مقتدرہ نے عمران خان کو اقتدار کے جھولے جھلائے ، اقتدار سے محروم کرایااور پھر انہوں نے ہی پابند سلاسل کرایا۔ سیاسی اور غیر سیاسی مقدموں کی بوچھاڑ کر دی۔ پی ٹی آئی کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن مقتدرہ کی پشت پناہی کا شاخسانہ ٹھہرا۔ مگر خان کے عسکری رومانس کا رنگ پھیکا پڑنے کا نام نہیں لے رہا۔چاہے یہ رومانس یکطرفہ کیوں نہ رہ گیا ہو۔ خان ڈٹا ہوا ہے کہ جس نے درد دیا وہی درد کی دوا دےگا۔ سیاسی قوتوں سے گفتگو کا پرہیز، بات چیت صرف ان سے کرنی ہے جو ایک بار پھر تخت اسلام آباد پر براجمان کرا سکتے ہیں۔ عمران خان باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ مقتدرہ کے حکومتی اور سیاسی معاملات میں عمل دخل کے مخالف نہیں ہیں۔ بار بار یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ وہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مقتدرہ کے ماورائے آئین تعلقات کو درست سمجھتے ہیں۔ عمران خان گردان کرتے نہیں تھکتے کہ انہوں نے مقتدرہ سے بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں کئے اور وہ ان سے غیر مشروط گفتگو کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اس لئے عمران خان کی باہیں صرف مقتدرہ سے گلے ملنے کو بےچین رہتی ہیں۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ مڑا ہوا عسکری چہرہ، خان کی طرف پلٹ کر دیکھنے کو تیار نہیں ہوتا۔ شائد پابند سلاسل عمران خان تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے اندرونی اور بیرونی زمینی حقائق کا ادراک نہیں کر سکتے۔ موجودہ صورت حال کی روشنی میں اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ نئے عام انتخابات تک مقتدرہ کی نظر کرم کسی دوسری جانب اٹھتی نظر نہیں آتی۔ حالات پر نظر رکھنے والےتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خان کی رہائی سے ہائی برڈ پلس سسٹم کےغیر مستحکم ہونے کا خدشہ ہوا تو خان کو طویل عرصہ قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے لئے تیار رہنا ہو گا۔ نئے انتخابات میں نظر کرم کس پر ٹھہرے گی اس وقت کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔
آج تحریک انصاف کی سیاست عمران خان کی رہائی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ عمران خان کی رہائی کے مطالبے کو بار بار دہرانے کے علاوہ پی ٹی آئی کو کچھ یاد نہیں رہا۔ ملکی و عوامی مسائل، جمہوری حقوق کی سلبی، میڈیا پر قدغنوں اور نظام انصاف میں تنزلی کے خلاف تحریک انصاف موثرکردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ ریاستی کریک ڈاون اور عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کو عوام کو متحرک کرنے میں مسلسل ناکامی کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا مہم جوئی ’’پارٹی کی انقلابی’’ سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ اوورسیز پی ٹی آئی سوشل میڈیا جنگجو کسی حد تک عمران خان کی مقبولیت برقرار رکھنے میں کامیاب ہیں۔ شاید اسی پراپیگنڈہ مشینری سے پارٹی کا ووٹ بنک بھی بچا ہوا ہے۔ مگر سوشل میڈیا مہم جوئی نے تحریک انصاف کی تنظیم کو تتر بتر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سوشل میڈیا مہم جوئی پارٹی ورکروں میں ذہنی و تنظیمی انتشار کی آبیاری کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کو عوامی صفوں سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مرکزی، صوبائی ، ضلعی اور نچلی سطح پر پارٹی تنظیموں کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ وفاقی پارلیمنٹ، پنجاب اور سندھ اسمبلیوں میں نمایاں نمائندگی کے باوجود پی ٹی آئی گذشتہ دو سال کے دوران پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں عوامی جلسہ یا عوامی احتجاج نہیں کر پائی۔ اب جیل سے عمران خان کی تحریک چلانے کی آئے روز کی دھمکیاں مذاق معلوم ہوتی ہیں۔ عمران خان کی تحریک چلانے کی دھمکیوں سے شائد حکمرانوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہوں مگر عوام یا پارٹی کارکنوں کے لئے یہ دھمکیاں دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کسی قسم کی جامع سیاسی حکمت عملی بنانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ ایک آدھ مہم جوئی کے علاوہ پارٹی نے عوامی اور پارلیمانی پلیٹ فارم پر ہائی برڈ نظام کوجمہوری مزاحمت کی پریشانی سے بچائے رکھا ہے۔ پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں یا پارلیمنٹ سے باہر حکومت مخالف جمہوری متحدہ محاذ قائم کرنے میں بھی منہ کی کھانی پڑی۔ امریکہ، برطانیہ ، یورپین یونین، عالمی اداروں اور میڈیا کے ذریعے مقتدرہ کو دباو میں لا کر عمران خان سے مفاہمت کے لئے مجبور کرنا سوشل میڈیا مہم جوئی کا محور رہا ہے۔ مگر اب تک یہ منفی یا مثبت کاوشیں بھی بے نتیجہ رہیں اور عمران خان کی رہائی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔
وزیر اعظم شہباز شریف مقتدرہ کو خوش رکھنے کا فن بخوبی جانتے ہیں اور پلس ہائی برڈ سسٹم میں اپنا کردار بڑی مہارت سے نبھا رہے ہیں۔شہباز شریف مقتدرہ کے خیالات سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے میں عمران خان سے بڑے فنکار ثابت ہوئے ہیں۔ شہباز شریف کی موجودگی میں عمران خان کی مقتدرہ کے ساتھ دال گلتی نظر نہیں آتی۔ انڈیا کے ساتھ چارروزہ جنگ میں پاکستان کی کامیابی نے سونے پہ سہاگے کا کام کیا ہے۔ اس سےشہباز شریف اور آرمی چیف کی ہائی برڈ سسٹم پر گرفت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ حکومت کے دعووں کے مطابق اگر ملکی معیشت نے ترقی کی جانب قدم بڑھائے، عوام کو مہنگائی اور بےروزگاری سے ریلیف ملنا شروع ہو گیا تو حکومتی اشرافیہ کے لئے حکمرانی میں آسانیاں پیدا ہونا شروع ہو جائیں گئیں۔

آئین وقانون کی عملداری اور جمہوری سول بالادستی پر یقین رکھنے والی سیاسی قوتیں اور جمہوری حلقے سمجھتے ہیں کہ سیاسی قوتوں کے درمیان ڈائیلاگ جمہوری عمل کو تسلسل سے آگے بڑھاتا ہے۔ حکومت، اپوزیشن اور دیگر سیاسی قوتوں کے درمیان مسلسل رابطے اور ڈائیلاگ مقتدرہ کو سیاسی اور حکومتی معاملات سے دور رکھنے کا ذریعہ ہے۔ سیاسی قوتوں کے درمیان ڈائیلاگ سے ہی گھمبیر سیاسی مسائل کا حل نکلتا ہے۔جمہوری اقدار پرورش پاتی ہیں، سول بالادستی، آئین و قانون کی حکمرانی کا راستہ ہموار رہتا ہے۔ پی ٹی آئی کے مقید چیئرمین عمران خان کو جب اس حقیقت کا ادراک ہو جائے گا ، تو پی ٹی آئی، انکی ذات اور جمہوری عمل کے دروازے کھلنے کے روشن امکانات پیدا ہونا شروع ہو جائیں گے۔ عمران خان کی مقتدرہ سے بات چیت کی گردان اور سیاسی قوتوں کے ساتھ ڈائیلاگ سے انکار کرنے سے، نہ صرف ہائی برڈ پلس سسٹم مستحکم ہو گابلکہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی مشکلات کا عرصہ دراز ہوتا جائے گا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں