12 مارچ 1949 کو آئین ساز اسمبلی نے ”قراردادِ مقاصد“ منظور کی جو پاکستان کی سب سے بنیادی آئینی دستاویز ہے۔ 7 مارچ سے 12 مارچ تک پانچ دن (بیچ میں 11 مارچ کو چھٹی تھی) تفصیل سے اس قرارداد کے ہر ہر پہلو پر تفصیلی مباحثہ ہوا جس میں ہر اس دلیل پر بات ہوئی جو پاکستان کے آئین کی اسلامیت کے حق میں یا اس کے خلاف پیش کی گئی۔ آج بھی اس موضوع پر جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں، اس میں شاید ہی نیا کچھ ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ آئین ساز اسمبلی کی ان پانچ دنوں کی کارروائی کو گریجویشن کی سطح پر نصاب کا حصہ بنایا جائے اور قانون کے طلبہ کو خصوصاً یہ کارروائی سبقاً پڑھائی جائے۔ یہ مباحثہ قومی اسمبلی ویب گاہ پر دستیاب ہے۔
اس قرارداد کا آغاز اس اعتراف سے ہوتا ہے کہ ”کائنات پر حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔“ اس کے بعد یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ” اختیارِ حکومت ، جسے پاکستان کے عوام اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کریں گے، ایک مقدس امانت ہے“، اور یہ کہ”جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور معاشرتی انصاف کے وہ اصول جنھیں اسلام نے متعین کیا ہے، ان کی مکمل پیروی کی جائے گی۔“
یہ قرارداد بعد ازاں 1956ء اور پھر 1962ء میں آئین کے دیباچے کے طور پر شامل کی گئی۔ 1958ء میں جب پہلا آئین معطل کرکے مارشل لا نافذ کیا گیا، تو سپریم کورٹ نے ”ریاست بنام دوسو“ مقدمے کے فیصلے میں آسٹریا کے ماہرِ قانون ہانس کیلسن کے grundnorm، یعنی ”اصل الاصول“، کے نظریے سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ فوجی انقلاب ”فاتح“ ہے، مستقل ہے اور قوم اسے قبول کرچکی ہے، اس لیے ہمارا اصل الاصول تبدیل ہوگیا ہے اور اب مارشل لا جائز ہے اور دیگر قوانین کے جواز و عدم جواز کےلیے اب مارشل لا کو ہی معیار کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ اس فیصلے نے غیر آئینی طریقوں سے اقتدار پر قبضے کی راہ کھول لی۔
1969ء میں ایک دفعہ پھر آئین منسوخ کرکے مارشل لا نافذ کیا گیا، تو اس کے تین سال بعد 1972ء میں ”عاصمہ جیلانی بنام حکومتِ پنجاب“ مقدمے میں سپریم کورٹ کے سامنے پھر مارشل لا کے جواز کا سوال اٹھا۔ اس دفعہ سپریم کورٹ نے قراردادِ مقاصد میں طے کیے گئے اصولوں کے ساتھ تصادم کی بنیاد پر مارشل لا کو ناجائز قرار دیا، اور اعلان کیا کہ ”اگر اصل الاصول کا ماننا ضروری ہے، تو پاکستان کو اسے مغربی قانونی نظریہ دانوں سے اخذ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کا اپنا اصل الاصول یہ ہے کہ کائنات پر قانونی حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور جو اختیار عوام کو دیا گیا ہے وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود میں ایک مقدس امانت ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تغیر اور اٹل اصول ہے جو قراردادِ مقاصد میں تسلیم کیا گیا ہے۔“ یوں قراردادِ مقاصد طالع آزماؤں کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔
1973ء کے آئین میں بھی قراردادِ مقاصد کو دیباچے کے طور پر شامل کیا گیا۔ تاہم اسی سال ایک اور اہم مقدمہ ”ریاست بنام ضیاء الرحمان“میں سپریم کورٹ کے سامنے جب آئین کے دیباچے میں بیان کردہ اللہ کی حاکمیت کے تصور اور بعض آئینی دفعات میں تصادم کا سوال آیا، تو عدالت نے پچھلے فیصلے سے انحراف کرتے ہوئے انگریزی قانون کا اصولِ تعبیر اختیار کیا اور قرار دیا کہ قراردادِ مقاصد تو محض دیباچہ ہے اور دیباچہ آئین کے عملی حصے پر فوقیت نہیں رکھتا۔
اس فیصلے میں گھڑے گئے بے بنیاد فرق کو دور کرنے کےلیے 1985ء میں آٹھویں آئینی ترمیم نے دفعہ 2-اے کا اضافہ کرکے قراردادِ مقاصد کو آئین عملی حصہ بنادیا ۔اس کے بعد ”بینک آف عمان بنام ایسٹ ٹریڈنگ کمپنی (1987)“اور ”مرزا قمر رضا بنام مسماۃ طاہرہ بیگم (1988ء)“ میں ہائی کورٹ آف سندھ کے چیف جسٹس تنزیل الرحمان نے یہ موقف اختیار کیا کہ اب آئین کی ہر شق کی تعبیر قراردادِ مقاصد کے مطابق ہونی چاہیے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس نظریے کو قبول نہیں کیا اور ”حکیم خان بنام حکومتِ پاکستان (1992)“ میں قرار دیا کہ دفعہ 2-اے ازخود نافذ العمل نہیں ہے اور اگر اس میں اور آئین کی دیگر دفعات میں کوئی تصادم ہو، تو صرف پارلیمان ہی اس تصادم کو دور کر سکتی ہے۔ پارلیمان نے مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان میں تو ترمیم کی لیکن ان آئینی دفعات میں تصادم کو دور کرنے کےلیے تاحال کوئی آئینی ترمیم نہیں کی۔
1996ء میں ”الجہاد ٹرسٹ بنام وفاق پاکستان“ مقدمے میں سپریم کورٹ کے سامنے آئین کی دو دیگر دفعات کے درمیان تصادم کا مسئلہ آیا۔ ایک طرف دفعہ 203-سی، ذیلی دفعہ 5 کا کہنا تھا کہ اگر ہائی کورٹ کے کسی جج کو وفاقی شرعی عدالت ٹرانسفر کیا گیا اور وہ وہاں جانے سے انکار کرے، تو اسے اپنے عہدے سے ریٹائر سمجھا جائے گا؛ دوسری طرف دفعہ 209، ذیلی 7، کا کہنا تھا کہ جج کو صرف سپریم جیوڈیشل کونسل کی سفارش پر ہی ہٹایا جاسکتا ہے۔ اس بار معاملہ پارلیمان کی طرف بھیجنے کے بجائے سپریم کورٹ نے خود یوں حل کیا کہ ٹرانسفر والی شق کو ”آئین کی بنیادی ساخت“ سے متصادم قرار دے کر اس پر عمل روک دیا۔ یہ شق 2010ء تک آئین کے متن میں موجود رہی اور اسے 18ویں ترمیم نے ہی آئین سے نکالا، لیکن اس دوران میں اس پر کبھی عمل نہیں کیا گیا۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ دو ایک جیسے امور میں سپریم کورٹ نے دو مختلف فیصلے کیوں دیے، لیکن فی الحال اس سوال کو نظر انداز کرکے اس بات کی طرف آئیے کہ سپریم کورٹ نے ”آئین کی بنیادی ساخت“ کا جو نظریہ دیا، اس میں دیگر امور کے علاوہ آئین کی ”اسلامیت“ کا خصوصاً ذکر کیا اور قرار دیا کہ آئین کی بنیادی ساخت میں تبدیلی کا اختیار پارلیمان کے پاس نہیں ہے۔ 2023ء میں میں نے سینیٹر رضا ربانی صاحب کو 18ویں ترمیم پر خصوصی خطبے کےلیے شفاء یونیورسٹی میں بلایا تھا، تو انھوں نے کہا کہ پارلیمان آئین کی کسی شق میں بھی ترمیم کرسکتی ہے، لیکن کچھ ”بنیادی اصولوں“ کے خلاف نہیں جاسکتی۔ میرے پوچھنے پر انھوں نے ان بنیادی اصولوں میں آئین کی اسلامیت کا خصوصی ذکر کیا۔
واضح رہے کہ ”ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی بنام وفاق پاکستان (2015ء)“ میں 3 کے مقابلے میں 14 ججوں کی اکثریت نے قرار دیا تھا کہ آئین کی بنیادی ساخت یا بنیادی اصولوں کی روشنی میں سپریم کورٹ آئینی ترامیم کے جواز و عدم جواز کا فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس ضمن میں خصوصاً قراردادِ مقاصد پر انحصار کیا۔
”راجہ عامر خان بنام وفاقِ پاکستان(2023ء)“ مقدمے میں 9 ججوں کے اکثریتی فیصلے میں، جو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا، تصریح کی گئی کہ آئین اور تمام قوانین کی ایسی تعبیر کرنا لازم ہے جو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔ 6 ججوں نے فیصلے کے دیگر پہلوؤں سے اختلاف کیا، لیکن اس اصول پر کسی نے بھی اختلافی رائے نہیں دی۔ ”حمزہ رشید خان بنام الیکشن اپیلیٹ ٹربیونل (2024ء)“ میں جسٹس سید منصور علی شاہ نے بھی اس اصول کی پابندی لازمی قرار دی۔
یہ اصول تمام ججوں اور تمام وکلا کو ہر مقدمے میں یاد رہنا چاہیے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں