تمھاری موت کو اس وقت آنکھوں سے دیکھا جب میں خود نیستی (nothingness) کے عارضے کا شکار تھا. ایک بغل میں کیمو اور دوسرے میں نطشے اور سارتر کی عدمیت کا بسیرا ہوا کرتا تھا. کیمو نے پہلے سے ہی کہا تھا کہ ابزرڈٹی کا تریاق دو چیزیں ہیں: موت اور امید. اس نے بارہا خبردار کیا تھا کہ موت کی ابتدا اس وقت ہوتی ہے جب تم شدت سے ابزرڈٹی کو محسوس کرنا شروع کردو. وہ جانتا تھا کہ موت تک پہنچنا ایک لمبا سفر ہے. موت کا یہ سفر بہت تھکا دینے والا ہے. اس پرتھکن سفر کا بوجھ اپنے بازوؤں پر لاد کر لے جانا آسان کام ہرگز نہیں ہے. بنی آدم کا بڑا جسم اس گراں بوجھ کا کبھی متحمل نہیں ہوسکتا اسی لیے ہم سب بہ خوشی اور اطمینان نیستی کا یہ راستہ اپناتے ہیں.
سوچتا ہوں کہ آدم کا بیٹا اپنی ہم نفسوں سے کتنی محبت کرتا ہے، انھیں بیچ آدھے رستے میں چھوڑ کر نیستی کی راہ لینا کتنا تلخ ہوتا ہے؛ عدمیت کے خاردار راہیں نیستی کے منزل کو کتنا دلکش بناتے ہیں کہ انسان چاہتے ہوئے بھی خود کو کیمو کے دیے گئے جھوٹی امید سے آزاد کرکے سچی ناامیدی کو اپنا لیتا ہے. انسان کی ایسی سوچ اس کے قد آور شبیہہ سے زیادہ، مزید زیادہ قد آور ہے.
سارتر مطلق آزادی کا قائل تھا. مجھے اچھی طرح پتہ تھا کہ تم بھی سارتر کی طرح مطلق آزادی کے قائل تھے. لیکن افسوس، یہ آزادی نہ تم حاصل کرسکے اور نہ سارتر. آزادی کے خواہش سے آزاد ہونا ہی تو حقیقی معنوں میں آزادی ہے. پرچارک بھلا کب ایسی حقیقی زندگی جیتے ہیں. مگر یہ حقیقت جیے جانے کے دوران تم سمیت ہم سب پر اس حال میں منکشف کبھی نہیں ہوتی.
میں اپنی جہالت کی مطلق حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہوں. سقراط کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کچھ نہیں جانتا کے برعکس میں صرف جہالتِ مطلق کے متعلق صرف آگاہی رکھتا ہوں، جانتا نہیں کیونکہ جاننا دعویٰ ہے، بہت بڑا دعویٰ؛ اور میں کسی بھی دعوے سے خود کو آزاد کرنا چاہتا ہوں. اس طرز پر جس طرز پر تم نے کیا. دعویٰ کرنا جاننا ہی ہے اور دستووسکی کے بقول جاننا عذاب ہے اور میں جیتے جی اور عذاب سہنا نہیں چاہتا. سارتر جیسا یہ عذاب کیا کم ہے جب وہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ ”میں نے زندگی گزارنے کے تمام بہانے کھو دیے ہیں — کتاب ختم ہوئی ، محبوبہ چلی گئی. کیا میں اب آزاد ہوں؟“
تمھاری وداع لینے کے بعد ایک لحظہ بھی ایسا نہیں گزرا کہ ان وجودیت پسندوں کو اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا ہو کیونکہ انہوں نے جیے جانے کے عذاب کو کبھی کم نہ کیا بلکہ اپنے کلامی نقوش میرے وجود کے قرطاس پر مزید گہرے کر دیے. تاہم، تمھیں اور سِسی فس کو ازلی بیڑیوں سے آزادی مبارک ہو، تم دونوں کا اقبال بلند ہو۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں