ابھی اہل غزہ پر صہیونیوں کے مظالم ختم ہوئے نہیں کہ صہیونی اب ایران پر چڑھ دوڑے ہیں۔ انکل سام(امریکہ) کے بیانات سے لگتا ہے کہ اس دفعہ نیتن یاہو نے اکیلے ہی یہ ایڈونچر کیا ہے اوراپنے ابو یعنی انکل سام سے بھی اجازت نہیں لی۔ جب ایک بچہ حد سے زیادہ بگڑ جائے تو وہ اپنے باپ کو کہاں اہمیت دیتا ہے!صہیونیت کے پیروکار پہلے ہی ہلے میں بہت ساری اہم بلکہ ”ٹاپ گن“ ایرانی شخصیات کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔انکل سام فی الحال (اگر) اس ”سرجیکل سٹرائیک“ میں شریک نہیں ہے تب بھی وہ اپنے لاڈلے بچے کے ہر جرم میں شریک ہی سمجھا جائے گا کیوں کہ اس کی اشیربادکے بغیرصہیونی کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ یہ وہی انکل سام ہے جو سلامتی کونسل میں اہل غزہ پر صہیونی مظالم کے خلاف لائی جانے والی ہر قرارداد کو ویٹو کردیتا ہے۔اس لیے وہ اپنے لاڈلے کے ہر جرم میں حصہ دار ہے۔
9/11کے بعد بڑی چالاکی سے مسلمانوں پر انتہاپسندی کا لیبل لگاکر انھیں دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اتنا دفاعی انداز کہ وہ اپنے مذہب اور اس کے عقائد سے اعلانیہ لاتعلق ہوتے گئے۔جہاد کی ایسی ایسی تاویلیں ہمیں کرنی پڑیں کہ ہم خود بھی کنفیوژن کا شکار ہوگئے۔ اور جنہوں نے یہ لیبل لگایا تھا وہ اپنے مذہب کے معاملے میں مکمل طور پرکمیٹڈ تھے اور ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ یہ جنگیں مذہب کے نام پرہی لڑ رہے ہیں۔ چاہے وہ اس کو دفاع کا نام دیں یا دہشت گردی کے خلاف جنگ کہیں،یہ جنگیں سراسر مذہبی پیشن گوئیوں کو پورا کرنے کی خاطر لڑی جارہی ہیں۔(مودی بھی اسی مذہبی جنونیت کا شکار ہوکر ہم پر چڑھ دوڑتا ہے۔)
امریکہ میں ایوانجلیکل چرچ ایک نہایت مؤثر قوت ہے۔ اس کی طاقت اور اثر پذیری کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ سابق امریکی صدر بش کے خاندان کا تعلق بھی مبینہ طور پر اسی چرچ سے ہے۔یہ وہی بش صاحب ہیں جن کے دور میں 9/11کا واقعہ ہوا۔ اس کا الزام مسلمانوں پر تھوپا گیا اور دہشت گردی کے خلاف بلکہ مسلمانوں کے خلاف طویل جنگ کا آغاز ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔ کرسچین ایوانجلیکل چرچ کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا ظہور تب تک نہیں ہوگاجب تک یہودیوں کو کھوئی ہوئی زمینیں (عراق تا مصر) نہیں مل جاتیں۔ جب انھیں یعنی یہودیوں کو یہ زمینیں مل جائیں گی اور وہ ان پر اپنی طاقتور حکومت قائم کرلیں گے اور ہیکل تعمیر کرلیں گے تب ہی ظہور مسیح ممکن ہوسکے گا۔ یہ اس مقصد کے لیے اسرائیل کی حمایت میں کس حد تک جارہے ہیں، اندازہ کرنابالکل بھی مشکل نہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ کیوں ہر امریکی صدر اسرائیل کو گو د میں لیے پھرتا ہے۔ دوسری وجوہات بھی ہیں لیکن مذہب کا عنصر بہت گہرا ہے۔
اب بات صہیونی ریاست کی کی جائے تو یہ مکمل طور پر ایک مذہبی ریاست ہے۔ فلسطینیوں سے چھین کر بنائی گئی اس ناجائز ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم دہشت گردی کی بدترین شکل ہیں۔ہزاروں سال بیشتر کھوجانے والے علاقوں کی بزور طاقت و بدمعاشی واپسی تاکہ ان پر صہیونی ریاست قائم کی جاسکے، ہیکل کی تعمیر ممکن بنائی جاسکے اور ایک عالمی حکومت کا قیام عمل میں لایا جاسکے تاکہ ان کے والد محترم دجال صاحب تشریف لاسکیں۔ اس مقصد کے لیے وہ ہر اس ملک یا شخصیت کو جن سے ان کو رتی برابر بھی خطرہ محسوس ہوتا ہے، امریکی حمایت سے تباہ وبرباد کردیتے ہیں۔(جاری ہے)
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں