فائنل ائیر ایم بی بی ایس کی باتیں ۔۔۔محمد شافع صابر

“ڈاکٹر  صاحب! میرے پیٹ میں درد ہے، کوئی دوائی دے دیں، جی،جی۔۔۔وہ۔۔ میں چھوٹا ڈاکٹر ہوں، بڑے ڈاٹر  صاحب آئیں گے تو وہ آپ کو دوائی  دیں گے” یہ عام سا فقرہ روزانہ وارڈ میں سننے کو ملتا ہے۔۔لیکن یہ چھوٹے ڈاکٹر ہیں کون؟؟
لٹمین کے علاوہ کوئی اور stethoscope لیں گے نہیں، لیکن مجال ہے کبھی اس سے auscultation کی ہو۔وہ تو رکھی ہے صرف سلیفی لینے کے لئے ۔۔
اس دنیا میں ایک ایسی مخلوق پائی  جاتی ہے، جو وائٹ کوٹ پہنے، لٹمین کندھوں پہ لٹکائے، اک خاص ادا سے چشمہ لگائے، ہسپتال اور وارڈ میں ایسے گھومتے ہیں جیسے ان سے بڑا سرجن اور فزیشن  آج تک پیدا نہیں ہوا، لیکن جیسے ہی ہسٹری لینے کی باری آتی ہے تو ایسے دوڑ لگاتے ہیں جیسے گائنی ٹیسٹ میں پوزیشن لے لی ہو۔

تو یہ مخلوق، جو اپنے  آپ کو چھوٹا ڈاکٹر  کہتی ہے اصل میں ہے فائنل ائیر ایم بی بی ایس۔۔ جو ہاؤس آفسیر اور سٹوڈنٹ لائف کے درمیان سینڈوچ بنے ہوتے ہیں ۔
اگر کوئی  مریض جو انہیں کبھی ڈاکٹر صاحب کہہ دے تو ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے آسکر مل گیا ہو، اور اگلے ہی لمحے وہی مریض ان سے پوچھ لے ڈاکٹر  صاحب مجھے مسئلہ کیا ہے تو ایسا منہ بناتے ہیں جیسے بریانی کھاتے ہوئے منہ میں الائچی آ گئی ہو۔

سر نے پوچھا wheeze کیا ہوتا ہے، جواب آیا سر! patient سیٹیاں مارتا ہے۔۔ بندہ ایسی سادگی پہ فدا نہ  ہو تو کیا ہو؟

ابھی کل کی بات ہے، ایک ڈاکٹر صاحبہ (جو ماشاء اللہ فائنل ایئر کی سٹوڈنٹ ہیں اور اپنے آپ کو ابھی سے کنسلٹنٹ سمجھتی ہیں) ہسڑی لینے گئیں، پوچھا  آپ کے کتنے بچے ہیں، جواب آیا چار۔۔ اور پھر پوچھا”اچھا،  آپ کی شادی ہوئی ہے” مریض حیران، پریشان ۔۔یہ ہو کیا رہا ہے؟ تو ساتھ کھڑے پروفیسر صاحب بولے۔۔ ڈاکٹر صاحبہ آپ کا کالج مرضی پورہ  میں ہے، پیرس میں نہیں ،لیکن ان کا ایسا confidence بولیں، سر! غلطی بھی انسان سے ہی ہوتی ہے، ایسی سادگی پہ پورا iuh قربان جائے۔

ایک اور سرجن صاحب، جو کہ ماشاء اللہ ot dress پہن کر یوں سلیفیاں ڈالتے ہیں جیسے frcs پاس ہوں، کل ot گئے، کہنے لگے  سر! آج میں نے assist کروانا ہے، سر نے پوچھا liver کس سائیڈ پہ ہوتا ہے۔۔ سنیہ چھوڑا کر کے بولے! سر Left پہ، آگے سر کی  پُراسرار خاموشی دیکھ کر دبے پاؤں باہر نکل گئے ۔

ہسٹری لینی  آئے یا نہ  آئے، examination آتا ہو یا نہ، medical kit ہو یا نہ ہو، لیکن لٹمین لازمی لٹکایا ہو گا، پوچھا اس کی کیا وجہ آگے سے جواب آیا “atleast! U should look like a doctor ”
ہر پروفیسرسے ، ہر وارڈ میں جتنی مرضی بےعزتی ہو، مجال ہے جو کبھی محسوس  کی ہو، لیکن باہر جا کر لازمی کہیں گے، آج تو وارڈ میں بہت شاباش ملی،   اپنے سے جونیئرز کو کہیں گے کہ ہم تمہارے سینئر ہیں جو ہم نے کہا وہ حرف آخر ہے۔

ڈاکٹرز کی غیر موجودگی میں خود کو وارڈ کا ہیڈ سمجھیں گے، Ward boys پہ حکم چلائیں گے، لیکن جیسے ہی پروفیسر صاحب وارڈ میں داخل ہوئے یہ غائب۔۔
کيونکہ کالج کی سب سےسینئر موسٹ کلاس ہے، سب ڈاکٹر  صاحب کہہ کہ بلاتے ہیں، لیکن کبھی کبھی یہ عزت بھی راس نہیں آتی، وہاں ایسے ایسے  blunders ماریں گے کہ اللہ کی پناہ۔

لیکن انکے بنا کسی بھی کالج میں رونق کہاں؟ یہ نہ ہوں تو ہر سال نئے HO’S کہاں سے آئیں؟ patients کی ہسٹری کون لے؟ کون انکا examination کرے؟؟ اگر یہ نہ ہوں تو وارڈ میں بے عزتی کس کی ہو؟؟

فائنل ائیر اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ یہ سٹوڈنٹ لائف کا آخری سال ہے، اس سال کی گئی شرارتیں، غلطیاں، دوبارہ کیسے ہوں گی؟ پانچ سال جن کے ساتھ اکھٹے گزاریں ہوں انکے بنا چھٹا سال کیسے گزرے گا؟؟

فائنل ائیر تو دل کے پاس اس لئے بھی ہے کہ پتا نہیں دوبارہ کب کہاں اکھٹے ہوں؟ کلاس لیکچر، پروکسی، ٹیسٹ، ہسڑیاں، examination ، یہ سب تو چار سال چلتے ہیں، مگر فائنل ائیر میں یہ اس لئے بھی اچھے لگتے ہیں کہ کالج لائف کا آخری سال ہے۔۔

تو فائنل ائیر کے چھوٹے ڈاکٹروں، کھیلو، وارڈ جاؤ، بے عزتی کراوؤں، شاباش لو، ward پارٹی کرو، پڑھو۔۔ لڑوں۔ مسکراؤں، HO بننے کی تیاری کرو۔۔ اور کالج لائف کا آخری سال اس طرح گزاروں ۔۔ کہ اسکا حق ادا ہو جائے۔

“یہ فائنل ائیر میری زندگی کی سب سے نالائق کلاس ہے، انکو examination بھی کرنا نہیں آتا، انکی تھڑڈ ائیر کے ساتھ کلاس لی جائے”

Avatar
محمد شافع صابر
مضمون نگار یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور میں، فائنل ائیر ایم بی بی ایس کے طالب علم ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *