مسٹر جمال نے بالوں میں دائیں بائیں برش پھیرا۔ برش نیچے رکھ کر انگلیوں کی کنگھی سے مانگ درست کی۔ ٹائی کو نیچے سے ہلکا سا کھینچ کر اور انگلیوں سے کالر کے عین درمیان لاکر گرہ درست کی، قمیض کا جائزہ لیا، ایک دو جگہ سے مزید اڑس کر بیلٹ کے بکل کو چیک کیا، جوتوں پر ایک نظر ڈالی جو کچھ دیر پہلے ملازم نے چمکائے تھے۔ ہینگر سے کوٹ نکال کر پہنا۔ آئینے پر ایک نظر ڈالی اور ڈائننگ ٹیبل کی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے اور اخبار سامنے پھیلا لیا ۔ شریف نے کافی کا مگ سامنے لاکر رکھ دیا۔ کافی کا ایک گھونٹ بھر کر ایک نظر بیڈ روم کی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی مسز جمال پر ڈالی اور اخبار کی سرخیوں پر نظر دوڑانے لگے۔
مسز جمال بہت دیر سے وگ میں پنوں سے لڑ رہی تھیں۔ وگ سر پر جما کر اب آنکھوں پر توجہ تھی۔ ابروؤں کو ہائی لائٹر سے کٹاری نما بنایا، پلکوں پر آئی شیڈ کی تھڑی جمائی آنکھوں کے گوشوں کو آئی لائنر سے سنوارا، رخساروں پر یکے بعد دیگرے کریم، پاؤڈر رگڑ کر ملا، چہرے کی جھریوں کی پاؤڈر اور فاؤنڈیشن سے بھرائی کی ، بعد ازاں مسکارا اور بلش کی تہہ جمائی۔ لبوں کو ایک دوسرے سے رگڑ کر خشک کیا۔ بڑی نفاست سے لپ اسٹک لگائی اور اب لپ گلوس سے اسے محفوظ کیا ۔ایک دوبار ہلکا سا دونوں ہونٹوں کو ایک دوسرے پر رگڑا۔ کنج لب سے فاضل سرخی کو انگلی سے صاف کیا۔ ہاتھوں کی نیل پالش پر نظر ڈالی، نئی گھڑی پہنی جو پرسوں ہی مسٹر جمال دوبئی سے لائے تھے۔ دوسرے ہاتھ میں پڑے بریسلیٹ کو دیکھا، گلے کے لاکٹ کو بغور دیکھا۔بلاؤز نیچے کھینچ کر پیٹ کی تہوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کے بعد ساڑھی کے پلو سے ڈھانک دیا۔ آئینے کے سامنے گھوم پھر کر اپنا جائزہ لیا۔ شو ریک سے تین چار سینڈلوں کی جوڑی کو ساڑھی سے ملاکر ایک جوڑی منتخب کی۔ سائیڈ ٹیبل سے پرس اٹھایا اور بیڈ روم سے باہر چل دیں۔
مسٹر جمال نے مسز کو آتے دیکھ کر اخبار ایک جانب رکھا۔
“ چلیں ؟”
“جی” کہہ کر مسز جمال بھی پورچ کی جانب بڑھیں۔ شریف کو دوتین ہدایات دیں۔ پرس سے سیاہ چشمہ نکال کر آنکھوں پر جمایا اور کار کی اگلی سیٹ پر مسٹر جمال کے ساتھ بیٹھ گئیں۔ آج انہیں لیڈیز کلب کے ماہانہ اجلاس میں جانا تھا جس کی وہ صدارت کررہی تھیں۔ مسٹر جمال انہیں کلب چھوڑ کر دفتر جانے والے تھے۔ ڈرائیور کو گھر پر چھوڑا تھا جو دوسری گاڑی میں بے بی کو کالج لے جانے والا تھا۔
ایک یہ مسز جمال تھیں ایک ہماری اماں تھیں، آپا تھیں ، بوا تھیں جن کا ہار سنگھار، مانگ پٹی صرف نہانے کے بعد بال سنوارنا اور دھلا ہوا جوڑا پہننا ہوتا تھا۔ گھر میں ڈریسنگ ٹیبل نام کی کوئی چیز نہیں تھی البتہ بڑے کمرے کی ایک دیوار پر لکڑی کا چھوٹا سا بریکٹ تھا جس پر دستی شیشہ، کنگھی، خوشبودار تیل کی شیشی اور سرمہ دانی رکھی ہوئی تھی۔ سرخی پاؤڈر وغیرہ نے اب تک گھر کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ ہاں تبت پاؤڈر آتا تھا جسے بہت احتیاط سے الگ اور ایسی جگہ رکھا تھا جہاں ہم بچوں کے ہاتھ نہ پہنچیں۔ یہ پاؤڈر گرمی دانے دور کرنے کے لئے ہماری پیٹھ اور سینے پر ملا جاتا۔ کبھی کبھار تبت سنو بھی آتی جو پتہ نہیں کس چیز کا علاج تھی۔ سردیوں میں ویسلین کی شیشی آتی جسے پوری سردی میں چلایا جاتا۔
شہر میں رہنے والے کچھ رشتہ دار جو ذرا اچھے حالوں میں تھے ان کے ہاں پونڈز کریم اور پاؤڈر کی مسحور کن خوشبو سونگھنے ملتی۔ ان کی سنگھار میر پر میکس فیکٹر، الزبتھ آرڈن وغیرہ کی مصنوعات بھی نظر آتیں جن کا استعمال ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔
لیکن بھئی سچی بات تو یہ ہے کہ مسز جمال ہوں یا ہماری اماں اور بوا یا شہر والی ہماری رشتہ دار۔ عورت کوئی بھی ہو، بننا سنورنا، سجنا، سولہ سنگھار کرنا، خوبصورت اور دیدہ زیب نظر آنا اس کا فطری حق ہے ۔ عورت خالق کی حسین ترین تخلیق ہے اور اس کے حسن میں اضافے سے کائنات کا حسن دو چند ہوجاتا ہے۔
مجھے نہیں علم نہ آپ جانتے ہوں گے کہ عورت کب سے بننے سنورنے اور سولہ سنگھار کی شوقین ہوئی اور یہ کہ کیا واقعی یہ صرف سولہ سنگھار ہی ہے۔ یہ پندرہ ، بیس پچیس یا دس بارہ بھی ہوسکتا ہے۔ جتنی جس صورت کو جیسی ضرورت ہو۔ کسی کسی کی صورت کسی سجاوٹ کی محتاج نہیں ہوتی، روئے دل آرام را حاجت مشاطہ نیست۔۔تو کہیں کسی چہرے پر ذرا سے بناؤ سنگھار سے چار چاند لگ جاتے ہیں تو کوئی سر سے پاؤں تلک اس سنگھار کی بدولت موج نور بن جاتی ہے۔
سولہ سنگھار اور سجنے سنورنے کی تاریخ نہ تو کسی کو معلوم ہوگی نہ اس کی ضرورت ہے البتہ جب پہلی بار کسی نے کسی کو پیار بھری نظروں سے دیکھا ہوگا تو یقیناً اس کے دل میں مزید دل پذیر ہونے کی خواہش جاگی ہوگی۔ یا کوئی کسی کی نگاہ التفات کی ملتجی ہوگی تو اس نے اپنے چہرے سے گرد ہٹائی ہوگی، بالوں کو ترتیب سے بنایا ہوگا، چہرے پر مسکراہٹ سجائی ہوگی۔ تو ثابت یہ ہوا کہ جب کسی نے کسی سے محبت کی ہوگی یا محبت چاہی ہوگی تو اس بناؤ سنگھار کا آغاز ہوا ہوگا۔ بہرحال کچھ ٹھیک سے نہیں کہہ سکتے لیکن اگر اسی طرح سمجھ لیا جائے تو کیا حرج ہے۔
لیکن یہ ضرور ہے کہ اس کی تاریخ ہے بہت پرانی۔ فرعون کی چہیتی اور طاقتور ملکہ نفرتیتی کے مجسمے اس کے گواہ ہیں تو تاریخ قلوپطرہ کے حسن و جمال کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے اور قلوپطرہ کا نرا قدرتی حسن نہیں تھا اس میں کچھ ہاتھ بناؤ سنگھار کا بھی تھا۔ یونانی داستانوں میں ہیلن آف ٹرائے کے قصے آج بھی کل کی بات لگتے ہیں تو دوسری طرف “ یہ لوگ کیک کیوں نہیں کھاتے” کی شہرت یافتہ ملکہ میری انطونی اپنی بے حسی کے ساتھ حسن بے پرواہ کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔
قلوپطرہ سے لے کر ہمارے زمانے میں قلوپطرہ کا کردار ادا کرنے والی ایلزیبتھ ٹیلر ہو یا آسٹریا کی حسین ملکہ ایلزبتھ ہو، یا میری پسندیدہ آڈری ہیپبرن ہو، صدر کینیڈی اور لاکھوں لوگوں کو اپنا پرستار بنانے والی مارلن منرو ہو، یہ اپنی مدھو بالا ہو یا آج کی بچی مادھوری ڈکشٹ ہو یہ سب اس سولہ سنگھار کی محتاج رہی ہیں اور اسی سنگھار نے انہیں لاکھوں کروڑوں کے سپنوں کی رانی بنایا ہے۔
بناؤ سنگھار تو اب ایک بے حدمنافع بخش صنعت بن گیا ہے لیکن ایک دور وہ بھی تھا کہ یہ کام صرف گھریلو عورتیں ، ان کی سکھیاں سہیلیاں، شہزادیوں ، رانیوں اور ملکاؤں کی کنیزیں، خواصیں اور مغلانیاں سر انجام دیتی تھیں ۔ سر سے پاؤں تک ہر سنگھار ایک علم دریاؤ تھا۔ ہر چیز کی ایک سائنس ہے۔
اپنے ہاں زمانہ قدیم سے صندل اور ابٹن ، مِسّی ، کاجل ،سیندور، لالی ، سرخی، اور زیورات ، چوڑیاں، پائل گھنگھرو، جھمکے اور نجانے کیا کچھ گیتوں، غزلوں اور شاعری کی جان ہیں ۔ بچپن میں چھ ماہ مجھے ہندوستان میں رہنے کا موقع ملا۔ ہم ایک قصبے میں رہتے تھے جہاں ایک چھوٹی سی مارکیٹ تھی۔ یہاں سبزی ترکاری اور پھل وغیرہ تو ملتے ہی تھی۔ اس کا ایک گوشہ بیلا، موگرا اور چنبیلی کی خوشبو سے مہکتا تھا۔ یہاں بیلا اور موتیا کے گجرے اور ہار بکا کرتے تھے۔ وہی گجرے جن کی مہکار سے ساجن کے من کی دھڑکنیں بہک جاتی ہیں اور رات اپنا گھونگھٹ اتار دیتی ہے۔
ماتھے پر جھومر یا ٹیکا تو شاید صرف خاص موقعوں پر ہی سجایا جاتا ہے لیکن بالوں کو مختلف انداز سے بنانا اور جوڑے میں گجرا یا پھول سجانا البتہ کسی کو ضرور اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ آنکھوں میں کاجل اور سرمہ ابروؤں کی کٹار کو آبدار بنانا، یہ بھی دل داری کی نشانیاں ہیں۔ کانوں میں جو چیز ہوتی ہے اس کے اللہ جانے کتنے نام ہیں۔ بندا، جھمکے، بالی ، چمپا کلی، کلی، آویزہ، کرن پھول ۔۔اور کتنے گیت ہیں ، جھمکا گرا رے بریلی کے بازار میں۔مورا بالا چندا کا جیسے ہالا رے۔
اور پھر سب سے غضبناک، یعنی ناک کی نتھ ، نتھلی، لونگ، مجھے شاید سارے سنگھار میں سب سے متاثر کن یہ نتھلی ہی لگتی ہے۔ چہرے کے حسن میں یہ ایک عجیب سا سحر بھر دیتی ہے۔ آپ نے شاید کبھی مناڈے کا گیت سنا ہو۔۔سجنی، نتھلی سے ٹوٹا موتی رے یا پھر اپنی مسرت نذیر کا” میرا لونگ گواچا” ۔
ہونٹوں کی لالی پر تو کچھ کہنا ہی بے کار ہے کہ ان سرخ پنکھڑیوں کو دیکھ کر کیا کیا نہ خیال دل ناتواں پر گذر جاتے ہیں۔شاعروں کے دیوان اس کی قصیدہ گوئی میں بھرے ہوئے ہیں۔ زندگی میں اسکول میں میر کی جو پہلی غزل پڑھی “ ناز کی اس کے لب کی کیا کہئیے۔ پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے۔”۔ یہ میر صاحب نے نوعمری سے ہی کس کام پر لگادیا تھا۔
حسین رخساروں پر غازہ اور ہلکی سی سرخی انہیں مزید دہکا دیتی ہےاور کجرے کی دھار، ہونٹوں پہ لالی اور گالوں کی سرخی دل عاشقاں میں طوفان بپا کردیتے ہیں۔ یہ سب کم نہیں ہے تو گلے کا ہار، ست لڑا، زنجیر ( چین)،ہنسلی، گلوبند، مالا، منگل سوتر، کالی پوت، نو لکھا اور جنے کیا کچھ ہے قتل عاشقاں کے لئے۔ پھر ہاتھوں کی شمعوں میں چوڑیاں اور کنگن تو ہاتھوں میں مہندی اور اس کی سگند، انگلیوں میں انگوٹھیاں (، ہائے میری انگوٹھیاں )۔
ایک اور چیز ہوتی ہے جو مجھے ٹھیک سے علم نہیں کہ کیا ہوتی ہے، وہ ہے بازو بند جسے باجو بند کہنے میں زیادہ لطف آتا ہے کہ استاد بڑے غلام علی کی ٹھمری میں ، باجو بند کھل کھل جائے “ ہی گایا گیا ہے۔ باجو بند کھلنے میں کیا رمز ہے یہ بازو بند دیکھنے سے ہی سمجھ میں آئے گا۔ البتہ امام ضامن نما بازو بند بہت دیکھے لیکن اس کے کھل کھل جانے پر گیت نجانے کیوں بنایا گیا ہے۔
بازو بند سے ایک اور بند یعنی کمر بند بھی یاد آیا جسے سولہ سنگھار کا حصہ جانا جاتا ہے۔ اب یہ کمر بند کیا ہے مجھے ہرگز ہرگز علم نہیں۔ اگر یہ ازار بند ہی کا دوسرا نام ہے تو بھلا اس میں ایسی کیا بات ہے کہ شاعر فکرمند ہوجاتے ہیں کہ “ کمر بند نجانے کہاں باندھتے ہیں “ ۔ یہ شاید وہی کمر بند ہو جو ہمارے ایک مشہور مولانا کی بوتیک میں پانچ ہزار میں ملتا ہے۔
ازار بند تو پھر بھی ایک ضرورت کی چیز ہے جسے ملک پنجاب میں ناڑا یا نالہ کہا جاتا ہے۔ غالب کے ہاں نالہ “ بوئے گل نالہ دل” کوئی اور چیز ہے۔ اقبال بھی بلبل کے نالے ہمہ تن گوش ہوکر سنا کرتے تھے لیکن چچا غالب کے “کرانچی بندر” والے عجیب بدذوق ہیں۔ان کے ہاں نالوں سے علاقوں اور راستوں کا تعین ہوتا ہے۔ بڑا نالہ، چھوٹا نالہ، گندہ نالا ، گجرو نالہ وغیرہ وغیرہ
بات کمر بند سے نکلی اور گجرو نالے تک پہنچ گئی۔ ہم بات کررہے تھے ہار سنگھار کی۔ کمر سے نیچے یعنی پاؤں کی جانب آئیں تو یہاں پازیب، پائل، گھنگھرو اور بچھیا یا بچھو عاشقوں کے دلوں اور شاعروں پر غضب ڈھانے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ پائل اور گھنگھرو پر تو نجانے کتنے ہی گیت ہیں۔ ماہر القادری کی نظم “ جمنا کا کنارہ” میں پہلی بار بچھوؤں کے بارے میں پڑھا “ پیروں کے تلوں کو، کبھی بچھوؤں کو گھمایا”۔۔
یہ سب کل ہار سنگھار ہرگز نہیں۔ اور بھی بہت سی چیزیں ہونگی۔ میں نے تو ان میں سے آدھی بھی نہیں دیکھیں ۔ بس گیتوں اور گانوں میں سنتے رہتے ہیں ، بندیا چمکے گی، چھنکے پائلیا، تیرا جھمکا رے، تیری بندیا رے۔۔وغیرہ وغیرہ۔
حسن و جمال قدرت کا عطیہ ہیں۔ انہیں سنوارنا سجانا حسینوں کا حق ہے۔ لیکن بہت زیادہ بناوٹ اور سجاوٹ اکثر گراں بھی گذرتے ہیں۔ خصوصا اگر اس کے ساتھ شرافت اور شائستگی نہ ہو۔ تمام چہرے اللہ کے بنائے ہوئے ہیں اور ان میں سب سے حسین چہرے وہ ہیں جو حسن اخلاق سے سجے ہوتے ہیں اور سب سے بڑا سنگھار چہرے پر سجی محبت بھری، شفیق اور دل آویز مسکراہٹ ہے۔بتائیے ہے کہ نہیں ؟
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں