں سمجھتےکہ کچھ رشتے بھی ایک مخصوص موسم کے لیے ہی ہوتے ہیں ۔ درخت تنہائی کا کرب جھیل کر نئی کونپلیں پیدا کرتا ہے ،وقت کا پھیر ،موسم کا بدلاو ،انسان کے اندر بھی کچھ ایسا ہی کرتا ہے بعض رشتے جو کل تک دل کے قریب تھے آج دل کی دیوار پر صرف بھولی بسری تحریر بن کر رہ جاتے ہیں ۔کچھ رشتے ہمیں صرف کچھ سکھانے کے لیے اور کچھ صرف یاد بننے کے لیے ہوتے ہیں ۔اپنی اپنی ایکسپائری ڈیٹ تک کارآمد اور موثر رہتے ہیں ۔مگر ہم ہر رشتے سے عمر بھر نبھانے کی امید باندھ لیتے ہیں ۔شاید اسی لیے تکلیف اس وقت زیادہ ہوتی ہے جب رشتے زخم دینے لگیں ،جب باتیں بوجھ بن جائیں یا جب خاموشی صلح سمجھی جاۓ توجان لینا چاہیے کہ معیاد پوری ہو چکی اور دوا ئی اب بےاثر ہو چکی یا پھر زہر بن رہی ہے ۔رشتے بچانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سا رشتہ نبھانے کے قابل ہے اور کون سا رشتہ اب رخصت مانگ رہا ہے ؟ کیونکہ کچھ رشتے بس دعا کی صورت تو اچھے لگتے ہیں لمبے ساتھ کی صورت اچھے نہیں ہوتے ۔کچھ رشتے یاد بننے کے لیے ہوتے ہیں زندگی بننے کے نہیں اور کچھ یادیں بس اتنی ہی خوبصورت ہوتی ہیں جتنی ان کی دوری ہوتی ہے ۔ رشتے وقت پر رخصت نہ ہو ں تو وہ تعلق نہیں رہتے تکلیف بن جاتے ہیں کیونکہ سچ یہی ہے کہ ہر رشتہ عمر بھر کا نہیں ہوتا ۔
کچھ رشتے اللہ کی جانب سے تخلیق ہوتے ہیں جن کا تعلق دنیاوی معاملات سے بلند تر ہوتا ہے اور ان کی کوئی ایکسپائری ڈیٹ نہیں ہوتی جو پوری زندگی اور بعد از زندگی بھی ہمارے ساتھ ساتھ قائم رہتے ہیں بلکہ روز محشر بھی ایسے ہی رشتے کی باعث ہماری پہچان ممکن ہو سکے گی ۔یہ والدین سے جڑےیکساں اور منفرد رشتے ہوتے ہیں ۔لیکن ان کی اولاد یعنی بہن بھائی جب خود اپنے بچوں کے باپ بنتے ہیں تو ان کی محبت اور تعلق دھیرے دھیرے اپنی اولاد کی جانب سمٹنے لگتا ہے ایسے ہی جیسے ہمارے والدین کا تعلق ہم بچوں سے دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے ۔تلخ حقیقت یہی ہے کہ اپنی اولاد سے محبت دوسرے تمام رشتوں کو کمزور اور غیر ضروری بنا دیتی ہے ۔یقینا” ہمارے والدین کے بھی ماں باپ اور بہن بھائی تھے اور ہم بھی کسی کے ماں باپ ہیں ۔بھائیوں کے لیے جان دینے والی بہنیں اور بھائی اولاد کی محبت میں ایک دوسرے کے جانی دشمن بنتے بھی دیکھے گئے ہیں ۔ہمارے اباجی کہتے تھے کہ “رشتے چلتے نہیں چلاۓ جاتے ہیں اس لیے نئے رشتے کرکے پرانے رشتوں کو تازہ کرتے رہو ” نئی رشتے داریاں تعلق کو مضبوط کرتی ہیں ۔لیکن اب وقت بدل رہا ہے پوری دنیا ڈیجیٹل ہوتی جارہی ہے دور جدید کے مطابق ہماری ضرورتیں رشتوں کی محتاج نہیں رہی ہیں ۔
اسی لیے کہتے ہیں کہ پچھلی نسل رشتے نبھا گئی موجودہ نسل رشتے توڑ رہی ہے اگلی نسل بغیر رشتے کے رہنا پسند کرے گی ۔ایک عربی کہاوت ہے جب تم چاہو دور تو جا سکتے ہو لیکن جب چاہو قریب نہیں آسکتے ۔انسانی تعلقات کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اکثر ایکسپائر شدہ ہرشتوں کو بھی سنبھال کر رکھنا چاہتے ہیں جیسے دل کی الماری میں پرانی خوشبو کی بوتل حالانکہ وہ خوشبو اب سانس میں جلن پیدا کرنے لگتی ہے ۔بات تلخ ضرور ہےلیکن رشتہ ،تعلق اور باہمی محبت جب دکھ دینے لگیں تو اس کو چھوڑنا ہی اچھا ہوتا ہے ۔ہمیں “نہیں “کہنا سیکھنا ہوگا ۔ایسے ہی جیسے ہمارے اجداد کرتے آۓ ہیں ورنہ تو حضرت آدم ؑکا پوری دنیا میں ایک ہی گھر اور خاندان ہوتا ۔ہابیل قابیل کا واقعہ نہ ہوتا ۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں