شکر ادا کرنے والا اِس اَمر کا اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنے حاصل کو نعمت سمجھتا ہے، اپنے زورِ بازو کا نتیجہ نہیں۔ وہ اپنے حاصل کو اپنے استحقاق سے وَرا جانتا ہے۔ متشکر — متکبر نہیں ہوتا— متواضع ہوتا ہے۔
سجدۂ شکر — سجدۂ معرفت ہے۔ شاکر —نعمت سے منعم کی طرف رجوع کرنے والا انسان ہوتا ہے۔ شکر ایمان کے کتنا قریب ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن میں ”شکر“ کا متضاد لفظ ”کفر“ استعمال ہوا ہے۔ یہیں سےشکرانِ نعمت اور کفرانِ نعمت کی تراکیب اخذ کی گئی ہیں۔ کفر کے معنی ”ڈھانپ“ لینے کے ہیں۔ جب کوئی شکر سے منہ موڑتا ہے تو وہ نعمت اور منعم کے تعلق کو اپنے انکار کے سبب ڈھانپ لیتا ہے۔ کلمۂ شکر دراصل کلمۂ ایمان بھی ہے۔ کلمۂ شکر اَدا کرنے والا اپنی نعمتوں کے گرد حفاظتی حصار کھینچتا ہے۔ شکر نعمتوں میں اضافے کی تدبیر بھی ہے۔ حکمِ ربی ہے: وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ—”اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے“۔ گویا شکر پر نعمتوں کا افزودہ ہونا ایک فطری اصول بنا دیا گیاہے؛ اور منعم سے منہ موڑنا — اپنی نعمتوں کو کسی استحقاق اور استعداد کا نتیجہ جاننا— رب کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ جو اپنے حاصل کو اپنی کوشش کا نتیجہ سمجھتا ہے، اسے سبب اور نتیجے کے بے رحم کلیے کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔
شکر کے بعد احساسِ شکر بھی ایک نعمت ہے۔ یہ دولتِ ایمان کی طرح بندے پر اس کے رب کےخاص فضل کی داستان ہے۔احساسِ شکر بندے کو فطرت اور قوانینِ فطرت سے آگے نکل کر فاطر ذات سے متعلق کردیتا ہے۔ احساسِ شکر ایک اندازِ فکر ہے۔ یہ ایک صحتمند اور توانا فکر ہے۔ اس کے برعکس ناشکرگزاری اور گلہ گزاری ایک بیمار اور لاغر فکر ہے۔ انسان— جو ہے، اسے بھول جاتا ہےا ور جو نہیں ہے، اس کی فکر میں دبلا ہوا جاتا ہے۔
زندگی پہلے سانس سے لے آخری سانس تک نعمت در نعمت سے عبارت ہے۔ ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا عبادت ہے۔ اپنی زندگی پر شکوہ کناں سے اگر پوچھا جائے کہ تمہارا کیا استحقاق تھا کہ تمہیں پیدا کیا جاتا؟ تو وہ اس کے جواب میں آئیں بائیں شائیں کرنے لگے گا۔ اسے چاہیے کہ کم از کم اس زبان ہی کا شکر ادا کرلے جس زبان سے وہ شکوہ شکائت کر رہا رہے۔ شکر ادا کرنا محض زبانی کلامی بات نہیں بلکہ ایک عملی نصاب ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ نے کیا خوب فرمایا ہے: ”نعمت کا شکر، یہ ہے کہ اسے اُن کی خدمت میں صرف کیا جائے جن کے پاس وہ نعمت نہیں“۔
تقابل — تفاخر پیدا کرتا ہےیا احساسِ محرومی! تقابل بہر طور احساسِ شکر کو مفلوج کر دیتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ انسان جب باہر کی دنیا میں نظر دوڑاتا ہے تو وہ کیا دیکھتا ہے— کیا وہ یہ دیکھتا ہے کہ کون سے انسان ہیں جو اس سے بڑھ کر نعمتوں میں گھرے ہوئے ہیں، یا وہ یہ دیکھ رہا کہ وہ کون ہیں جو محرومِ نعمت ہیں۔ اگر وہ اپنے سے زیادہ وسعت والے لوگوں کے ساتھ اپنا تقابل کرے گا، تو خود کو نعمتوں سے محروم پائے گا۔ اگر وہ محرومِ نعمت لوگوں کو دیکھے گا تو خود کو نعمت یافتہ پائے گا۔ جب وہ خود کو نعمت یافتہ پائے تو لازم ہے کہ محرومِ نعمت کی خدمت پر مامور ہو جائے، تا آن کہ کسی تفاخر میں مبتلا ہونے سے بچ جائے۔ شکر عجز پیدا کرتا ہے۔ عجز— بلندی کا زینہ ہے۔ تفاخر ، تکبر، بڑا بول— سفرِِ معکوس ہے۔
نعمت کا شکر ادا کرنے کا ایک عملی طریق یہ بھی ہے کہ انسان حاصل ہونے والی نعمت کو منعم کی منشاء کے مطابق استعمال کرے۔ وہ اس نعمت سے ان راستوں پر نہ چلے جن پر ضالین اور مغضوبین چل رہے ہیں۔ اگر دولت ملی ہے تو دولت کو راہِ تعیش میں خرچ نہ کیا جائے۔ دولت کو اپنی نمائش اورستائش کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ دولت کے بل پر اسے معاشرے میں جو طاقت ملی ہے، اُس طاقت کے اظہار سے کمزور لوگوں کی توہین کا سامان نہ کیا جائے۔ دولت ایک مادّی طاقت ہے۔ مادّی طاقت کو اخلاقی طاقت کے سامنے سرنگوں رکھا جائے۔ ایک مہذب معاشرے کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہاں کمزور سربلند ہوتا ہے—اور طاقتور سرنگوں رہتا ہے۔
نعمت کا ایک شکر، یہ بھی ہے کہ اُس نعمت کے حاسد کو برداشت کیا جائے۔ اپنے حاسد کا گلہ نہ کیا جائے، لوگوں میں اس کی شکائت نہ لگائی جائے۔ حاسد اپنے چہرے کے تاثرات اور لفظوں کے انتخاب سے صاف پہچانا جاتا ہے۔ طنزیہ گفتگو— حاسد کا طرۂ امتیاز اور پُرطعن جملے اس کے تکیہ کلام میں شامل ہوتے ہیں— اس پر صبر، شکر ہے۔
شاکر نعمت یافتہ ہوتا ہے —اور صابر انعام یافتہ ۔ نعمت یافتگان اور انعام یافتگان میں فرق ہے۔ یہی فرق بتانے کے لیے صابرین کو آزمائش کی بھٹی سے گزارا جاتا ہے۔ صابرین کو اپنی خصوصی معیت کی خلعت دینے کے لیے آزمائش میں ڈالا جاتا ہے۔ انہیں باقی خلقت سے جدا اور ورأ کرنے کے لیےچار قسم کی بھٹیوں سے گزارا جاتا ہے، تاکہ وہ کندن ہو جائیں۔ وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ—خوف، بھوک، جان و مال اور ثمر( محنت کی کمائی) کاضائع ہوجانا— انہیں مایوس نہیں کرتا— اپنے رب سے دور نہیں کرتا۔وہ نعمتوں کے چھن جانے کے بعد بھی اعلان کرتے ہیں کہ ہم اسی کی طرف سے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ جو اُس کی طرف سے ہو، اُسے اِس طرف کے لوگ کس طرح پہچان پائیں گے! نعمتوں کے زوال کے بعد بھی اُن کا تعلق لازوال ہوتا ہے۔ نعمتوں کے متعلق سوال ہوگا۔ انعام کے بارے میں کوئی سوال نہیں ہوتا— انعام خود لاجواب ہوتا ہے۔نعمتوں کا حساب ہوگا، ان کے درست یا صحیح استعمال کا جواب دینا ہوگا— انعام کا کوئی جواب نہیں۔ اِنعام جسے مل گیا، سو مل گیا۔
صابرین — اُس کی معیت میں ہوتے ہیں— ان کی معیت ہمہ حال ہے۔ وہ خدا کے ساتھ ہیں اور خدا اُن کے ساتھ ساتھ۔ وہ اپنی جان پر کچھ اُدھار نہیں رکھتے— فطرت خود اِن کی احسان مند ہوتی ہے۔ اِن کی آزمائش، اِ ن کی آزمائش تو ہوتی ہی ہے، ان سے متعلقین بھی ان کے متعلق آزمائش میں آ جاتے ہیں۔ بہرطور صابرین دائرہِ معیت میں ہیں۔ دائرہِ معیت — تقرب سے ورأ ہے۔ یہ انتہائی قریب کے لوگ ہیں— انہیں مزید قریب کرلیا جاتا ہے۔ صابرین کے لیے بشارت ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں