• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مئی کا مہینہ اسلامی تاریخ کے بہت سے واقعات کا گواہ ہے/ڈاکٹر محمد عمران ملک

مئی کا مہینہ اسلامی تاریخ کے بہت سے واقعات کا گواہ ہے/ڈاکٹر محمد عمران ملک

عروج و زوال میں مئی بہت سے واقعات کا چشم دید گواہ ہے۔
ذیل میں اس مہینے کے واقعات کو میں نے اکٹھا کر دیا ہے۔

فتح اندلس (28 مئی 711ء):
طارق بن زیاد کی قیادت میں مسلمانوں نے اندلس (ہسپانیہ) کو فتح کیا۔ یہ واقعہ 28 مئی 711ء کو طارق بن زیاد کے جبل الطارق پر قدم رکھنے سے شروع ہوا، جو اسلامی تاریخ میں ایک اہم فتح تھی۔ اس فتح نے یورپ میں اسلامی تہذیب کے پھیلاؤ کی بنیاد رکھی۔
قرطبہ مسجد کی تعمیر(1 مئی 787ء):
اندلس میں قرطبہ کی عظیم مسجد (Mosque of Córdoba) کی تعمیر کا آغاز عبد الرحمٰن اول نے کیا، اور اس کی ابتدائی تکمیل 1 مئی 787ء کو ہوئی۔ یہ مسجد اسلامی فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے اور اندلس کی اسلامی تاریخ کی علامت ہے
سلطان صلاح الدین ایوبی کی ولادت (27 مئی 1138ء):
عظیم مسلم سپہ سالار اور فاتح سلطان صلاح الدین ایوبی کی پیدائش 27 مئی 1138ء کو تکریت (عراق) میں ہوئی۔ انہوں نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرایا اور اسلامی تاریخ میں ایک عظیم کردار ادا کیا۔
قسطنطنیہ کی فتح (29 مئی 1453ء):
سلطان محمد فاتح نے 29 مئی 1453ء کو قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کو فتح کیا۔ یہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم الشان واقعہ ہے جس نے عثمانی سلطنت کی بنیاد کو مضبوط کیا اور مشرقی رومن سلطنت کا خاتمہ کیا۔

ٹیپو سلطان کی شہادت:
عظیم سپہ سالار ٹیپو سلطان کو 10 مئی 1799کو شہید کیا گیا۔
ٹیپو سلطان، جنہیں “شیر میسور” بھی کہا جاتا ہے، 4 مئی 1799ء کو سری رنگاپٹنم کے محاصرے کے دوران شہید ہوئے۔ وہ میسور کے حکمران تھے اور برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف چوتھی اینگلو-میسور جنگ لڑ رہے تھے۔
تاریخی روایات کے مطابق، ٹیپو سلطان سری رنگاپٹنم کے قلعے کی حفاظت کر رہے تھے جب برطانوی فوج نے قلعے پر حملہ کیا۔ 4 مئی 1799ء کو برطانوی افواج نے قلعے کی دیواروں میں شگاف ڈال کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ ٹیپو سلطان نے خود لڑائی میں حصہ لیا اور اپنے سپاہیوں کے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کیا۔
وہ قلعے کے واٹر گیٹ (پانی کے دروازے) کے قریب لڑتے ہوئے شدید زخمی ہوئے۔ کچھ روایات کے مطابق، انہیں گولی لگی، جبکہ دیگر کے مطابق وہ تلوار کے وار سے زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے لڑائی جاری رکھی، لیکن بالآخر وہ شہید ہو گئے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ انہیں ایک برطانوی فوجی نے قریب سے گولی مار کر شہید کیا جب وہ زخمی حالت میں تھے۔
ان کی شہادت کے بعد برطانوی فوج نے سری رنگاپٹنم پر قبضہ کر لیا، اور میسور کی سلطنت کا خاتمہ ہوا۔ ٹیپو سلطان کی شہادت کو برصغیر میں برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
تحریک مجاہدین کے رہنماؤں کی شہادت
تحریک مجاہدین کے رہنماؤں سید احمد بریلوی اور شاہ اسمٰعیل کو6 مئی 1831 کو شہید کیا گیا
تحریکِ مجاہدین، جس کی بنیاد شاہ ولی اللہ دہلوی کے نظریات پر تھی اور اسے عملی جامہ پہنانے میں سید احمد شہید (1786ء-1831ء) اور شاہ اسماعیل شہید (1779ء-1831ء) نے کلیدی کردار ادا کیا، برصغیر میں اسلامی احیا اور سکھوں کے خلاف جہاد کی ایک اہم تحریک تھی۔ 1831ء میں بالاکوٹ کی جنگ میں دونوں رہنماؤں کی شہادت کے بعد تحریکِ مجاہدین ختم نہیں ہوئی، بلکہ اس کے اثرات نے برصغیر کے سیاسی، سماجی، مذہبی اور فکری منظرنامے پر گہرے نقوش چھوڑے۔
بالاکوٹ کے بعد تحریکِ مجاہدین براہِ راست سکھوں کے خلاف کمزور پڑ گئی، لیکن اس کی جہادی روح زندہ رہی۔ تحریک کے باقی ماندہ مجاہدین نے صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) اور دیگر علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ 1857ء کی جنگِ آزادی تک یہ تحریک غیر منظم طور پر مسلح جدوجہد کی صورت میں جاری رہی، جیسے کہ بنگال میں تیطو میر کی تحریک، پٹنہ میں صادق پور کا مرکز جہاد، اور تحریکِ ریشمی رومال۔

تحریکِ مجاہدین نے انگریزوں کے خلاف منظم مزاحمت کی بنیاد رکھی۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی کے فتوے کے مطابق ہندوستان کو دارالحرب قرار دینے سے تحریک کو نظریاتی تقویت ملی، جس نے بعد میں 1857ء کی جنگِ آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
تحریک نے پشاور اور دیگر سرحدی علاقوں میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی کوشش کی، جس سے مقامی قبائل میں سیاسی شعور بیدار ہوا، ثقافتی اور قبائلی اختلافات کی وجہ سے یہ مکمل کامیاب نہ ہو سکی

تحریک آزادی ہند
انگریز سے آزادی کی تحریک جنگ آزادی 10مئی 1857کو شروع ہوئی
جنگِ آزادی کے نتیجے میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کا اقتدار ختم ہوا، اور برصغیر کی حکمرانی براہ راست برطانوی تاج (British Crown) کے تحت آگئی۔ 1858ء میں “گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ” کے تحت برطانوی راج قائم کیا گیا، اور ہندوستان کو برطانوی کالونی بنا دیا گیا۔

جنگ کے بعد مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو معزول کر کے رنگون (برما) جلاوطن کر دیا گیا، اور مغل سلطنت کا باضابطہ خاتمہ ہوا۔ مقامی راجاؤں اور نوابوں کی طاقت بھی کمزور ہوئی۔
پاکستان نے ایٹمی دھماکے 28مئی 1998کو کیے
پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو بلوچستان کے چاغی کے پہاڑوں میں پانچ ایٹمی دھماکے کیے، جس دن کو”یومِ تکبیر” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان دھماکوں کے اثرات سیاسی، عسکری، معاشی، سماجی سطح پر نمایاں تھے۔
پاکستان کے ایٹمی دھماکوں نے بھارت کے 1974ء اور 1998ء کے ایٹمی تجربات کا جواب دیا، جس سے خطے میں طاقت کا توازن بحال ہوا۔ پاکستان دنیا کی ساتویں اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا، جس سے اس کی عالمی حیثیت میں اضافہ ہوا۔

ایٹمی دھماکوں نے پاکستانی قوم میں فخر اور خود اعتمادی کا احساس پیدا کیا۔ یہ دھماکے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ضامن کے طور پر دیکھے گئے۔

دھماکوں کے بعد امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک نے پاکستان پر معاشی اور فوجی پابندیاں عائد کیں، جن میں Pressler Amendment کے تحت امداد کی بندش شامل تھی۔ تاہم، پاکستان نے اس دباؤ کے باوجود اپنی ایٹمی صلاحیت کو برقرار رکھا۔

julia rana solicitors london

10 مئی 2025 انڈیا کو پاکستان کا منہ توڑ جواب:
2025میں پہلگام حملے کو بنیاد بنا کر انڈیا نے پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کی کیفیت بنا دی۔ انڈیا نے پاکستان کو دھمکانا شروع کر دیا۔ پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی۔ جس پر افواج پاکستان کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر نے کہا کہ اگر تم ہمارا پانی بند کرو گے تو ہم تمہارا سانس بند کر دیں گے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اگر دنیا کے نقشے پر پاکستان نہیں تو ایسی دنیا سے ہمیں کیا لینا۔
انڈیا نے پہل کرتے ہوۓ رات کی تاریکی میں بہاول پور اور مریدکے میں ائیر اٹیک کیا۔ اور اس حملے کو آپریشن سندور کا نام دیا
جس کے بعد پاکستان نے دس مئی کی صبح کو جوابی کارروائی کرتے ہوۓ آپریشن بنیان مرصوص کے نام پر انڈیا کا بے حد نقصان کیا۔ جس پر انڈیا نے امریکہ کے ذریعے جنگ بندی کی درخواست کی۔ یہ تاریخی دن بھی ہماری فتح و نصرت کا پیغام لیے ہوۓ ہے۔

Facebook Comments

ڈاکٹر محمد عمران ملک
ڈاکٹر محمد عمران ملک وزیٹنگ فیکلٹی ممبر پنجاب یونیورسٹی لاہور ٹی وی اینکر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply