عیدالاضحیٰ کی آمد آمد ہے۔ ہر گلی محلے میں مویشی منڈی کی خوشبو رچی بسی ہے۔ گوشت کے خواب آنکھوں میں اور باربی کیو کی مہک “ناکوں” میں سما چکی ہے۔ منڈی سے واپسی پر قربانی کے جانور کے ساتھ ساتھ ایک فاتحانہ مسکراہٹ بھی ہمراہ ہوتی ہے.
لیکن…! ذرا رکیے: کیا قربانی کا مطلب صرف جانور ذبح کرنا ہے؟
عجیب بات ہے! ہم جانور خریدتے ہیں تو پہلا سوال یہی کرتے ہیں: “بھائی! جانور تندرست ہے نا؟”
“کوئی عیب تو نہیں؟”
“کہیں کان کٹے تو نہیں؟”
“دو دانتہ ہے کہ نہیں؟”
لیکن مجال ہے جو کوئی یہ پوچھ لے کہ:
“قربانی کرنے والے کی زبان بھی سچی ہے یا نہیں؟”
یہ کہیں سود کا کاروبار تو نہیں کرتا؟
یہ کہیں حرام کی کمائی سے جانور تو نہیں خرید رہا؟
یہ کہیں ملاوٹ کے کاروبار کی کمائی سے تو جانور نہیں خرید رہا؟
کیا اس نے کبھی کسی دوست، عزیر یا رشتے دار کا مال تو نہیں مارا؟
قربانی کے جانور کا بے عیب ہونا واجب جبکہ قربانی کرنے والے کا بے حساب ہونا معمول بن چکا ہے.
جانور کی کھال پر خراش آ جائے تو عبادت میں نقص لیکن دل کسی غریب، یتیم، مسکین کے خوابوں کو چیر دے تو بھی دعائیں قبول۔ عجیب تماشہ ہے!
مویشی منڈی میں صرف جانور نہیں تولے جا رہے، ہم اپنی نیتوں کا سودا بھی چپ چاپ وہیں کر آئے ہیں۔ دل کی گہرائیوں میں ریاکاری کا کھٹا دودھ جمع ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس پر تقویٰ کی ملائی بیٹھ جائے۔
جناب! اصل قربانی وہ ہے جو انا کا گلا کاٹ دے۔ قربانی وہ ہے جو نفس کے تھان پر چڑھے غرور کے بیل کو زمین بوس کرے۔ لیکن ہمارے ہاں تو قربانی کی تیاری اس وقت ہوتی ہے جب سال بھر حرام کی کمائی سے گھر بھرتے ہیں اور پھر اس ‘حلال’ گوشت سے ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں۔
ایک صاحب کو دیکھا جو بڑے زور و شور سے جانور کے دانت چیک کر رہے تھے۔ بیچارہ بیل بھی سوچ رہا ہوگا کہ کاش میں ان سے کہہ سکتا: “جناب! آپ کے دانت تو جھوٹ بول بول کر گس گئے ہیں، پہلے وہ تو چیک کر لیں!”
اور پھر وہ تصویر کشی کا بخار! ہر جانور کے ساتھ فوٹو سیشن، ہر بکرے کو ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر شہید کر دینا۔ غرض یہ کہ جانور ذبح ہونے سے پہلے سوشل میڈیا پر مر چکا ہوتا ہے۔ “میرا بکرا، میری شان، میری قربانی، میری پہچان” کے بینر تلے ہم شاید بھول چکے ہیں کہ یہ ‘میری’ نہیں، ‘اللہ کی راہ میں’ قربانی ہے۔
قربانی کا مطلب صرف بکرے، گائے یا اونٹ کی گردن پر چھری پھیرنا نہیں۔ یہ تو ایک علامت ہے. اصل پیغام یہ ہے کہ تم اپنے اندر کی وحشت، حرص، حسد، دھوکہ، جھوٹ، فریب اور دوغلے پن پر چھری پھیرو۔
یاد رکھیے! جس کا رزق حرام ہو، نیت ریاکاری سے لبریز ہو، زبان جھوٹ سے آلودہ ہو اور دل خودغرضی سے سیاہ ہو، اُس کی قربانی صرف ایک قصائی کا کام بن کر رہ جاتی ہے، عبادت نہیں۔ جناب! اگر قربانی کی تیاری کرنی ہے تو بکرے کے ساتھ ساتھ ذرا اپنی نیت، رویّے، حسن معاملات، طرزِ معاش اور ناپ تول کو بھی تو چیک کیجیے۔ ہو سکتا ہے آپ کا دل، آپکی سوچ آپ کے جانور سے زیادہ عیب دار ہو۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں