دائیں بازو کی جماعتوں سے میڈیا کا سوتیلی ماں جیسا سلوک

موجودہ وقت میں یہ میڈیا کے ہی ذمے ہے کہ جسے چاہے ہیرو بنا دے اور جسے چاہے زیرو بنا دے ، میڈیا کو خریدو اور گیم آپ کے ہاتھ میں پھر جو دل آئے کرو ۔پاکستان میں اب سیاسی جماعتوں کی مہم میڈیا پر ہی چلائی جاتی ہے ، جو سیاسی جماعت میڈیا پر چھا گئی وہی اقتدار میں آ گئی ، پیسہ پھینک تماشہ دیکھ قسمت کا ہے یہ کھیل ۔پاکستان میں بہت ساری دینی سیاسی جماعتیں ہیں جو اسلامی نظام کو نافذ کرنے کے لیے الیکشن میں اتر تی ہیں اور اسی سلوگن کو اپنی مہم کا حصہ بناتی ہیں ۔
پاکستان میں جماعت اسلامی ، جمیعت علماء اسلام(ف) جمیعت علماء پاکستان(شاہ نورانی ) جمیعت علماء اسلام(س) جمیعت اہل حدیث ، سنی تحریک ، سنی اتحاد کونسل ،تحریک منہاج القرآن (PAT), اور ممتاز قادری کی شہادت کے بعد ایک نئی جماعت بھی بنی تحریک لبیک یا رسول اللّه ﷺ ، اس کے علاوہ بھی کچھ بھی دینی جماعتیں موجود ہیں جو الیکشن سے باہر رہ کے معاشرے کی اصلاح اور فلاح کے کام کر رہی ہیں ۔

ان جماعتوں میں کچھ جماعتیں پاکستان بننے سے پہلے کی ہیں اور کچھ بعد کی اور ان سیاسی دینی جماعتوں کی خدمات کی بھی پوری ایک تاریخ ہے ۔دینی سیاسی جماعتوں کے لاکھوں کے جلسوں کو میڈیا چند منٹوں کی کوریج دیتا ہے جب کے غیر دینی سیاسی جماعتوں کے ہزاروں کے جلسوں کو بھی کئی کئی گھنٹوں کی کوریج۔ بعض اوقات تو جلسے سے ایک یا دو دن پہلے ہی جلسہ گاہ بھی دکھانا شروع کر دیا جاتا ہے ۔دینی سیاسی جماعتیں یہ الزام لگاتی ہیں کہ پاکستانی میڈیا کو مغربی حکومتیں اور انٹرنیشنل این جی اوز کنٹرول کرتی ہیں وہی پاکستانی میڈیا پر جس سیاسی جماعت کے ساتھ ا ن کی سیٹنگ ہو جائے تو اس کی کمپین چلواتی ہیں اور اقتدار میں لا کر اپنی مرضی کے کام کرواتی ہیں ، مذہبی سیاسی جماعتوں کے مزید یہ الزامات ہیں کہ مغربی طاقتیں پاکستانی میڈیا کو یہ تائید کرتی ہیں کہ مذہبی سیاسی جماعتوں کا مؤقف کم سے کم دکھایا جائے میڈیا پر کسی اور کو کسی صورت بھی عوامی پذیرائی نہ ملنے پائے ۔

اگر مذہبی سیاسی جماعتوں کی خدمات کی بات کی جائے تو اس کی بڑی طویل فہرست ہے ، سیلاب زدگان کی مدد ہو یا زلزلہ زدگان ، یتیم بچوں کی کفالت ہو یا یتیم بچیوں کی شادیاں ، غریب بچوں کے لیے مفت اسکول سسٹم ہو یا مفت دینی تعلیم کے مدارس کا نظام ، غریب لوگوں کے لئے مفت ہسپتال ہو یا فری ایمبولینس سروس ، امن کے حالات میں بغیر حکومت کے ہر ترہا کی بے لوث خدمات اور جب بھی جنگ کے حالات بنے تو مذہبی سیاسی جماعتوں کے کارکنان فوج کے شانہ بشانہ نظر آئے ۔ایسا سلوک کہ انہیں میں تفریق کی جائےکیا یہ واقعی میڈیا کی طرف سے کھلا تضاد نہیں ؟

Avatar
امیر حمزہ
ایڈووکیٹ،لاہور ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *