انسان وہ مخلوق ہے جس کے رویے کے متعلق پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی۔ ننانوے سال تک اچھے و خوشگوار تعلقات کے باوجود کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ مستقبل میں بھی تعلقات کی نوعیت ایسے ہی رہے گی۔ کسی کو کسی بھی وقت معمولی و بے ضرر بات بری لگ سکتی ہے اور اکثر و ہ سخت ترین بات بھی ہنس کر برداشت کر جاتا ہے۔ آپ نے اکثر یہ فقرہ سنا ہو گا کہ ”بندے دا کوئی پتہ چلدا اے‘ کِسے وقت پَو (گھوم) سکدا اے“۔ جب بھی تعلقات میں بگاڑ آتا ہے‘ اس کے پس پردہ حسد‘ بغض‘ ٖصرف خود کو درست سمجھنا‘ بد گمانی‘ سنی سنائی باتیں اور مفروضات ہوتے ہیں۔
؎ گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے۔ (خاطر غزنوی)
صدیوں سے آپ کا گھرانہ ایک محلے میں رہ رہا ہے۔ محلے دار‘ ہمسائے آپ کے لیے اور آپ ان کے لیے بہت اچھے ہیں۔ لیکن اصل میں اچھے و برے کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب دو لوگ معاملات کی کسوٹی پر پرکھے جاتے ہیں۔ ایک فریق یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ ہم برسوں سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں اور ہمارے گھریلو تعلقات ہیں جبکہ دوسرا فریق صرف اپنے ذاتی مفادات کو سامنے رکھ کر سوچ رہا ہوتا ہے اور برسوں کے تعلق کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ ایسے رویے کو ”آنکھیں ماتھے پر رکھ لینا“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
؎ کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔ (مومن خاں مومن)
معاملات میں بھی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب بات مالی معاملات تک پہنچتی ہے۔ ایک فریق حیران ہو رہا ہوتا ہے کہ یار چند ٹکوں کی خاطر فلاں نے اتنے پرانے تعلقات کو ختم کر ڈالا۔ ایسے واقعات میں اس وقت شدت محسوس کی جاتی ہے جب ایک فریق دوسرے سے جسمانی‘ معاشی‘ سیاسی و سماجی لحاظ سے کمزور ہو۔ مولانا ابوالکلام آزاد سے ایک جملہ منسوب کیا جاتا ہے کہ ”غصہ اور قانون دونوں بڑے سمجھدار ہیں‘ کمزور کو دبا دیتے ہیں اور طاقتور سے دب جاتے ہیں“۔
؎ تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!۔ (اقبالؒ)
اسلام نے معاشرت اور معاملات پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ سورہ الحجرات معاشرت کے احکام پر مشتمل ہے‘ اس کے علاوہ بھی قرآن مجید میں معاشرت اور معاملات کے بارے تعلیمات و ہدایات بڑی تفصیل کے ساتھ موجو د ہیں۔ اسلام صرف چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جس کی بنیاد ہی عمدہ معاملات پر ہے۔زندگی صرف عبادات یا اعمال ظاہرہ کا نام نہیں بلکہ معاملات اس کا اصل آئینہ ہیں۔ ہماری گفتار‘ کردار‘ برتاؤ‘ تجارت‘ وعدہ‘ قرض‘ انصاف‘ حسنِ سلوک‘ اور انسانی رویے مل کر ہی ہمارے دین اور شخصیت کی مکمل تصویر بناتے ہیں۔
آیتِ قرآنی‘ ترجمہ: ”اور تم سب اللہ کی بندگی کرو‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ‘ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو‘ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ‘ اور پڑوسی رشتہ دار سے‘ اجنبی ہمسائے‘ پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں‘ احسان کا معاملہ رکھو‘ یقین جانواللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے“ (النساء ۴‘ 36)
خالقِ کائنات اپنے حقوق کے بارے بہت فیاض ہے اور معاف فرمانے والا ہے جبکہ بندے کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں کرتا جب تک اسے اس بندے سے معاف نہ کرایا جائے۔ اسی لیے حقوق العباد کا مسئلہ بہت سنگین و نازک ہے۔ آج ہم نے دین مبین کو صرف عبادات تک محدود کر لیا ہے اور یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ دین اسلام صرف نماز روزہ کا نام ہے۔ آج معاشرتی برائیوں کی وجہ یہی غلط نظریہ و سوچ ہے۔ اگر آج ہم نے معاشرتی مسائل کے حوالے سے اسلام کی بتائی ہوئی تعلیمات میں سے صرف ایک تعلیم پر عمل کیا تو معاشرے میں تمام برائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اسلام کی ساری معاشرتی تعلیمات کی بنیاد آپ ﷺ کے اس ارشاد مبارک پر ہے‘ مفہوم: ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں“۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں