آنکھوں کا ٹیڑھا پن (Squint Eyes)-ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

آنکھوں کا ٹیڑھا پن، جسے طب کی زبان میں سکوئنٹ (Squint) یا اسٹرابِزمَس (Strabismus) کہا جاتا ہے، ایک عام چشمہ مرض ہے جس میں دونوں آنکھیں ایک سیدھ میں نہیں ہوتیں۔ اس حالت میں ایک آنکھ سیدھی دیکھتی ہے جبکہ دوسری آنکھ اندر، باہر، اوپر یا نیچے کی طرف مڑ جاتی ہے۔ یہ مسئلہ بچوں میں زیادہ دیکھنے میں آتا ہے، لیکن یہ بالغ افراد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ آنکھوں کے ٹیڑھے پن کی مختلف اقسام ہو سکتی ہیں، جیسے کہ ایک آنکھ کا اندر کی طرف مڑ جانا (ایسوٹروپیا)، باہر کی طرف مڑ جانا (ایکسوٹروپیا)، یا اوپر نیچے ہو جانا (ہائپرٹروپیا یا ہائپوٹروپیا)۔ یہ مسئلہ مستقل بھی ہو سکتا ہے یا کبھی کبھار ظاہر ہو سکتا ہے، خاص طور پر تھکاوٹ یا بیماری کے دوران۔
آنکھوں کے ٹیڑھے پن کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ سب سے عام وجہ آنکھوں کے پٹھوں کا عدم توازن ہے۔ ہماری آنکھیں چھ پٹھوں کے ذریعے کنٹرول ہوتی ہیں، جو آنکھ کو مختلف سمتوں میں گھمانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر ان پٹھوں میں کوئی کمزوری یا تناسب کی خرابی ہو تو آنکھیں ٹیڑھی ہو سکتی ہیں۔ کچھ بچے پیدائشی طور پر ہی اس مسئلے کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ کچھ میں یہ بعد میں ظاہر ہوتا ہے۔ کچھ معاملات میں، آنکھوں کی کمزور بینائی (امبلیوپیا یا “لیزی آئی”) بھی ٹیڑھے پن کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر دماغ کو ایک آنکھ سے واضح تصویر نہیں ملتی تو وہ دوسری آنکھ پر انحصار کرنے لگتا ہے، جس کی وجہ سے کمزور آنکھ کی طرف مڑنے لگتی ہے۔ دیگر وجوہات میں سر یا آنکھوں کی چوٹ، اعصابی نظام کے مسائل، یا موروثی عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔ کچھ کیسز میں، یہ کسی سنگین بیماری جیسے کینسر یا فالج کی علامت بھی ہو سکتا ہے، اس لیے ڈاکٹر سے معائنہ ضروری ہے۔

آنکھوں کا ٹیڑھا پن صرف ظاہری مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اس کے متعدد طبی اور نفسیاتی اثرات ہو سکتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ دوہری نظر (ڈپلوپیا) ہو سکتا ہے، کیونکہ جب آنکھیں ایک ہی چیز پر فوکس نہیں کرتیں تو دماغ کو دو مختلف تصویریں موصول ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے دھندلا یا ڈبل وژن ہو سکتا ہے۔ بچوں میں، اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو مستقل بینائی کی کمزوری ہو سکتی ہے، کیونکہ دماغ کمزور آنکھ سے موصول ہونے والے سگنلز کو نظرانداز کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، آنکھوں کا ٹیڑھا پن بچوں کے خود اعتمادی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ دوسروں کے طنز یا تنقید کا نشانہ بن سکتے ہیں، جس سے ان کے سماجی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔ بالغ افراد میں یہ مسئلہ روزمرہ کے کاموں جیسے گاڑی چلانے یا پڑھنے میں دشواری پیدا کر سکتا ہے۔
خوش قسمتی سے، آنکھوں کے ٹیڑھے پن کا علاج ممکن ہے، اور زیادہ تر معاملات میں مناسب طبی دیکھ بھال سے اسے درست کیا جا سکتا ہے۔ علاج کا طریقہ کار مریض کی عمر، مسئلے کی نوعیت اور شدت پر منحصر ہوتا ہے۔ چشمی معالج (آفتھلمولوجسٹ) سب سے پہلے آنکھوں کا مکمل معائنہ کرتے ہیں تاکہ مسئلے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ اگر بینائی کی کمزوری وجہ ہو تو عینک یا کانٹیکٹ لینز کا تجویز کیا جا سکتا ہے۔ کچھ بچوں میں، آرتھوپٹک تھیراپی (آنکھوں کی ورزشیں) بھی مفید ثابت ہو سکتی ہیں، جو آنکھوں کے پٹھوں کو مضبوط بنانے اور ہم آہنگی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ اگر مسئلہ شدید ہو تو سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جس میں آنکھ کے پٹھوں کو ایڈجسٹ کیا جاتا ہے تاکہ وہ درست سمت میں کام کر سکیں۔ سرجری عام طور پر محفوظ ہوتی ہے اور اکثر ایک ہی دن میں مریض کو گھر جانے دیا جاتا ہے۔
بچوں میں آنکھوں کے ٹیڑھے پن کا جلد از جلد علاج کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ بڑھتی عمر کے ساتھ اسے درست کرنا مشکل

julia rana solicitors london

ہو جاتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچپن میں ہی آنکھوں کے کسی بھی غیر معمولی علامت پر توجہ دیں، جیسے کہ بچے کا اکثر ایک آنکھ بند کرنا، سر جھکا کر دیکھنا، یا آنکھیں ملتے رہنا۔ اگر خاندان میں کسی کو پہلے سے یہ مسئلہ ہو تو بچے کا باقاعدہ چشمہ معائنہ کروانا چاہیے۔ بالغ افراد جو اچانک آنکھوں کے ٹیڑھے پن کا شکار ہو جائیں انہیں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ یہ کسی اور سنگین بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔
معاشرے میں آنکھوں کے ٹیڑھے پن کے بارے میں آگاہی بہت ضروری ہے تاکہ متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنایا جا سکے۔ اکثر لوگ اسے صرف “خوبصورتی کے مسئلے” کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ ایک طبی حالت ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر علاج بروقت شروع کر دیا جائے تو زیادہ تر مریض معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ آنکھوں کی صحت کا خیال رکھنا ہر عمر کے لیے ضروری ہے، اس لیے باقاعدہ چشمہ معائنے کو اپنی روٹین کا حصہ بنانا چاہیے۔
، یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آنکھوں کا ٹیڑھا پن کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس پر شرم محسوس کی جائے۔ جدید طبی سائنس کی بدولت اس کا مؤثر علاج موجود ہے، اور مناسب دیکھ بھال کے ساتھ متاثرہ افراد بھرپور زندگی گزار سکتے ہیں۔ اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو یہ مسئلہ درپیش ہو تو کسی ماہر چشم سے مشورہ کرنے میں دیر نہ کریں۔ صحت مند بینائی نہ صرف روزمرہ کی سرگرمیوں کے لیے ضروری ہے، بلکہ یہ زندگی کے معیار کو بھی بہتر بناتی ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply