ادبی تقاریب کے منتظمین کے لیے/ آغر ندیم سحر

ادب و صحافت سے تعلق کو ڈیڑھ دہائی گزر چکی،اس سفر میں بہت سے تلخ و شیریں تجربات سے گزرا،ایک طرف درجنوں دوست بنے تو دوسری طرف سینکڑوں منافقین سے بھی پالا پڑا،اچھی اور معیاری تقاریب میں بھی شرکت کی اورایسی تقاریب میں بھی گئے جہاں پہنچ کر احساس ہوا کہ کتنی بڑی غلطی کر دی۔یہ تمام واقعات و تجربات اپنی جگہ اہم مگر میرے لیے کتابوں اور شخصیات کی تقاریب ِ پذیرائی میں شرکت کا تجربہ ہمیشہ منفرد رہا،اگرچہ اس کی بہت سی وجوہات ہیں مگر میرے لیے تقاریب ِپذیرائی کے مقررین ہمیشہ حیرت کا باعث بنے۔حیرت کی ایک وجہ تو مقررین کی علمی استعداد اور دوسری یہ کہ ڈائس پر کھڑا شخص، صاحب ِ شام یا صاحبِ کتاب کے بارے میں کتنا جانتا ہے اور یہ بھی کہ جس کتاب کی تقریب ہے،اسے مکمل پڑھا بھی ہے یا صرف کتاب کے نام یا فہرست سے ہی اندازہ لگا لیا کہ مصنف نے اس میں کیا لکھا ہو گا۔ممکن ہے آپ میری اس بات پر یقین نہ کریں مگر کتابوں یا شخصیات کے لیے سجائی جانے والی تقاریب میں اٹھانوے فیصد مقررین بغیر پڑھے گفتگو کرتے ہیں،وہ کتاب پر بات کرنے کی بجائے مصنف سے اپنے ذاتی تعلق،مصنف کی سماجی و ادبی خدمات اور مصنف کی شہرت کے بارے لمبا چوڑا لیکچر دیتے ہیں اور باقی دو فیصد میں سے، ایک فیصدکتاب کی بجائے فہرست یا کتاب کے عنوان اور ٹائٹل پر اکتفا کرتے ہیں،ایک فیصد جو واقعی کتاب اور شخصیت کے بارے بات کرتے ہیں،انھیں سامعین نہیں سننا چاہتے،وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمیں بور کر رہا ہے،یعنی ہال میں بیٹھے سامعین بھی گپ شپ کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔
مجھے یاد ہے،تقریباً دو ماہ پہلے ایک کتاب کی تقریب میں شرکت کے لیے محض اس لیے گیا کہ مصنف سے محبت بھرا تعلق تھا،میںمقررین میں تو شامل نہیں تھا مگر دوست کا حکم تھا کہ حاضر ہونا ہے،دوستوں کی خوشی میںشرکت کرنے سے روحانی سرشاری ملتی ہے،اسی سرشاری نے تقریب ہال پہنچا دیا۔تقریب میں دو عدد’’سینئر صحافی‘‘ بھی مدعو تھے ،وہ صحافی جنھیں سرکار نے حال ہی میں نوکری پر رکھا ہے،ان کا کام صرف اتنا ہے کہ انھیں اس ’’ان پڑھ‘‘عوام میں یہ ’’شعور‘‘ پیدا کرنا ہے کہ حکومت کے ہر فیصلے کو من و عن تسلیم کرنا ہی عبادت اور حب الوطنی ہے یعنی عوام الناس میں’’سرکاری شعور‘‘بیدار کرنا ان کے ذمہ ہے۔یہ تقریب بیرون ملک مقیم ایک قلم کار کی کتاب کی تھی،پہلے ایک صحافی مائیک پر آئے اور کتاب کی بجائے سانحہ نو مئی کی مذمت کرنے لگے،تحریک انصاف کی غلطیاں گنوانے لگے،حالیہ سیاسی و عسکری ہم آہنگی پر فاتحانہ گفتگو کی اور مسکراتے ہوئے ہال سے باہر نکل گئے،ظلم کی انتہا کہ اپنی سنائی اور نکل گئے۔ان کی گفتگو کے دوران حاضرین میں بیٹھے کچھ’’ان پڑھ‘‘لوگوں نے لقمہ بھی دیا کہ جناب کتاب پر بھی تو کچھ فرمائیں مگر حرام ہے جناب نے کتاب کا نام بھی پڑھ کر آئے ہوں۔اس کے بعد دوسرے’’ سرکاری دانش ور‘‘مائیک پر آئے،پہلے نے جو کچھ کہا،اس پر ایضا ًبولا اور رخصت ہو گئے۔مجھے درجنوں ایسی تقاریب یاد ہیں جن میں مقررین یا تو صحافی تھے یا پھر ٹی وی و تھیٹر سے وابستہ اداکار،یہ لوگ جب جب بلائے گئے،انھوں نے اپنی زندگی کے یادگار واقعات سنائے،مصنف سے یک سطری تعریف کی اور نکل گئے۔
اداکاروں یا صحافیوں سے کیسا گلا،جب ہماری ادبی برادری بھی یہی کر رہی ہو،اپنے دوستوں کی کتاب بھی پڑھ کر نہیں آتے اور منتظمین سے تقاضا کرتے ہیں کہ انھیں صدر تو نہیں کم سے کم مہمان خاص تو بنایا جائے،اگر یہ بھی ممکن نہیں تو اسٹیج پر نام لے کر اچھا سا ویلکم تو ہونا چاہیے۔میں یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ جو آدمی کتاب یا شخصیت پر مضمون لکھ کر نہیں لاتا،صرف زبانی گفتگو کرنا چاہتا ہے،وہ کبھی کتاب اور صاحب کتاب پر مدلل اور واضح گفتگو نہیں کر سکتا،ممکن ہے میں غلط ہوں مگر پچھلی ایک ڈیڑھ دہائی میں، میں نے یہی دیکھا ہے۔میں یہ باتیں بہت عرصے سے کرنا چاہ رہا تھا مگر نہ جانے کیوں کبھی لکھ نہیں پایا،آج بھی یہ سب اس لیے لکھنا پڑا کہ ہال ہی میں ایک ایسی تقریب رونمائی میں شریک ہوا،کتاب بھی شاندار تھی اور منتظمین بھی مگر تقریب کے مقررین میں سے دو تین کے علاوہ،سب نے انتہائی مایوس کیا،مجھے رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا اور منتظمین سے شکوہ بھی کیا مگر خیر اس میں منتظمین کا کیا قصور۔ذمہ دار تو ہمارے ادبی برادری ہے جنھوں نے ایسے مقررین کوسر چڑھا رکھا ہے جو مائیک پرکتاب اور صاحب کتاب پر بات کرنے کی بجائے اپنی تعریفوں میں زمین و آسمان کی قلابیں ملاتے رہتے ہیں،خود پسندی اچھی چیز ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ آپ دوسروں پر بات ہی نہ کریں۔اچھا ادیب اور قلم کار،اپنے عہد سے بےگانہ نہیں ہوتا،اسے علم ہوتا ہے کہ کس صنف میں کون کس درجے کا لکھ رہا ہے،وہ درجہ بندی بھی کرتا ہے تو دیانت داری اور غیر جانبداری سے۔
’’خیالی یا سرکاری دانش وروں‘‘ سے چھٹکارا ممکن ہے،یہ کوئی اتنا گھمبیر مسئلہ بھی نہیں کہ جو امریکہ یا ورلڈ بینک کی ثالثی کے بغیر حل نہ ہو سکے۔ہمارے ادبی تقاریب کے منتظمین یہ تہیہ کر لیں کہ کتابوں کی تقاریب ہوں یا پھر شخصیات کے اعزاز میں سجائی جانے والی شامیں،صرف وہی مقررین شریک ہوں گے جو مضمون یا مقالہ لکھ کر لائیں گے،اظہار خیال کرنے والے سینئرز پرفیسروں اور محققین سے بھی پہلے پوچھا جائے گا کہ جناب والا!آپ کتاب پڑھ کر آئیں گے یا محض یادداشت پر بھروسہ کریں گے اور اگر کوئی ادیب یا مقرر،کتاب پڑھنے کی بجائے محض ذاتی تعلقات پر بات کرنا چاہتا ہے تو اسے کتاب سے سراسر دور رکھا جائے،ٹھیک ہے صاحب ِ کتاب اپنی تعریفوں کا بھی خواہش مند ہوتا ہے مگر یہ مرض جب لاعلاج ہو جائے تو فنکار یاقلم کارکا فن ،اس کے اپنے بوجھ تلے ہی دب جاتا ہے۔خود پسندی اچھی چیز ہے مگر ایک حد تک،ایک سچا اور کھرا ادیب اس سے بے گانہ ہوتا ہے کہ کون اس کی تعریف کرتا ہے اور کون تنقید،وہ تنقید سے سیکھتا ہے مگر اسے اپنا مسئلہ نہیں بناتا،نہ ہی اپنی تعریفوں میں لکھے گئے مضامین کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہے،اس کا سب سے بڑا مسئلہ اس کا فن ہوتا ہے،وہ اس پر بالکل بھی کمپرومائز نہیں کرتا۔ہماری ادبی برادری اگر اپنی تقریبوں کو جاندار بنانا چاہتی ہے تو اسے ان تمام باتوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا،یہی ایک صورت ہے سرکاری اور خیالی دانشوروں سے نجات کی۔

Facebook Comments

آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply