لاک ڈاؤن اور نفسیاتی مسائل۔۔شاہد محمود ایڈووکیٹ

عام طور پر ایک بات کہی جاتی ہے کہ کسی کے رویے کی بابت اصل اندازہ اس کے غصے کی کیفیت میں ہوتا ہے۔ غصہ شخصیت پر موجود ہر قسم کی پرتیں اتار کر اسے اصل حالت میں سامنے لے آتا ہے۔ اس کیفیت کو بہادر شاہ ظفر مرحوم کا درج ذیل شعر خوب واضح کرتا ہے؛

ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا، وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جیسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی جیسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

موجودہ لاک ڈاون میں درپیش نفسیاتی مسائل سبب “عیش” طرز زندگی جس کے عادی تھے کہ بدلنے کے باعث پیدا ہونا والا “طیش” ہے۔

جن نفسیاتی عارضوں کا کورونا وائرس کی وباء کے کے باعث ہونے والے لاک ڈاون کی وجہ سے لوگوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ ان گنت ہے لیکن چیدہ چیدہ درج ذیل ہیں؛
1۔ خوف
صحت متاثر ہونے کا خوف
اپنی موت کا خوف
کسی پیارے کی موت کا خوف
روزگار / کاروبار / نوکری متاثر ہونے کا خوف

2۔ بے خوابی

3۔ چڑچڑا پن

4۔ خانگی مسائل

5۔ بچوں کے مزاج میں تبدیلی

ان بنیادی مسائل کے حل میں سر فہرست یہ ہے کہ سماجی فاصلہ ضرور رکھیں لکھنے سماجی رابطے بڑھائیں اور ایک دوسرے کی جبر گیری کریں۔ مشکل میں نہ خود حوصلہ ہاریں نہ دوسروں کی حوصلہ شکنی کریں۔ اگر کسی کو روزگار کا مسئلہ آ رہا ہے تو وہ اپنے گھر سے اپنی فیملی کی مدد سے کوئی بھی کام اپنے علاقے کے مطابق شروع کر سکتا ہے۔ اور اگر اللہ کریم نے کسی کو معاشی طور پر نوازا ہے تو وہ بیروزگاری کا شکار افراد کو اپنا مناسب روزگار شروع کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
اور خدانخواستہ کسی کو بیماری نے آ لیا ہے تو بجائے خوفزدہ ہونے کے اس کی ہمت بندھائیں اور ڈاکٹر کی مشاورت سے اس کا علاج جاری رکھیں۔ یاد رکھیں بچانے والی ذات عظیم تر ہے اور لوگوں کے شفاء یاب ہونے کا تناسب ما شاء اللہ بہت زیادہ اور حوصلہ افزا ہے۔

گھر میں اپنے آپ کو اپنی فیملی کے ساتھ کسی ناں کسی activity میں مصروف رکھیں جیسے “دیازی گروپ” بھی ایک فیملی ہے آر محترم خدیجہ بیٹیا رانی نے کتنی مثبت activity ہم سب گروپ ممبرز کو فراہم کر دی۔ اب مختلف موضوعات پر کچھ لوگ لکھ رہے اور کچھ پڑھ رہے۔ اسی طرح جب میں لکھتا ہوں تو اپنی فیملی کو بھی سناتا ہوں، انہیں اس عمل میں شامل کرتا ہوں، ان کی مشاورت سے تحریر بہتر بناتا ہوں، پھر آپ سب کے کمنٹس بھی مل کر ہم پڑھتے ہیں۔ مجھے رشتوں کے کام سے کچھ فرصت ہے تو فروخت کے لئے اچار چٹنیاں بنانے اور چاول، شہد، دیسی گھی وغیرہ کا انتظام کرنے بعد جو وقت ملتا ہے اس میں بیگم کے کچن اور گھر کے کاموں میں جہاں تک ممکن ہو سکے ہاتھ بٹاتا ہوں اور انہوں نے گھر بھر کا ہاتھ بٹانے کے لئے گھر پر شامی کباب بنانے شروع کر دیے جن کی فروخت سے الحمدللہ معقول آمدن ہو جاتی ہے اور ہم سب مصروف بھی رہتے ہیں اور چڑچڑا پن گھر سے باہر ہی رہتا ہے۔ بچہ پارٹی نے کباب بنانے میں اگر گوشت کے ریشے کرنے تو انہیں اس کے پیسے ملتے اور اگر دال کو ہاتھ والی قیمے کی مشین سے نکالنا تو اس کے پیسے بھی ملتے اور پیسے جمع کر کے اپنی پسند کی چیزیں خریدنے کے لئے بجٹ بنانا اور حساب کتاب بھی بچوں کو آ گیا۔ اس لئے الحمدللہ بچہ پارٹی کے مزاج میں مثبت تبدیلی ہی آئی ہے۔ تو قدرت اگر آپ کو دہی دے اور دہی آپ کو پسند نہ ہو تو اس کی لسی بنا کر پی جائیں یا اس کا رائتہ بنا کر کھا جائیں۔ اب رائتہ دہی سے بیسیوں اقسام کا بن سکتا۔ کہنے کا مقصد یہ کہ مشکل حالات میں گھبرانے کی بجائے اللہ کا نام لے کر مل جل کر حالات کا سامنا کریں۔ اور لوگوں میں آسانیاں و خوشیاں و سکون تقسیم کریں تو یہ سب ضرب ہو کر بومرنگ Boomerang کی طرح آپ کے پاس واپس آ جائے گا۔

(تصویر بومرنگ Boomerang کی ہے جو آسٹریلیا کے باشندوں کا ایک ہتھیار ہے جو پھینکنے والے کے پاس واپس آ جاتا ہے۔)

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *